گھر کی تعمیر کے مراحل

تعمیراتی پروجیکٹ شروع کرنے سے پہلے کے اہم اقدام

ایک آرکیٹکٹ، سول انجینئر اور ٹھیکیدار کا انتخاب آپ کے پروجیکٹ کی جانب پہلا قدم ہے۔ یہ بہت ضروری ہے کہ اس کام کے لیے صحیح لوگوں کی خدمات حاصل کی جائیں۔ ان کے پچھلے پراجیکٹس کو دیکھا جائے اور ان کی ساکھ کو ان کے سابقہ ​​کسٹمر سے چیک کیا جائے۔ ان تینوں افراد کے کام کے ساتھ ساتھ ان کا رویہ اور ایمانداری کی بھی چھان بین کی جانی چاہیے۔

اگرچہ پاکستان میں آرکیٹکٹ کو ایک فالتو کا خرچہ سمجھا جاتا ہے مگر حقیقت میں ایک اچھا آرکیٹکٹ اپکے گھر کی قیمت میں خاصہ اضافہ کر دیتا ہے۔ آپ اپنے بجٹ کے مطابق آرکیٹیکٹ کا انتخاب کر سکتے ہیں۔ پاکستان میں کم فیس والے آرکیٹکٹ کے ساتھ ساتھ مہنگے ترین آرکیٹکٹ بھی ہیں۔ معمار کا انتخاب بجٹ کے مطابق کریں۔ 10 مرلہ پلاٹ کے لیے کسی مہنگے آرکیٹکٹ کے پاس جانا خوامخوہ بجٹ میں اضافہ ہے۔ ایک معروف آرکیٹکٹ آپ کے پراجیکٹ پر ذیادہ توجہ نہیں دے سکے گا۔ دوسری طرف کسی ناتجربہ کار آرکیٹیکٹ کے پاس جانا بھی صیح نہیں ہے کیونکہ ایسا آرکیٹکٹ اپ کے پراجیکٹ میں کوئی جدت نہیں لا سکے گا۔ چناچہ ضرورت اس امر کی ہے کے اپ اپنے پراجیکٹ کے مطابق ایک موزوں آرکیٹیکٹ تلاش کریں۔

سول انجینئر کا انتخاب: آرکیٹکٹ اور سول انجینئر کے درمیان چپقلش سے بچنے کے لیے آرکیٹیکٹ فرم سے سول انجینئر کا انتخاب کرنا بہتر رہتا ہے۔ اگرچہ اس میں دونوں کی ملی بھگت کا خدشہ ہوتا ہے لیکن اگر دونوں ایک دوسرے سے مقابلہ شروع کردیں تو یہ بھی مسائل کھٹرے کر دیتا ہے۔

ٹھیکیدار کا انتخاب: ٹھیکیدار پروجیکٹ کے لیے سب سے اہم شخص ہے۔ یہ شخص نقشہ کو حقیقی شکل دے گا۔ ایک اچھا ٹھیکدار اپ کی زندگی کو آسان بنا دے گا۔ جبکہ ایک خراب ٹھیکہ دار شخص اپکو انتہائی سے ذیادہ پریشان کرے گا۔ عموماً پاکستان میں ٹھیکیدار تعلیم یافتہ نہیں ہوتے لہذا ان کو قائل کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ اسکے لیے بھی بہتر ہے کے آپ آرکیٹکٹ کی طرف سے تجویز کردہ ٹھیکہ دار کو لگائیں کیونکہ اس صورت میں ذمہ داری آرکیٹکٹ پر ہوگی لہذا غیر ضروری جھگڑوں سے بچا جائے گا۔

آرکیٹیکٹ، سول انجینئر اور ٹھیکیدار کے ساتھ تحریری معاہدہ ہونا ضروری ہے۔ مستقبل میں کسی غلط فہمی سے بچنے کے لیے شرائط و ضوابط کو تفصیل سے بیان کیا جانا چاہیے۔ خاص طور پر ٹھیکیدار کے ساتھ ہونے والا معاہدہ اردو میں لکھا جائے اور اس پر واضح ہونا چاہیے کہ طے شدہ نرخوں میں کیا کیا شامل ہے تاکہ کسی کام کے بارے مین ابہام نہ ہو اور ادائیگی کے وقت خوامخوہ کی تکرار سے بچا جائے۔

