BusinessFeatured

سولر کو سزا اور مہنگی بجلی کو تحفظ

پاکستان میں بجلی کا بحران اب محض مہنگے بلوں کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ یہ ریاستی ترجیحات، ناقص منصوبہ بندی اور ماضی کی غلطیوں کا آئینہ بن چکا ہے۔ ایسے وقت میں جب صنعت، تجارت اور عام صارف بجلی کی قیمتوں میں کسی ریلیف کے منتظر تھے، حکومتِ پاکستان نے نیٹ میٹرنگ پالیسی میں اچانک تبدیلی کر کے ایک واضح پیغام دے دیا ہے کہ مسئلے کا بوجھ کمزور فریق پر ہی ڈالا جائے گا۔

نئی پالیسی کے تحت سولر صارف سے اس کا سب سے بڑا فائدہ چھین لیا گیا ہے۔ اب وہ صارف جو اپنی جیب سے لاکھوں روپے خرچ کر کے بجلی پیدا کرتا ہے، اسے اپنی اضافی بجلی کے بدلے یونٹس نہیں بلکہ دس سے بارہ روپے فی یونٹ ملیں گے، جبکہ یہی حکومت اسی صارف کو بجلی چالیس سے پچاس روپے فی یونٹ میں واپس فروخت کرے گی۔ سوال یہ ہے کہ اگر یہی منطق درست ہے تو پھر سولر لگانے کی ترغیب کس لیے دی گئی تھی؟ کیا قابلِ تجدید توانائی محض نعرہ تھی یا وقتی مجبوری؟

حکومت کے اس فیصلے کو اگر دیانت داری سے دیکھا جائے تو اصل مسئلہ سولر نہیں بلکہ وہ مہنگا اور بوسیدہ بجلی کا نظام ہے جسے بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ پاکستان میں پانی، نیوکلیئر اور تھر کے کوئلے سے پیدا ہونے والی بجلی دو سے آٹھ روپے فی یونٹ میں دستیاب ہے، مگر اس کے باوجود صارف کو بجلی چالیس، پچاس اور بعض اوقات ستر روپے فی یونٹ میں دی جا رہی ہے۔ اس تضاد کی وجہ وہ پاور پلانٹس ہیں جو درآمدی فرنس آئل، ڈیزل اور ایل این جی پر چلتے ہیں اور جن کے ساتھ ایسے معاہدے کیے گئے جن میں ریاست نے خود کو یرغمال بنا لیا۔

ان معاہدوں کے تحت حکومت کو ان پاور پلانٹس کو مکمل پیداواری صلاحیت کی ادائیگی کرنی ہوتی ہے، چاہے بجلی پیدا ہو یا نہ ہو۔ یہی وہ صلاحیت کی ادائیگیاں ہیں جو قومی خزانے کو کھوکھلا کر رہی ہیں اور جن کا بوجھ آخرکار صارف پر ڈال دیا جاتا ہے۔ جب سولر صارف گرڈ سے کم بجلی لیتا ہے تو حکومت کو خطرہ لاحق ہو جاتا ہے کہ کہیں اس کے مہنگے معاہدے بے معنی نہ ہو جائیں، چنانچہ حل یہ نکالا گیا کہ سولر کو ہی کم پرکشش بنا دیا جائے۔

یہ امر بھی تشویشناک ہے کہ بعض پاور کمپنیوں کے بارے میں رپورٹس موجود ہیں کہ وہ اپنی اصل صلاحیت درست طور پر ظاہر نہیں کرتیں اور اس بنیاد پر حکومت سے زائد ادائیگیاں وصول کرتی ہیں۔ اگر یہ درست ہے تو سوال صرف توانائی کا نہیں بلکہ ریاستی نگرانی اور احتساب کا بھی ہے۔ کیا حکومت نے کبھی سنجیدگی سے ان معاہدوں کا فرانزک آڈٹ کیا؟ یا پھر ہر بحران کا آسان حل صارف کو قربانی کا بکرا بنانا ہی سمجھا جاتا ہے؟

توانائی ماہرین بارہا اس بات کی نشاندہی کر چکے ہیں کہ مسئلے کا پائیدار حل مہنگی بجلی پیدا کرنے والے پاور پلانٹس کو قومی تحویل میں لے کر مرحلہ وار بند کرنا یا کم سے کم استعمال میں رکھنا ہے۔ اس سے نہ صرف بجلی کی اوسط قیمت کم ہو سکتی ہے بلکہ درآمدی ایندھن پر خرچ ہونے والا قیمتی زرمبادلہ بھی بچایا جا سکتا ہے۔ اس کے بعد سستے ذرائع جیسے پانی، نیوکلیئر اور تھر کول کو مکمل صلاحیت پر چلایا جا سکتا ہے، جو قومی معیشت کے لیے ناگزیر ہے۔

پاکستان اس وقت خطے کے ان ممالک کے مقابلے میں کھڑا ہے جہاں بجلی سستی ہونے کی وجہ سے صنعت ترقی کر رہی ہے۔ بھارت اور بنگلہ دیش میں کم توانائی لاگت نے برآمدات کو سہارا دیا، جبکہ پاکستان میں مہنگی بجلی نے صنعت کا گلا گھونٹ دیا ہے۔ فیکٹریاں بند ہو رہی ہیں، روزگار ختم ہو رہا ہے اور تجارتی خسارہ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ اس صورتحال میں نیٹ میٹرنگ پر ضرب لگانا مسئلے کا حل نہیں بلکہ اعترافِ ناکامی ہے۔

توانائی بحران کا حل وقتی پالیسی تبدیلیوں میں نہیں بلکہ ماضی کی غلطیوں کو درست کرنے میں ہے۔ جب تک مہنگے معاہدوں پر نظرثانی، ناقص منصوبہ بندی کا اعتراف اور سستی مقامی توانائی کو ترجیح نہیں دی جاتی، تب تک بجلی نہ سستی ہو گی اور نہ ہی معیشت سنبھل سکے گی۔ سوال یہ نہیں کہ سولر صارف حکومت کے لیے مسئلہ کیوں بن گیا ہے، اصل سوال یہ ہے کہ حکومت اپنے ہی بنائے ہوئے مہنگے نظام کا سامنا کرنے سے کیوں کترا رہی ہے۔