LatestLiving

سُتھراپنجاب – حکومت پنجاب کا ایک اچھا قدم

پنجاب حکومت کی جانب سے شروع کی گئی مہم "سُتھرا پنجاب” ایک قابلِ تعریف اقدام ہے جس نے صفائی کے شعبے میں نمایاں تبدیلی لائی ہے۔ اس مہم کا بنیادی مقصد صوبے کو گندگی سے پاک کرنا اور شہریوں کو صاف ستھرے ماحول کی فراہمی ہے۔ اس کے تحت نہ صرف شہروں بلکہ دیہی علاقوں میں بھی وسیع پیمانے پر صفائی مہم چلائی گئی، جس میں کچرے کے اٹھاؤ، نالوں کی صفائی، اور عوامی مقامات کو گندگی سے پاک کرنے پر خصوصی توجہ دی گئی۔ عوام میں بیداری پیدا کرنے کے لیے مہم کے تحت تعلیمی پروگرام بھی منعقد کیے گئے، تاکہ لوگ صفائی کی اہمیت کو سمجھیں اور اس میں اپنا کردار ادا کریں۔ اس کے علاوہ، گندگی پھیلانے والوں کے خلاف سخت قوانین نافذ کیے گئے ہیں، جس سے لوگوں میں احساسِ ذمہ داری پیدا ہوا ہے۔ "سُتھرا پنجاب” کی بدولت پنجاب کے شہر اور دیہات دونوں صاف ستھرے اور خوبصورت نظر آنے لگے ہیں، جو حکومت کی کوششوں کی کامیابی کی واضح علامت ہے۔

گندگی ایک ایسا مسئلہ ہے جو نہ صرف ماحول کو خراب کرتا ہے بلکہ انسانی صحت کے لیے بھی شدید خطرات کا باعث بنتا ہے۔ اسلام میں صفائی کو نصف ایمان قرار دیا گیا ہے، جس سے اس کی اہمیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ لیکن افسوس کہ پاکستان میں صفائی کا معیار انتہائی پست ہے، جہاں ملک کے ہر کونے میں کوڑے کے ڈھیر نظر آتے ہیں۔ یہ گندگی نہ صرف شہروں کی خوبصورتی کو مجروح کرتی ہے بلکہ کئی مہلک بیماریوں کا سبب بھی بن رہی ہے۔ گندگی سے پیدا ہونے والے جراثیم اور مچھر، مکھیاں، اور دیگر حشرات الارض مختلف بیماریاں جیسے ہیپاٹائٹس، ٹائیفائیڈ، ڈینگی، ملیریا، اور معدے کی بیماریاں پھیلاتے ہیں۔ گلی محلوں میں پڑا کوڑا کرکٹ نہ صرف بدبو پھیلاتا ہے بلکہ پانی کے ذرائع کو بھی آلودہ کرتا ہے، جس سے پینے کے صاف پانی کی کمی ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ، گندگی سے ماحولیاتی آلودگی بڑھتی ہے، جس سے سانس کی بیماریاں اور جلد کے امراض بھی عام ہو جاتے ہیں۔ گندگی بھرے ماحول میں رہنے والے افراد، خاص طور پر بچے اور بزرگ، زیادہ بیمار پڑتے ہیں، جس سے معاشرے پر صحت کے اخراجات کا بوجھ بڑھ جاتا ہے۔ لہٰذا، صفائی کو ترجیح دینا اور گندگی کے خلاف اقدامات کرنا نہ صرف مذہبی فریضہ ہے بلکہ قومی ضرورت بھی ہے۔

سنڳاپور، یورپ اور جاپان نے صفائی کو برقرار رکھنے کے لیے اپنے عوام کو تعلیم دینے اور گندگی پھیلانے پر سخت جرمانے عائد کرنے کے ذریعے قابلِ تقلید مثالیں قائم کی ہیں۔ ان ممالک میں صفائی کو قومی تشخص کا حصہ سمجھا جاتا ہے، اور اس کے لیے شہریوں کو بچپن سے ہی اس کی اہمیت سے آگاہ کیا جاتا ہے۔ اسکولوں میں بچوں کو ماحول دوست عادات سکھائی جاتی ہیں، جبکہ عوامی مقامات پر صفائی کے قوانین کی سختی سے پابندی کرائی جاتی ہے۔ گندگی پھیلانے والوں پر بھاری جرمانے عائد کیے جاتے ہیں، جو لوگوں کو اس غیر ذمہ دارانہ عمل سے باز رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ، ان ممالک میں صفائی کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور موثر نظام بھی استعمال کیے جاتے ہیں، جس سے شہریوں کو صاف ستھرا ماحول فراہم کیا جاتا ہے۔ ان اقدامات کی بدولت یہ ممالک دنیا بھر میں صفائی کے حوالے سے مثالی حیثیت رکھتے ہیں۔

صفائی صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر شہری کا فرض ہے کہ وہ اپنے محلے اور اردگرد کے ماحول کو صاف ستھرا رکھے۔ اگرچہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ کوڑے کرکٹ کے اٹھاؤ اور ٹھکانے لگانے کا مناسب نظام قائم کرے، لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ عوام اپنی ذمہ داریوں سے دستبردار ہو جائیں۔ ہر شخص کو چاہیے کہ وہ اپنے گھر، دکان، مارکیٹ، اور کاروباری مراکز کی صفائی کا خود خیال رکھے اور کوڑے کو مناسب جگہ پر پھینکے۔ مارکیٹوں اور کاروباری مراکز کو چاہیے کہ وہ اپنے فضلے کو سنبھالنے کے لیے مناسب انتظامات کریں، نہ کہ اسے اردگرد کے علاقوں میں چھپا دیں۔ گندگی پھیلانے والوں کے خلاف سخت جرمانے عائد کیے جانے چاہئیں تاکہ لوگ اس غیر ذمہ دارانہ رویے سے باز آئیں۔ صفائی کے معاملے میں عوام اور حکومت کا باہمی تعاون ہی وہ کلید ہے جس کے ذریعے ہم ایک صاف ستھرے اور ترقی یافتہ معاشرے کی طرف قدم بڑھا سکتے ہیں۔