معاہدے کی قسم:

عام طور پر تین قسم کے معاہدے ہوتے ہیں۔

لیبر: لیبر کنٹریکٹ میں پوری مزدوری ٹھیکیدار فراہم کرے گا۔ اس قسم کے معاہدے میں بہت سی خامیاں ہیں اور آپ پروجیکٹ کی لیبر کو کنٹرول نہیں کر سکتے۔ ٹھیکیدار زیادہ سے زیادہ یومیہ اجرت حاصل کرنے کے لیے منصوبے میں تاخیر کر سکتا ہے۔

گرے سٹرکچر: یہ سب سے عام قسم کا معاہدہ ہے۔ اس معاہدے میں گرے سٹرکچر (فاؤنڈیشن سے پلاسٹر تک)، فرش وغیرہ شامل ہیں۔ ایسے کنٹریکٹ میں ٹھیکیدار کوشش کرتا ہے کہ کام کو جلد از جلد مکمل کرے تاکہ اسے جلد از جلد رقم مل سکے اس لیے وہ تاخیر سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کرتا ہے۔ یہ آپ پر منحصر ہے کہ سیمنٹ، اینٹیں، سٹیل، بجری وغیرہ بروقت فراہم کریں اور مختلف مراحل پر ضروری کاغذات کو مکمل کریں۔

ٹرن کی پراجیکٹ: یہ صرف اس صورت میں بہتر ہے جب گھر کے مالک کے پاس وقت نہ ہو یا وہ کسی دوسرے
شہر میں مقیم ہو۔ ایسے کنٹریکٹ میں عموماً مطلوبہ فنشنگ حاصل کرنا قدرے مشکل ہے کیونکہ ٹھیکیدار ہر مرحلے پر رقم بچانے کی کوشش کر رہا ہوگا۔ اگر آپ کو اس قسم کا معاہدہ کرنا ہے تو تمام تفصیلات اور تیار شدہ اشیاء کی کوالٹی لکھ لینی چاہیے ہے۔

کاغذی کاروائی/یوٹیلیٹیز: معمار اور ٹھیکیدار کو منتخب کرنے کے بعد آپ کو متعلقہ اتھارٹی سے ضروری منظوری حاصل کرلینی چاہیے اور یوٹیلیٹیز یعنی بجلی اور پانی کے کنکشن کے لیے درخواست دینی چاہیے۔ جب آپ کا گھر مکمل ہونے کے قریب ہو تو بعد کے مرحلے میں گیس کنکشن حاصل کیا جا سکتا ہے، جلد از جلد کنکشن حاصل کرنے کی کوشش کریں کیونکہ بعض اوقات اس میں وقت لگ سکتا ہے۔ تاہم، ڈی ایچ اے اور بحریہ کا نظام بہت بہتر ہے جبکہ سی ڈی اے سے کاغذی کاروائی مکمل کرنا ایک مُشکل عمل ہے۔

گھر کےنقشہ کے دوران کن نکات کو اہمیت دینی چاہیے۔

گھر کا ہوا دور ہونا: گھر میں صحت مند ماحول کو برقرار رکھنے کے لیے اسکا ہوا دار ہونا ضروری ہے۔ اچھی وینٹیلیشن اس بات کو یقینی بنائے گی کہ گھر میں کائی یا گُھٹن نہ ہو کیونکہ ہوا دار ہونا گھر کو خشک اور جراثیم سے پاک رکھے گا۔

