پنجاب میں ریلوے کا نیا سفر
پنجاب حکومت اور پاکستان ریلویز کے درمیان حالیہ اشتراک ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک کو سستی اور مؤثر نقل و حمل کی اشد ضرورت ہے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد نئے ٹرین سروسز کا آغاز اور مال برداری کے نظام کو بہتر بنانا ہے تاکہ عوام کو کم خرچ سفر اور کاروباری طبقے کو سستی ترسیل کی سہولت فراہم کی جا سکے۔ بظاہر یہ ایک انتظامی فیصلہ ہے، مگر حقیقت میں یہ معیشت، روزگار اور علاقائی ترقی سے جڑا ایک اہم قدم ہے۔
دنیا کے تقریباً تمام ترقی یافتہ ممالک نے ریلوے کو اپنی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی بنایا ہوا ہے۔ یورپ میں تیز رفتار ٹرینیں شہروں کو اس طرح جوڑتی ہیں کہ سڑکوں پر دباؤ کم سے کم رہتا ہے۔ چین نے گزشتہ تیس برسوں میں جس رفتار سے ریلوے کا جال بچھایا ہے وہ حیران کن ہے، جہاں ہزاروں کلومیٹر طویل تیز رفتار لائنیں نہ صرف مسافروں بلکہ صنعتوں کے لیے بھی زندگی کی علامت بن چکی ہیں۔ جاپان کی شِنکانسن اور بھارت کا وسیع ریلوے نظام اس بات کی مثال ہیں کہ کس طرح ریلوے سستی، محفوظ اور قابل اعتماد نقل و حمل فراہم کر کے قومی ترقی میں کردار ادا کرتی ہے۔
بدقسمتی سے پاکستان میں ماضی میں بعض مفاداتی عناصر اور سیاسی غفلت کے باعث ریلوے کا نظام بری طرح متاثر ہوا۔ ایک وقت ایسا بھی آیا جب ٹرینیں بند ہو گئیں، نظام مفلوج ہو گیا اور عوام کو مہنگی سڑکوں پر انحصار کرنا پڑا۔ اس زوال کا نتیجہ یہ نکلا کہ نہ صرف مسافروں بلکہ صنعتوں کو بھی بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔
پنجاب ایک وسیع اور گنجان آباد صوبہ ہے جہاں روزانہ لاکھوں افراد اور بڑی مقدار میں سامان ایک شہر سے دوسرے شہر منتقل ہوتا ہے۔ موجودہ دور میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ اور سڑکوں پر بڑھتا ہوا دباؤ نقل و حمل کو مہنگا بنا رہا ہے۔ ماضی میں پنجاب حکومت نے سڑکوں اور موٹر ویز پر خاص توجہ دی، جو اپنی جگہ اہم تھی، مگر اب حالات کا تقاضا ہے کہ ریلوے کو بھی اسی سنجیدگی سے فروغ دیا جائے۔ خاص طور پر ایسے وقت میں جب ملک میں بجلی کی پیداوار پوری طرح استعمال نہیں ہو رہی، برقی ٹرینیں ایک سستا اور ماحول دوست حل بن سکتی ہیں۔
اس اقدام کے معاشی فوائد بہت وسیع ہیں۔ جب مال برداری سستی ہو جائے گی تو کاروباری لاگت کم ہو گی، صنعتوں کو فروغ ملے گا اور نئی منڈیاں وجود میں آئیں گی۔ چھوٹے تاجر اور کسان بھی اپنی پیداوار دور دراز علاقوں تک آسانی سے پہنچا سکیں گے۔ شہروں کے درمیان تیز اور سستی آمدورفت سے روزگار کے مواقع بڑھیں گے اور علاقائی عدم توازن میں کمی آئے گی۔
بھارت کی مثال ہمارے سامنے ہے جہاں ریلوے نہ صرف لاکھوں افراد کو روزگار فراہم کرتی ہے بلکہ ملک کے صنعتی ڈھانچے کو بھی مضبوط بناتی ہے۔ چین نے ریلوے کو اپنی برآمدی معیشت کے ساتھ جوڑ کر عالمی منڈیوں تک رسائی آسان بنائی۔ یورپ میں ریلوے کو اس حد تک مربوط کیا گیا ہے کہ سرحدیں بھی رکاوٹ نہیں بنتیں۔ یہ تمام مثالیں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ اگر منصوبہ بندی درست ہو اور تسلسل برقرار رکھا جائے تو ریلوے کسی بھی ملک کی تقدیر بدل سکتی ہے۔
تاہم اس منصوبے کی کامیابی کا انحصار صرف اس کے آغاز پر نہیں بلکہ اس کے تسلسل اور تحفظ پر بھی ہے۔ پنجاب حکومت کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ حکومت کی تبدیلی کے ساتھ یہ منصوبہ کسی بھی قسم کی سیاسی مداخلت یا مفادات کی نذر نہ ہو جائے۔ ماضی کے تجربات یہ بتاتے ہیں کہ پالیسیوں کا عدم تسلسل بڑے منصوبوں کو نقصان پہنچاتا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ اس ریلوے نظام کو ایک مضبوط ادارہ جاتی ڈھانچے کے تحت چلایا جائے اور اس میں شفافیت اور پیشہ ورانہ نظم و نسق کو یقینی بنایا جائے۔ اگر ممکن ہو تو پنجاب حکومت اس شعبے میں زیادہ خودمختاری حاصل کرے یا ایک علیحدہ انتظامی ماڈل تشکیل دے، تاکہ فیصلے تیز ہوں، کارکردگی بہتر ہو اور یہ منصوبہ طویل عرصے تک عوام اور معیشت کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکے۔
پنجاب میں اس نئے اشتراک کی اصل اہمیت اسی پہلو میں ہے کہ یہ محض ٹرینیں چلانے کا منصوبہ نہیں بلکہ معیشت کو متحرک کرنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ اگر اس منصوبے کو دیانتداری، شفافیت اور طویل المدتی حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھایا جائے تو یہ نہ صرف نقل و حمل کے اخراجات کم کرے گا بلکہ صنعتی ترقی، زرعی منڈیوں کی توسیع اور علاقائی روابط کو بھی نئی زندگی دے گا۔ یہی وہ سمت ہے جس میں آگے بڑھ کر پنجاب نہ صرف اپنے مسائل کم کر سکتا ہے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک مثال قائم کر سکتا ہے۔

