BusinessFeatured

پاکستان کی صنعت خطرے میں، ایف پی سی سی آئی کا حکومت سے ہنگامی اقدامات کا مطالبہ

پاکستان کی کاروباری برادری کی سب سے بڑی نمائندہ تنظیم فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے حکومت سے فوری اور غیر معمولی اقدامات کا مطالبہ کیا ہے، یہ کہتے ہوئے کہ ملک کی صنعت اور کاروبار ایک خطرناک حد تک زوال کا شکار ہو چکے ہیں۔ ایف پی سی سی آئی کے مطابق اگر حالات اسی طرح برقرار رہے تو پاکستان نہ صرف اپنی صنعتی بنیاد کھو دے گا بلکہ لاکھوں روزگار بھی ختم ہو سکتے ہیں، جس کے نتائج سماجی اور معاشی دونوں سطحوں پر انتہائی سنگین ہوں گے۔

ایف پی سی سی آئی کی اپیل دراصل پاکستان کی مجموعی معاشی تصویر کی عکاس ہے، جو اس وقت شدید دباؤ، غیر یقینی صورتحال اور پالیسی تضادات کا شکار ہے۔ کاروباری برادری کا کہنا ہے کہ ملک میں قانون اور امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال سرمایہ کاری کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن چکی ہے۔ بھتہ خوری، چوری، ڈکیتی، اغوا برائے تاوان اور بعض علاقوں میں دہشت گردی کے خدشات صنعتکاروں اور تاجروں کو کاروبار بند کرنے یا بیرون ملک منتقل ہونے پر مجبور کر رہے ہیں۔ جب فیکٹریوں، گوداموں اور دکانوں کو بنیادی تحفظ ہی حاصل نہ ہو تو کسی بھی معیشت میں ترقی ممکن نہیں رہتی۔

توانائی کی بلند قیمتیں اور غیر یقینی فراہمی پاکستان کی صنعت کے لیے ایک اور تباہ کن عنصر ہیں۔ بجلی اور گیس کے نرخ خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہیں جبکہ لوڈشیڈنگ اور اچانک بندشیں پیداواری نظام کو درہم برہم کر دیتی ہیں۔ صنعتکاروں کے مطابق ایک طرف مہنگی توانائی لاگت بڑھا دیتی ہے اور دوسری طرف غیر یقینی سپلائی عالمی خریداروں کے اعتماد کو مجروح کرتی ہے، جو بروقت ترسیل کو اولین شرط سمجھتے ہیں۔

کاروباری تنظیم کی جانب سے سب سے زیادہ زور پالیسیوں کے عدم تسلسل پر دیا گیا ہے۔ پاکستان میں صنعتی، تجارتی اور ٹیکس پالیسیوں میں بار بار تبدیلیاں کی جاتی ہیں، جس سے طویل مدتی سرمایہ کاری تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے۔ ایک حکومت کی جانب سے دی جانے والی مراعات اگلی حکومت یا کسی آئی ایم ایف پروگرام کے تحت واپس لے لی جاتی ہیں، جس کے نتیجے میں سرمایہ کار شدید نقصان اٹھاتے ہیں اور نئے منصوبوں سے گریز کرنے لگتے ہیں۔

ٹیکس نظام کو ایف پی سی سی آئی نے معیشت کے لیے زہر قاتل قرار دیا ہے۔ دستاویزی کاروبار پر بھاری اور پیچیدہ ٹیکس عائد ہیں جبکہ غیر دستاویزی معیشت بڑی حد تک محفوظ ہے۔ سیلز ٹیکس ریفنڈز اور ڈیوٹی ڈرا بیکس میں طویل تاخیر کے باعث اربوں روپے صنعتکاروں کے پھنسے رہتے ہیں، جس سے ان کا ورکنگ کیپیٹل متاثر ہوتا ہے اور پیداواری سرگرمیاں سست پڑ جاتی ہیں۔

