توانائی کے بحران کے بعد دنیا کی بدلتی ہوئی سمت
دنیا اس وقت جس توانائی بحران کا سامنا کر رہی ہے وہ معمول کا اتار چڑھاؤ نہیں بلکہ ایک ایسا غیر معمولی جھٹکا ہے جس نے عالمی معیشت، صنعت اور روزمرہ زندگی کو متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔ تیل اور گیس کی سپلائی میں رکاوٹیں، قیمتوں میں بے قابو اضافہ اور بعض ممالک میں ایندھن کی راشن بندی ایسے اشارے ہیں جو بتاتے ہیں کہ یہ بحران صرف وقتی مسئلہ نہیں بلکہ اس کے دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ تاریخ بتاتی ہے کہ بڑے معاشی جھٹکے اکثر نئی پالیسیوں اور نئی ٹیکنالوجیوں کو جنم دیتے ہیں، اور توانائی کے موجودہ بحران کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔
گزشتہ دو دہائیوں سے دنیا کے مختلف ممالک صاف اور متبادل توانائی کے ذرائع کی طرف بڑھنے کی کوشش کر رہے تھے، مگر اس رفتار میں کافی فرق تھا۔ یورپ کے کچھ ممالک، خاص طور پر شمالی یورپ، اس میدان میں کافی آگے نکل چکے تھے جبکہ ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ کے کئی ممالک ابھی تک بڑی حد تک تیل اور گیس پر انحصار کر رہے تھے۔ موجودہ بحران نے اس فرق کو کم کرنے کی سمت میں ایک نیا دباؤ پیدا کر دیا ہے۔ اب توانائی کی تبدیلی صرف ماحولیاتی مسئلہ نہیں رہی بلکہ معاشی بقا کا مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔
بیشتر درآمدی معیشتیں، جو اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے بیرونی دنیا پر انحصار کرتی ہیں، اب سنجیدگی سے متبادل راستوں پر غور کر رہی ہیں۔ سورج کی روشنی سے توانائی پیدا کرنے والی ٹیکنالوجی یعنی سولر پاور اس دوڑ میں سب سے آگے نظر آتی ہے۔ وہ ممالک جہاں سال بھر دھوپ وافر مقدار میں دستیاب ہے، وہاں حکومتیں اور نجی شعبہ دونوں تیزی سے شمسی توانائی کے منصوبوں میں سرمایہ کاری بڑھا سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے ماہرین کا خیال ہے کہ آنے والے برسوں میں دنیا کے توانائی کے نقشے پر سولر پاور کا کردار کہیں زیادہ نمایاں ہو جائے گا۔
اس کے ساتھ ساتھ ہائیڈرو پاور اور جوہری توانائی بھی کئی ممالک کی حکمت عملی کا حصہ بنتی جا رہی ہیں۔ یہ دونوں ذرائع ایسے ہیں جو بڑے پیمانے پر مستقل بجلی فراہم کر سکتے ہیں اور تیل و گیس کی درآمدات پر انحصار کم کر سکتے ہیں۔ کئی ترقی یافتہ ممالک پہلے ہی نئے جوہری ری ایکٹرز کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں جبکہ ترقی پذیر ممالک بھی بڑے ڈیموں اور پن بجلی کے منصوبوں پر توجہ بڑھا رہے ہیں۔
ٹرانسپورٹ کے شعبے میں بھی ایک بڑی تبدیلی کا امکان پیدا ہو رہا ہے۔ الیکٹرک گاڑیوں کو اب تک زیادہ تر ماحولیاتی پالیسی کے تناظر میں دیکھا جاتا تھا، مگر توانائی کے موجودہ حالات نے انہیں معاشی ضرورت بنا دیا ہے۔ جب تیل کی قیمتیں مسلسل بڑھتی ہیں اور بعض ممالک میں پٹرول کی فراہمی محدود ہونے لگتی ہے تو صارفین اور حکومتیں دونوں متبادل ذرائع کی طرف دیکھنے لگتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ برقی گاڑیوں کی مانگ میں آنے والے برسوں میں غیر معمولی اضافہ ہو سکتا ہے۔
