درآمدی معیشت سے پیداواری معیشت کا سفر
پاکستانی حکومت آئندہ دنوں ایک ایسی پالیسی متعارف کرانے کی تیاری کر رہی ہے جس کے تحت استعمال شدہ گاڑیوں اور استعمال شدہ موبائل فونز کی درآمد پر پابندی عائد کی جا سکتی ہے۔ یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آ رہا ہے جب ملک پہلے ہی شدید مہنگائی، روپے کی تاریخی گراوٹ، صنعتی جمود اور عوام کی گرتی ہوئی قوتِ خرید جیسے مسائل سے دوچار ہے۔ حکومتی حلقوں کا مؤقف ہے کہ اس پابندی کا مقصد مقامی صنعت کو تحفظ دینا، زرمبادلہ کے اخراج کو روکنا اور درآمدی معیشت کے بجائے پیداواری معیشت کی طرف پیش رفت کرنا ہے، تاہم اس پالیسی کے ممکنہ اثرات پر سنجیدہ سوالات بھی اٹھائے جا رہے ہیں۔
پاکستان میں ایک بڑا طبقہ برسوں سے درآمد شدہ استعمال شدہ گاڑیوں اور موبائل فونز کو ترجیح دیتا آیا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ جاپان، کوریا اور دیگر ممالک سے آنے والی استعمال شدہ گاڑیاں معیار، فیول ایوریج اور پائیداری کے لحاظ سے مقامی طور پر تیار کردہ گاڑیوں سے بہتر سمجھی جاتی ہیں۔ اسی طرح بیرون ملک سے آنے والے موبائل فونز، چاہے وہ استعمال شدہ ہوں، اپنی ٹیکنالوجی، کیمرہ، سافٹ ویئر اور مجموعی معیار کے باعث عوام میں مقبول ہیں۔ مسئلہ صرف پسند کا نہیں بلکہ قیمت اور قدر کا بھی ہے۔
آٹھ سال قبل ایک درمیانے درجے کا 250 ڈالر کا موبائل فون تقریباً پچیس ہزار روپے میں دستیاب تھا، مگر روپے کی مسلسل قدر میں کمی اور بھاری ٹیکسوں کے باعث آج وہی فون پچھتر ہزار روپے سے بھی تجاوز کر چکا ہے۔ یہی صورتحال آٹو موبائل سیکٹر میں بھی دیکھی جا سکتی ہے۔ ایک وقت تھا جب 800 سی سی کی ایک سادہ گاڑی پانچ لاکھ روپے میں خریدی جا سکتی تھی، مگر آج پچیس لاکھ روپے میں بھی معیاری گاڑی کا حصول ایک خواب بنتا جا رہا ہے۔ ایسے میں اگر حکومت استعمال شدہ درآمدات پر مکمل پابندی عائد کرتی ہے تو سوال یہ ہے کہ عام صارف کے لیے متبادل کیا ہوگا۔
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ مقامی صنعت کے فروغ کے بغیر کوئی بھی ملک ترقی نہیں کر سکتا۔ پاکستان اگر واقعی معاشی خود مختاری حاصل کرنا چاہتا ہے تو اسے مقامی مینوفیکچرنگ کو فروغ دینا ہی ہوگا۔ لیکن صنعت کو تحفظ دینے کا مطلب یہ نہیں کہ صارف کو کم معیار اور زیادہ قیمت پر سمجھوتہ کرنے پر مجبور کر دیا جائے۔ حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ مقامی طور پر تیار کی جانے والی گاڑیاں اور موبائل فونز نہ صرف خطے میں دستیاب مصنوعات کے معیار کے برابر ہوں بلکہ قیمت کے لحاظ سے بھی عوام کی پہنچ میں ہوں۔
دنیا کی بڑی معیشتوں کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ بھارت نے کئی دہائیوں تک اپنی صنعت کو تحفظ دیا، حالانکہ ایک طویل عرصے تک بھارتی مصنوعات کو معیار کے حوالے سے تنقید کا سامنا رہا۔ مگر مستقل پالیسی، مسابقت، تحقیق اور برآمدی اہداف کے باعث آج بھارت ایک بڑی صنعتی طاقت بن چکا ہے۔ چین، جو آج دنیا کی فیکٹری کہلاتا ہے، ایک وقت میں سخت تحفظاتی پالیسیوں کے تحت اپنی صنعت کو پروان چڑھاتا رہا۔ حتیٰ کہ اس وقت دنیا کی سب سے بڑی معیشت امریکہ بھی اپنی صنعت کو واپس لانے کے لیے درآمدی پابندیوں اور سبسڈی جیسے اقدامات پر غور کر رہا ہے۔
پاکستان جیسے غریب ملک کے لیے مسئلہ صرف درآمدات کا نہیں بلکہ برآمدات کا بھی ہے۔ آبادی کے لحاظ سے پاکستان کے برآمدی اہداف کم از کم تین سے چار سو ارب ڈالر ہونے چاہئیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ ہماری برآمدات اس کے عشرِ عشیر کے برابر بھی نہیں۔ اگر ہم خود اپنی تیار کردہ اشیاء استعمال نہیں کریں گے، اگر ہماری مقامی مصنوعات معیار اور اعتماد حاصل نہیں کریں گی، تو دنیا ہم سے یہ اشیاء کیوں خریدے گی؟ مقامی منڈی دراصل کسی بھی برآمدی حکمتِ عملی کی پہلی تجربہ گاہ ہوتی ہے۔
ایسے میں بہترین حکمتِ عملی یہ ہو سکتی ہے کہ حکومت فوری اور مکمل پابندی کے بجائے مرحلہ وار اصلاحات متعارف کرائے۔ مقامی صنعت کو وقتی تحفظ ضرور دیا جائے، مگر اس کے ساتھ سخت معیار، حفاظتی ضوابط، قیمتوں کی نگرانی اور صارف کے حقوق کا مؤثر نظام بھی نافذ کیا جائے۔ ٹیکنالوجی کی منتقلی، غیر ملکی سرمایہ کاری، جوائنٹ وینچرز اور مقامی سطح پر تحقیق و ترقی کو فروغ دیے بغیر صرف پابندیوں سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کیے جا سکتے۔ موبائل فون اسمبلی کے بجائے اصل مینوفیکچرنگ اور گاڑیوں میں حقیقی لوکلائزیشن ناگزیر ہے۔
مزید یہ کہ حکومت کو اس حقیقت کا بھی ادراک ہونا چاہیے کہ مہنگائی، بے روزگاری اور آمدنی میں جمود کے اس دور میں عوام پر مزید بوجھ ڈالنا سماجی بے چینی کو جنم دے سکتا ہے۔ اگر استعمال شدہ درآمدات پر پابندی لگائی جاتی ہے تو ساتھ ہی سستی فنانسنگ، ٹیکس میں رعایت اور معیار میں بہتری کے ٹھوس اقدامات بھی ضروری ہوں گے، تاکہ صارف کو یکطرفہ نقصان نہ اٹھانا پڑے۔
آخرکار، یہ پالیسی پاکستان کے معاشی مستقبل کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے، بشرطیکہ اسے جذبات کے بجائے زمینی حقائق، علاقائی مسابقت اور عوامی مفاد کو سامنے رکھ کر نافذ کیا جائے۔ صنعتی ترقی اور عوامی سہولت میں توازن ہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کو پائیدار ترقی کی طرف لے جا سکتا ہے۔

