پاکستان کی معیشت پھر آئی ایم ایف کے رحم و کرم پر
پاکستان کی معیشت ایک بار پھر غیر یقینی صورتحال سے دوچار دکھائی دیتی ہے کیونکہ اطلاعات سامنے آ رہی ہیں کہ عالمی مالیاتی ادارہ آئی ایم ایف پاکستان کے لیے مالیاتی پیکج کی اگلی قسط جاری کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہے۔ اس کی بنیادی وجہ حکومت کی جانب سے مقررہ ٹیکس وصولی کے اہداف کو پورا نہ کرنا بتایا جا رہا ہے۔ یہ صورتحال اس حقیقت کو مزید واضح کر دیتی ہے کہ پاکستان کی معیشت اب بھی بڑی حد تک بیرونی مالیاتی اداروں کے فیصلوں کی محتاج ہے۔ جب بھی آئی ایم ایف کسی قسط کو روکنے، مؤخر کرنے یا اس پر اعتراض اٹھانے کا اشارہ دیتا ہے تو اس کے اثرات فوری طور پر ملک کے مالیاتی نظام، اسٹاک مارکیٹ اور سرمایہ کاروں کے اعتماد پر نظر آنے لگتے ہیں۔
گزشتہ چند برسوں میں پاکستان کو شدید معاشی دباؤ کا سامنا رہا ہے۔ سنہ 2021 میں تو صورتحال یہاں تک پہنچ گئی تھی کہ ملک کو دیوالیہ پن کے خطرات لاحق ہو گئے تھے۔ اس وقت پاکستان ایک چھ ارب ڈالر کے پروگرام کے تحت آئی ایم ایف سے سالانہ تقریباً دو ارب ڈالر کی قسطوں کے لیے مسلسل مذاکرات کر رہا تھا۔ بظاہر یہ رقم عالمی مالیاتی پیمانے پر بہت بڑی نہیں تھی، مگر پاکستان کے لیے اس کی اہمیت اس لیے زیادہ تھی کیونکہ یہ رقم دیگر عالمی مالیاتی اداروں اور دوست ممالک سے مزید قرض اور امداد کے دروازے کھولنے کی بنیاد بنتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب آئی ایم ایف کسی قسط کی ادائیگی میں تاخیر کرتا ہے تو اس کے اثرات صرف ایک قسط تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورے مالیاتی نظام پر عدم اعتماد کی فضا پیدا ہو جاتی ہے۔
گزشتہ دو برسوں کے دوران حکومت نے معیشت کو سنبھالنے کے لیے بعض اقدامات ضرور کیے ہیں۔ درآمدات پر سخت پابندیوں اور مالیاتی نظم و ضبط کے نتیجے میں تجارتی خسارے میں کچھ کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلات زر میں بھی اضافہ ہوا ہے جس سے زرمبادلہ کے ذخائر کو کچھ سہارا ملا ہے۔ اسی طرح کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بھی نسبتاً قابو میں آیا ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ان میں سے زیادہ تر بہتری عارضی نوعیت کی ہے کیونکہ اس میں قرضوں اور بیرونی مالیاتی مدد کا بڑا کردار شامل ہے۔ اگر یہ بیرونی مدد نہ ہو تو معیشت کو برقرار رکھنا مزید مشکل ہو سکتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی معاشی مشکلات کی جڑیں کہیں زیادہ گہری ہیں۔ ملک کی برآمدات کئی دہائیوں سے محدود شعبوں تک ہی سمٹی ہوئی ہیں اور صنعتی ترقی اس رفتار سے نہیں ہو سکی جس کی ضرورت تھی۔ توانائی کے شعبے میں موجود مسائل خصوصاً آئی پی پیز کے معاہدے طویل عرصے سے قومی معیشت پر بوجھ بنے ہوئے ہیں۔ بجلی کی بلند قیمتیں صنعتی لاگت میں اضافہ کرتی ہیں جس سے برآمدات کی مسابقت متاثر ہوتی ہے۔ اس مسئلے کے حل کے لیے کئی بار مذاکرات اور پالیسی تبدیلیوں کی بات کی گئی، مگر کوئی بنیادی اور جامع اصلاحات اب تک سامنے نہیں آ سکیں۔