پاکستان جیسے ممالک کے لیے یہ مسئلہ اور بھی سنگین ہے کیونکہ یہاں توانائی کی درآمدات پہلے ہی معیشت پر بہت بڑا بوجھ ڈالتی ہیں۔ اندازوں کے مطابق پاکستان کے مجموعی درآمدی بل کا ایک بڑا حصہ توانائی پر خرچ ہوتا ہے۔ اگر عالمی سطح پر تیل اور گیس کی قیمتیں مزید بڑھتی ہیں یا سپلائی میں رکاوٹیں پیدا ہوتی ہیں تو ایسے ممالک کے لیے معاشی استحکام برقرار رکھنا مزید مشکل ہو سکتا ہے۔ یہی صورتحال سری لنکا جیسے ممالک میں پہلے ہی دیکھنے میں آ چکی ہے جہاں توانائی کی قلت نے پورے معاشی نظام کو ہلا کر رکھ دیا۔
گیس، خصوصاً ایل این جی کی کمی ایک ایسا مسئلہ ہے جس کا فوری حل نظر نہیں آتا۔ گیس نہ صرف صنعت بلکہ گھریلو استعمال، بجلی کی پیداوار اور کھاد کی صنعت کے لیے بھی بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ اگر اس کی فراہمی میں کمی آتی ہے تو اس کے اثرات پورے معاشی ڈھانچے پر پڑتے ہیں۔ گھریلو صارفین کسی حد تک الیکٹرک چولہوں یا دیگر متبادل ذرائع کی طرف جا سکتے ہیں، مگر صنعتی شعبے کے لیے فوری متبادل تلاش کرنا آسان نہیں ہوتا۔ اسی طرح کھاد کی پیداوار میں گیس کا کردار بہت اہم ہے اور اس کا کوئی فوری متبادل دستیاب نہیں۔
اسی لیے توانائی کے اس دباؤ کا ایک بڑا حصہ بالآخر بجلی کے نظام پر منتقل ہو سکتا ہے۔ اگر گھریلو اور کچھ تجارتی سرگرمیاں گیس کے بجائے بجلی پر منتقل ہوتی ہیں تو بجلی کی طلب میں بھی نمایاں اضافہ ہوگا۔ اس صورتحال میں شمسی توانائی، ہوا سے بجلی پیدا کرنے والے منصوبے اور دیگر قابل تجدید ذرائع مزید اہمیت اختیار کر سکتے ہیں۔
اصل سوال یہ نہیں کہ یہ بحران کب ختم ہوگا بلکہ یہ ہے کہ اس کے بعد دنیا کی توانائی کی ترجیحات کیا ہوں گی۔ ماضی میں بھی بڑے بحرانوں نے عالمی پالیسیوں کا رخ بدل دیا تھا۔ اسی طرح موجودہ بحران بھی بہت ممکن ہے کہ دنیا کو ایک نئے توانائی دور کی طرف لے جائے جہاں مقامی اور قابل تجدید ذرائع کو زیادہ اہمیت دی جائے گی۔
جب یہ بحران کسی نہ کسی شکل میں ختم ہوگا تو دنیا شاید پہلے جیسی نہ رہے۔ بہت سے ممالک جو آج تک سستی درآمدی توانائی پر انحصار کرتے رہے ہیں، وہ مستقبل میں اپنی توانائی کی سلامتی کو زیادہ سنجیدگی سے لیں گے۔ وہ ایسے ذرائع کی تلاش کریں گے جو نہ صرف ماحول دوست ہوں بلکہ جغرافیائی اور سیاسی خطرات سے بھی محفوظ ہوں۔ اس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ آنے والے برسوں میں دنیا کی توانائی کی پالیسیوں کا مرکز تیل کے کنوؤں سے ہٹ کر سورج، ہوا، پانی اور بجلی کی نئی ٹیکنالوجیوں کی طرف منتقل ہو جائے۔ یہی وہ تبدیلی ہے جو اس بحران کا سب سے بڑا اور دیرپا اثر ثابت ہو سکتی ہے۔