روشن ہونا: ایک روشن گھر نہ صرف صحت مند زندگی کے لیے ضروری ہے بلکہ یہ بجلی اور گیس کے بل میں بھی کمی کا باعث بنتا ہے۔ مناسب سائز کی کھڑکیاں گھر کے ہرطرف ہونا بہت ضروری ہے۔ چھوٹے گھروں میں عموماً سائیڈ کی دیواروں کے ملے ہونے کی وجہ سے کھڑکیاں نہیں رکھی جا سکتی اس صورت میں سکائی لائیٹ یا اوپن ٹو سکائی بنائی جاتی ہے جس سے سارے گھر میں روشنی بہت بہتر ہوجاتی ہے۔ اس سے گھر آسمان کی طرف کھل جاتا ہے اسطرح دن کی روشنی ماحول کو صحت مند رکھتے ہی اور جراثیم کی افزائش کو روکتی ہے۔

انسولیشن: گھر کواندر سے سخت موسم میں بھی بہتر رکھنا بہت ضروری ہے۔ اسلام آباد میں گرمیوں میں سخت گرمی اور سردیوں میں سخت سردی پڑتی ہے۔ یہ ضروری ہے کے گھر کے ڈیزائین کے ساتھ ساتھ گھر میں جہاں جہاں ضرورت ہو مناسب منصوبہ بندی کرنی چاہیے۔ انسولیشن کی مختلف قسمیں ہیں جن کو مختلف مراحل میں شامل کرنے کی ضرورت ہے۔ بیرونی دیواروں، دروازوں، کھڑکیوں اور سب سے اوپر کی چھت پر صیح انسولیشن کرنے سے بجلی اور گیس کے بل میں نمایاں کمی کی جاسکتی ہے جو کے بلوں میں نمایاں کمی کا باعث بنتے ہیں۔

سیکیورٹی کا انتظام: اگرچہ کئی ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں سکیورٹی کا اچھا انتظام ہے اور عام افراد کو آنے جانے کی اجازت نہیں ہوتی مگر اسکے باوجود سیکیورٹی کا مسئلہ گھمبیرصورتحال اختیار کرتا جارہا ہے۔ اب بہت سے الیکٹرونکس اور حفاظتی نظام انتہائی مناسب قیمت پر مل جاتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کے ان چیزوں کے لیے وائرنگ اور دیوار پر اضافی گرلز کے لیے پہلے ہی انتظام کرنے سے خاصی بچت ہو جاتی ہے۔ ایسے گھر کے مکین اپنے اپ کو ذیادہ محفوظ کریں گے۔ کھڑکیوں کے ڈیزائن میں بھی حفاظتی پہلوکو مدِنظررکھنا چاہیے۔

دیمک کا علاج: دیمک کا مناسب علاج کروانا بہت ضروری ہے۔ دیمک پاکستان میں یہ ایک بہت بڑا مسئلہ ہے اور اگر مختلف مراحل پرصیح ٹریٹمنٹ نہ کیا جائے تو یہ مستقل درد سر بن سکتا ہے۔ اس لیے مناسب کیڑے مار ادویات کا استعمال بہت ضروری ہے۔

سیم اور نمی کو روکنا: پاکستان میں گھروں میں نمی اور سیم ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ کسی بھی عمارت کے مناسب کام کے لیے نمی کو روکنا بہت ضروری ہے۔ مکینوں کی صحت پر منفی اثرات سے بچانے اور عمارت کی حفاظت کے لیے نمی کو کنٹرول کرنا ضروری ہے۔ زیادہ تر نمی کے مسائل خراب ڈیزائن، تعمیرکے دوران کے نقائص یا دیکھ بھال میں کمی کی وجہ سے ہوتے ہیں۔ فاؤنڈیشن میں سادہ تکنیکی تبدیلیاں، مناسب کوٹنگ، جوڑوں کو صحیح طریقے سے ڈھانپنے کر اور گھر میں مناسب روشنی اور ہوا کے گُزر سے بچا جا سکتا ہے۔ یہ سب کام ایک اچھا آرکیٹکٹ، سول انجینئر اور ٹھیکیداراپکے کہے بغیر ہی کر دیں گے کیونکہ آپ نے ان کو انہیں کاموں کے لیے پیسے دیے ہیں۔ آپ ان سے گاہے بگاہے معلومات لیتے رہیں تاکہ ان کو بھی معلوم ہو کے آپ اس بارے میں مناسب اقدام چاہتے ہیں۔