اسی طرح ٹیکس نظام پاکستان کی معیشت کا ایک اور بڑا مسئلہ ہے۔ ملک میں ٹیکس دہندگان کی تعداد انتہائی کم ہے جبکہ ایک بڑا طبقہ ایسا ہے جو عملی طور پر ٹیکس نیٹ سے باہر ہے۔ یہ صورتحال دنیا کے اکثر ممالک سے مختلف ہے جہاں آمدنی اور اخراجات کی بنیاد پر زیادہ سے زیادہ افراد کو ٹیکس نظام میں شامل کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں اس کے برعکس وہ لوگ جو پہلے سے ٹیکس ادا کر رہے ہیں ان پر مزید بوجھ ڈال دیا جاتا ہے جبکہ غیر فائلرز کی بڑی تعداد بغیر کسی مؤثر نگرانی کے معاشی سرگرمیوں میں مصروف رہتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سرکاری نظام میں موجود پیچیدہ قوانین، ریڈ ٹیپ ازم اور متعدد قسم کے ٹیکس کاروباری ماحول کو مزید مشکل بنا دیتے ہیں۔
کرنسی کے معاملے میں بھی بحث جاری ہے۔ بعض بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی رپورٹس میں یہ تاثر دیا گیا ہے کہ پاکستانی روپیہ اپنی حقیقی قدر سے کم سطح پر ہے، جبکہ دوسری جانب یہ خدشہ بھی ظاہر کیا جاتا رہا ہے کہ آئی ایم ایف مزید ڈی ویلیوایشن کا مطالبہ کر سکتا ہے۔ کرنسی کی قدر میں مسلسل کمی نہ صرف مہنگائی میں اضافہ کرتی ہے بلکہ عوامی زندگی پر براہ راست اثر ڈالتی ہے۔
ان تمام مسائل کے باوجود سب سے زیادہ تشویشناک پہلو یہ ہے کہ پاکستان ابھی تک اس معاشی چکر سے نکلنے میں کامیاب نہیں ہو سکا جس میں ہر چند سال بعد اسے عالمی مالیاتی اداروں اور دوست ممالک کے دروازے پر جانا پڑتا ہے۔ اکثر اوقات خلیجی ممالک یا دیگر شراکت دار ممالک سے مالی مدد حاصل کر کے وقتی بحران کو ٹال دیا جاتا ہے، مگر بنیادی اصلاحات کی رفتار سست رہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب آئی ایم ایف کی کسی قسط میں تاخیر کی خبر آتی ہے تو پورا نظام ایک بار پھر غیر یقینی صورتحال میں چلا جاتا ہے۔
موجودہ حالات میں صورتحال مزید پیچیدہ اس لیے بھی ہے کہ پاکستان کو بیک وقت کئی داخلی اور خارجی چیلنجز کا سامنا ہے۔ دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ، سیاسی کشیدگی اور سرحدی تناؤ بھی معاشی استحکام کو متاثر کرتے ہیں۔ افغانستان، ایران اور بھارت کے ساتھ سرحدی حالات میں کشیدگی کا ماحول سرمایہ کاری کے لیے سازگار نہیں سمجھا جاتا۔ ایسے میں معاشی اصلاحات اور مالیاتی استحکام کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ جاتی ہے۔
اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان اس مسلسل انحصار کے دائرے سے نکل سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کے لیے محض عارضی مالیاتی پیکج کافی نہیں ہوں گے بلکہ گہرے اور مشکل فیصلے کرنا ہوں گے۔ ٹیکس نظام کو وسیع اور منصفانہ بنانا، سرکاری اخراجات میں حقیقی کمی، توانائی کے شعبے کی اصلاحات اور برآمدات کے نئے شعبوں کی ترقی ایسے اقدامات ہیں جو طویل مدت میں معیشت کو مضبوط بنا سکتے ہیں۔ اگر یہ اقدامات نہ کیے گئے تو ہر چند سال بعد یہی صورتحال دوبارہ سامنے آتی رہے گی جہاں پاکستان کو اپنی معیشت کو سہارا دینے کے لیے آئی ایم ایف یا دیگر عالمی مالیاتی اداروں کی طرف دیکھنا پڑے گا۔
فی الحال امید یہی کی جا رہی ہے کہ حکومت آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات میں پیش رفت کرے گی اور بالآخر یہ قسط جاری ہو جائے گی، کیونکہ اس کے بغیر مالیاتی دباؤ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ تاہم اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب پاکستان اپنی معیشت کو اس مقام تک لے جائے جہاں عالمی اداروں کی ایک قسط رک جانے سے پورا نظام لرز نہ اٹھے۔ جب تک ایسا نہیں ہوتا، تب تک ہر مالیاتی پیکج کے ساتھ یہی بے یقینی اور یہی سوالات بار بار سامنے آتے رہیں گے۔