پاکستانی صنعت کی کم پیداواری صلاحیت اور پرانی ٹیکنالوجی بھی عالمی مسابقت میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ محدود سرمایہ کاری، مہنگی مشینری اور تحقیق و ترقی پر عدم توجہ کے باعث مقامی مصنوعات معیار، جدت اور مستقل مزاجی کے عالمی تقاضے پورے نہیں کر پاتیں۔ نتیجتاً پاکستانی برآمدات زیادہ تر کم قیمت اور کم منافع والی اشیاء تک محدود رہتی ہیں۔

مہنگی فنانسنگ اور بینکوں تک محدود رسائی نے بھی صنعت کو جکڑ رکھا ہے۔ بلند شرح سود، سرکاری قرضوں کے دباؤ اور طویل المدتی قرضوں کی عدم دستیابی کے باعث صنعتکار نہ تو اپنی فیکٹریاں جدید بنا سکتے ہیں اور نہ ہی پیداوار میں وسعت لا سکتے ہیں۔ یہ صورتحال خطے کے ان ممالک کے بالکل برعکس ہے جہاں ریاستی سطح پر صنعت کو سستے قرضے اور برآمدی سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں۔

لاجسٹکس، بندرگاہوں اور تجارتی سہولت کاری کی کمزوری بھی پاکستان کی معیشت کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ بندرگاہوں پر تاخیر، کسٹمز کے پیچیدہ طریقہ کار اور ناقص انفراسٹرکچر برآمدات کی لاگت میں اضافہ کرتے ہیں اور عالمی سپلائی چین میں پاکستان کی ساکھ کو متاثر کرتے ہیں۔

ایف پی سی سی آئی نے اس امر پر بھی تشویش ظاہر کی ہے کہ پاکستان کی صنعتی بنیاد محدود اور غیر متنوع ہے۔ معیشت کا زیادہ تر انحصار ٹیکسٹائل جیسے کم ویلیو ایڈڈ شعبوں پر ہے جبکہ انجینئرنگ، الیکٹرانکس، کیمیکلز اور ٹیکنالوجی جیسے شعبوں میں خاطر خواہ ترقی نہیں ہو سکی۔ اس محدودیت کی وجہ سے برآمدات عالمی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ سے شدید متاثر ہوتی ہیں۔

افرادی قوت کے حوالے سے بھی کاروباری برادری کا مؤقف واضح ہے کہ کم اجرت کے باوجود پیداواری صلاحیت کم ہے۔ تکنیکی تعلیم، ہنر مندی اور صنعتی ضروریات کے مطابق تربیت نہ ہونے کے باعث لیبر عالمی معیار کا مقابلہ نہیں کر پاتی، جس سے مجموعی صنعتی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔

ریگولیٹری پیچیدگیاں، بیوروکریسی کی مداخلت اور گورننس کے مسائل کاروبار کو مزید مشکل بنا دیتے ہیں۔ بار بار کے نوٹس، انسپیکشنز اور صوابدیدی اختیارات نہ صرف بدعنوانی کو فروغ دیتے ہیں بلکہ سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی مجروح کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ عدالتی نظام کی سست روی ایک اور بڑا مسئلہ ہے جہاں تجارتی اور کاروباری مقدمات برسوں تک لٹکے رہتے ہیں، جس سے سرمایہ اور وقت دونوں ضائع ہوتے ہیں۔

آخر میں ایف پی سی سی آئی نے نشاندہی کی ہے کہ مسلسل معاشی عدم استحکام، مہنگائی، کرنسی کی شدید اتار چڑھاؤ اور ادائیگیوں کے بحران نے صنعت اور کاروبار کو زندہ رہنے کی جدوجہد تک محدود کر دیا ہے۔ کاروباری برادری کا مطالبہ ہے کہ حکومت محض وقتی اقدامات کے بجائے ایک جامع، طویل المدتی اور قابلِ عمل معاشی حکمت عملی اپنائے، جس میں امن و امان، توانائی، ٹیکس، فنانسنگ اور عدالتی اصلاحات کو مرکزی حیثیت دی جائے۔

اگر حکومت نے اس اپیل کو سنجیدگی سے نہ لیا تو ایف پی سی سی آئی کے مطابق پاکستان کی صنعت کا زوال ناقابلِ واپسی مرحلے میں داخل ہو سکتا ہے، جس کے اثرات آنے والی نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