: بجٹ کا تخیمنہ: کسی بھی پراجیکٹ کا بجٹ بنانا بہت ضروری ہے تاکہ اسکے لیے پیسوں کا بندوبست کیا جائے۔ آپکو چاہیے لگانا بہت ضروری ہے تاکہ آپ پروجیکٹ کے مختلف مراحل میں اس کے مطابق فنڈز کا بندوبست کر سکیں۔ تاہم، آپ کو یہ ذہن میں رکھنا چاہیے کہ چیزیں منصوبے کے مطابق نہیں ہوتی اور وقت کے ساتھ ساتھ اسمیں کچھ نہ کچھ تبدیلیاں ضرور ہوں گی چاہے آپ کا بجٹ کتنا ہی حقیقت پسندانہ کیوں نہ ہو۔

پلنتھ لیول کی تیاری۔ یہ یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے کہ زمینی کام سوسائٹی کے منظور کردہ منصوبے کے مطابق کیا جائے۔ اس کے علاوہ دیمک اور گیلے پن کا علاج اس مرحلے میں ایک کلید ہے۔

گرے ڈھانچہ: عام طور پرگرے ڈھانچہ ساخت کے دوران تعمیر کی رفتار بہت تیز ہوتی ہے۔ معمار سول انجینئر اور ٹھیکیدار کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کرنا بھی آسان ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ مالک کو میٹریل یعنی سٹیل، سیمنٹ، اینٹ، پائپ وغیرہ کی کوالٹی ضرور چیک کرنی ہوچاہیے، اس کے علاوہ اسے ہاؤسنگ سوسائٹی سے معائنہ ٹیم کو بروقت لانا اہم ہے تاکہ پروجیکٹ کو بروقت مکمل کیا جاسکے۔ اس بات کو بھی یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ ڈیزائن میں کوئی خامی نہ رہے۔

فنشنگ

انٹیرئیر ڈیزائنر: تعمیراتی پروجیکٹ میں انٹیریئر ڈیزائنر کا استعمال عام طور پر عجیب لگتا ہے کیونکہ انہیں عموماً فرنیچر، قالین، سجاوٹ وغیرہ کو سنبھالنے والا سمجھا جاتا ہے لیکن اب ہر اچھے آرکیٹیکٹ نے انٹیریئر ڈیزائنر ضرور رکھا ہوتا ہے۔ وہ شخص آپ کو عمارت میں فرنیچرکے سیٹ اپ اور اسٹوریج کے بارے میں مشورہ دے سکتا ہے اور اس سے آپ کو اس کے مطابق ضروری الیکٹرک پوائنٹس یا کیبنٹ بنانے میں مدد ملے گی۔

الیکٹرک: جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا ہے، وائرنگ کے مرحلے کے دوران، اگر حفاظتی پہلو کے ساتھ ساتھ ٹیلی فون کنکشن، کیبل کنکشن وغیرہ پر بھی غور کیا جائے تو یہ آپ کو بہت زیادہ پریشانی سے بچائے گا اور عمارت کو بعد میں بے جا سوراخوں اور جھریوں سے بچائے گا۔ یہ ہمیشہ اچھا ہوتا ہے کہ ایک مرکزی سیکیورٹی سوئچ ہو جس کے ذریعے باہر کی تمام لائٹس کو کنٹرول کیا جانا چاہیے۔ ایل ای ڈی، سینسرز اور سولر پینل کی وائرنگ پر بھی غور کیا جانا چاہیے۔

