چینی کمپنی ڈیپ سیک – امریکی کمپنیوں کے لیے ایک بڑا چیلنج
مصنوعی ذہانت یا آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) ایک ایسی جدید ٹیکنالوجی ہے جو کمپیوٹرز اور مشینوں کو انسانی ذہانت کی نقل کرنے کے قابل بناتی ہے۔ اس کے ذریعے کمپیوٹرز ڈیٹا کے تجزیے، فیصلے کرنے، سیکھنے اور پیچیدہ مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت حاصل کرتے ہیں۔ مصنوعی ذہانت آج کے دور میں تقریباً ہر شعبے میں انقلاب برپا کر رہی ہے، خواہ وہ صحت، تعلیم، صنعت، یا تفریح ہو۔
مصنوعی ذہانت ہماری زندگیوں کو کئی طریقوں سے متاثر کرے گی۔ یہ روزمرہ کے کاموں کو آسان بنانے سے لے کر بڑے صنعتی عمل کو خودکار بنانے تک کا کردار ادا کرے گی۔ مثلاً صحت کے شعبے میں AI کی مدد سے بیماریوں کی بروقت تشخیص ممکن ہو گئی ہے جبکہ تعلیمی میدان میں یہ انفرادی سیکھنے کے تجربے کو بہتر بنا رہی ہے۔ تاہم، اس کے ساتھ خدشات بھی موجود ہیں کہ AI انسانی ملازمتوں کو ختم کر سکتی ہے اور پرائیویسی جیسے مسائل کو جنم دے سکتی ہے۔
امریکہ اور چین کے درمیان مصنوعی ذہانت کے میدان میں ایک سخت مقابلہ جاری ہے۔ چین نے مصنوعی ذہانت میں خود کو ایک عالمی لیڈر کے طور پر پیش کرنے کے لیے وسیع سرمایہ کاری کی ہے جبکہ امریکہ اپنی تکنیکی برتری کو قائم رکھنے کے لیے میدان میں ہے۔ اس دوڑ میں اوپن اے آئی، گوگل، میٹا، مائیکروسافٹ جیسی کمپنیاں اور ہارڈویئر کی دنیا میں نِوڈیا، اے ایس ایم ایل اور انٹیل جیسے ادارے اربوں ڈالر خرچ کر رہے ہیں۔
ڈیپ سیک (Deepseek) جیسی سستی اور مؤثر مصنوعی ذہانت کے نظام کی آمد نے امریکی ٹیکنالوجی کے شعبے کو ایک نئی آزمائش میں ڈال دیا ہے۔ صدر ٹرمپ کی جانب سے مصنوعی ذہانت کے لیے 500 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے اعلان کے بعد اب سوال اٹھنے لگا ہے کہ کیا واقعی اتنی بڑی رقم خرچ کرنے کی ضرورت ہے؟ ڈیپ سیک جیسے کم لاگت والے نظام نے صارفین کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ مہنگی ٹیکنالوجی کے بجائے سستی اور مؤثر حل کیوں نہ اپنائے جائیں۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کے ڈیپ سیک کمپنی نے اس پراجیکٹ کو صرف ساٹھ لاکھ ڈالر خرچ کرکے ایک سال کی قلیل مدت میں مکمل کیا ہے۔
ڈیپ سیک ایک چینی مصنوعی ذہانت کمپنی ہے جو 2023 میں لیانگ وینفینگ نے قائم کی۔ لیانگ پہلے مالیاتی ٹیکنالوجی اور مشین لرننگ میں کام کرتے تھے اور ڈیپ سیک کو مصنوعی عمومی ذہانت (AGI) کے فروغ کے لیے قائم کیا۔ کمپنی نے کم لاگت میں بڑے زبان ماڈلز تیار کیے ہیں، جو اوپن اے آئی کے چیٹ جی پی ٹی کے متبادل سمجھے جا رہے ہیں۔ ڈیپ سیک نے محدود بجٹ میں نویڈ یا کے جی پی یوز استعمال کرکے جدید AI ماڈلز تیار کیے ہیں.
ڈیپ سیک کی آمد سے بڑی ٹیک کمپنیاں ممکنہ طور پر اپنی حکمت عملی پر نظر ثانی کرنے پر مجبور ہوں گی۔ اس کے ساتھ ہی اس بات پر بھی بحث شروع ہو گئی ہے کہ اگر سستی AI حل موجود ہیں تو اربوں ڈالر خرچ کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ یہ صورتحال نہ صرف امریکہ بلکہ عالمی سطح پر ٹیکنالوجی کے مستقبل کو بڑے پیمانے پر متاثر کرے گی۔