لکڑی کا کام: گرے سٹرکچر کے بعد سب سے زیادہ پیچیدہ اور وقت طلب کام لکڑی کا کام ہے۔ اگر اپ کا بجٹ اجازت دیتا ہے توماڈیولر کچن بنوایا جا سکتا ہے کیونکہ ان کی فنشنگ بہرحال بہتر ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ آپکوچیزوں کو خریدنے کے لیے ادھر اُدھر بھاگنے سے بچت رہتی ہے۔ عام طور پر کمپنی گرے سٹرکچر مکمل ہوتے ہی پیمائش لے لیتی ہے اور چند ہفتوں میں اسے انسٹال کیا جاسکتا ہے۔ دروازے اور الماریاں سائٹ پر تیار کی جا سکتی ہیں۔

کھڑکیاں، گرلز اور گیٹ: گرلز لگانے کے ساتھ ساتھ باؤنڈری وال پر حفاظتی گرلز یا تاروں کا لگانا بھی بہتر رہتا ہے اور پیسوں سے بچت ہوتی ہے۔

دیواریں: پینٹ، وال پیپر، بائر کی ٹائلیں: دیوار کے چھوٹے حصے میں وال پیپر استعمال کرنا ہمیشہ اچھا ہے۔ جبکہ ایلویشن پر ٹائلیں دیرپا ہوتی ہیں اور ان کی دیکھ بھال کی ضرورت نہیں ہوتی۔ تاہم، پینٹ ایک ایسا کام ہے جو خوبصورتی لاتی ہیں۔ پاکستان میں بڑی ملٹی نیشنل پینٹ کمپنیاں ہیں AkzoNobel Pakistan (Dulux)، Berger، Jotun، Kansai، Nipponان کے ساتھ کچھ یہ کمپنیاں Brighto، Diamond، Happilac، Master اور Nelson۔ معیاری کام حاصل اپنے کلائنٹ کو کنسلٹنٹ کی سہولیت فراہم کرتی ہیں۔ بلکہ کچھ کمپنیاں پینٹ کروا کر دیتی ہیں۔

فرش: آجکل کے دور میں فرشوں میں ٹائل، ماربل، گرینائٹ اور لکڑی کا امتزاج ہونا چاہیے۔ آجکل گھروں میں ماربل کا استعمال کافی حد تک کم ہو گیا ہے۔

سینیٹری: سب سے اہم چیز گھر کے مختلف حصوں میں پانی کا پریشر برقرار رکھنا ہے۔ اوپری منزل میں پانی کا دباؤ عموماً کم ہوتا ہے۔ پریشر پمپ کے فوائد بھی ہیں اور نقصانات بھی۔ ایک حل یہ ہو سکتا ہے کہ پانی کے اوپری ٹینک سے متعدد پائپ نکالیں۔ اگر آپ پی وی سی پائپ استعمال کر رہے ہیں تو ہمیشہ موٹے پائپ کا استعمال کریں کیونکہ وہ اندر سے تنگ ہوتے ہیں۔ ایک اور اہم چیز پانی کا فلٹر کرنا ہوتا ہے کیونکہ پاکستان میں پانی کی کوالٹی بہت خراب ہے اور اس میں ریت، کنکر اور دیگر چھوٹے ذرات ہوتے ہیں جو نلکوں، پائپ اور سینیٹری کے سامان کو تباہ کرتے ہیں اور پائپوں کو بند کردیتے ہیں۔ ایک سادہ دو اسٹیج فلٹر سینیٹری کے سامان کی زندگی کو کئی سالوں تک بڑھا سکتا ہے۔ اور سب سے اہم ہے کے یہ مکینوں کی صحت کے لحاظ سے بھی اچھا ہے۔

لان میں پھل پھول کا لگانا: پھول پودے گھر میں زندگی اور خوبصورتی دیتے ہیں۔ اگر آپ کے پاس جگہ کی کمی ہے، تو اپ برتن لٹکا سکتے ہیں۔ چھوٹے گھروں میں چھت پر پاتیو بنایا جا سکتا ہے۔ اسکے علاوہ ایک چھوٹا سا فوارہ لگایا جاسکتا ہے۔ بہرحال آجکل کے دور میں ڈینگی اور ملیریا سے بچنے کی ضرورت ہے۔