پاکستان کا فرسودہ نظام بمقابلہ بہترین اور مثالی تعلیمی نظام
پاکستان کا تعلیمی نظام انتہائی پسماندہ، فرسودہ اور غیر موثر ہے، جو نہ صرف معیار تعلیم کے لحاظ سے دنیا سے بہت پیچھے ہے بلکہ ملک کو مستقبل کے لیے قائدانہ صلاحیتوں سے بھی محروم کر رہا ہے۔ نصاب تعلیم پرانی روایات اور رٹے رٹائے نظام پر مبنی ہے، جس میں تنقیدی سوچ، تخلیقی صلاحیتیں اور عملی مہارتیں یکسر نظر انداز کی جاتی ہیں۔ سرکاری اسکولوں میں بنیادی سہولیات جیسے بجلی، پانی، فرنیچر اور لیبارٹریز کا شدید فقدان ہے، جبکہ اکثر اساتذہ کی تربیت ناکافی ہوتی ہے۔ امیر اور غریب کے درمیان تعلیمی تفریق بھی بڑھ رہی ہے، کیونکہ اچھے پرائیویٹ اسکول مہنگے ہونے کی وجہ سے عام عوام کی پہنچ سے باہر ہیں۔ اس کے علاوہ، تعلیمی بجٹ میں کمی، اقربا پروری، اور سیاسی مداخلت کی وجہ سے اصلاحات کا عمل سست ہے۔ نتیجتاً، پڑھے لکھے نوجوانوں میں بھی روزگار کے لیے ضروری ہنر موجود نہیں ہوتے، اور وہ ملک کی ترقی میں موثر کردار ادا کرنے سے قاصر رہتے ہیں۔ اگر فوری اور جامع اقدامات نہ کیے گئے تو پاکستان کا تعلیمی نظام قوم کو مزید پیچھے دھکیل دے گا۔
دنیا کے ترقی پذیر ممالک میں کچھ ایسے تعلیمی نظام موجود ہیں جو نہ صرف تعلیمی میدان میں کامیابی کے لیے تیار کرتے ہیں بلکہ شخصیت کی نشوونما اور عملی مہارتوں کے فروغ میں بھی معاون ثابت ہوتے ہیں۔ تعلیم کا مقصد صرف نصابی کتابوں تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ یہ ایک ایسا عمل ہونا چاہیے جو طالب علموں کی ذہنی، تخلیقی اور عملی صلاحیتوں کو پروان چڑھائے اور انہیں ایک ذمہ دار، باشعور اور پیداواری شہری بننے میں مدد دے۔
ایک مثالی تعلیمی نظام وہ ہوتا ہے جو رٹے بازی پر کم اور فہم و ادراک پر زیادہ زور دے۔ اس نظام میں طلبہ کو تنقیدی سوچ، مسئلہ حل کرنے کی مہارت، اور جدید سائنسی و تکنیکی علوم سے آراستہ کیا جاتا ہے۔ فِن لینڈ جیسا ملک، جو تعلیمی میدان میں مثالی تصور کیا جاتا ہے، اس بات کی بہترین مثال ہے کہ کس طرح ایک جامع تعلیمی نظام بچوں کی فطری صلاحیتوں کو نکھارتا ہے، ان میں تحقیق و تجزیے کا جذبہ پیدا کرتا ہے اور انہیں ایک بہتر شخصیت میں ڈھالتا ہے۔
ترقی پذیر ممالک میں سنگاپور، چین، بھارت، ملائیشیا، ویتنام، ترکی اور متحدہ عرب امارات جیسے ممالک نے اپنے تعلیمی نظام میں ایسی اصلاحات کی ہیں جو طلبہ کو کتابی علم سے زیادہ عملی مہارتوں پر مرکوز کرتی ہیں۔ سنگاپور میں تعلیمی نظام اس طرح ترتیب دیا گیا ہے کہ طلبہ محض ڈگری یافتہ نہ بنیں بلکہ عملی زندگی میں کامیاب بھی ہوں۔ وہاں قیادت، تخلیقی سوچ اور مہارتوں کی تربیت پر خاص زور دیا جاتا ہے۔ چین اور بھارت جیسے ممالک میں تعلیم کو ملکی ترقی کا بنیادی جزو سمجھا جاتا ہے، جہاں خاص طور پر سائنسی اور تکنیکی علوم کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ ان ممالک میں سرکاری سطح پر ایسی پالیسیاں اپنائی گئی ہیں جن کا مقصد طلبہ کو جدید ٹیکنالوجی اور ہنر مند بنانے پر توجہ دینا ہے۔
ایک اور اہم پہلو شخصیت سازی ہے، جسے اکثر ترقی پذیر ممالک میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ تعلیمی نظام کو اس انداز میں ترتیب دینا ضروری ہے کہ طلبہ میں خود اعتمادی، قائدانہ صلاحیت، تخلیقی سوچ، اور باہمی تعاون کی عادت پیدا ہو۔ مثلاً ملائیشیا اور ترکی میں تعلیمی نصاب کو عملی تجربات، تحقیقی منصوبوں اور گروپ ورک کے ساتھ مربوط کیا جاتا ہے تاکہ طلبہ میں قائدانہ اور سماجی صلاحیتوں کو پروان چڑھایا جا سکے۔ اسی طرح ویتنام اور انڈونیشیا میں تعلیم کے ساتھ ساتھ پیشہ ورانہ تربیت پر بھی خاص زور دیا جاتا ہے تاکہ نوجوان عملی زندگی میں داخل ہوتے ہی کسی بھی پیشے میں کامیابی حاصل کر سکیں۔
ترقی یافتہ ممالک کی کامیابی کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ وہ صرف اعلیٰ تعلیم پر توجہ نہیں دیتے بلکہ ہنر مند افرادی قوت کی تیاری کو بھی اپنی تعلیمی پالیسی کا حصہ بناتے ہیں۔ فن لینڈ، جرمنی اور جنوبی کوریا جیسے ممالک میں ووکیشنل ایجوکیشن یعنی فنی تعلیم کو بہت اہمیت دی جاتی ہے۔ اس سے طلبہ کو وہ عملی مہارتیں حاصل ہوتی ہیں جو انہیں روزگار کے بہتر مواقع فراہم کرتی ہیں۔ ترقی پذیر ممالک میں بھی اب یہ رجحان بڑھ رہا ہے، جیسے چین اور بھارت میں ٹیکنیکل انسٹیٹیوٹس قائم کیے جا رہے ہیں جو نوجوانوں کو مختلف فنی شعبوں میں مہارت فراہم کرتے ہیں۔
ایک اور پہلو جو بہترین تعلیمی نظام کو جنم دیتا ہے وہ تنقیدی سوچ اور مسئلہ حل کرنے کی مہارتوں کی تربیت ہے۔ اکثر ترقی پذیر ممالک میں نصاب کو رٹے بازی کے اصولوں پر ترتیب دیا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں طلبہ محض امتحان پاس کرنے کے قابل ہوتے ہیں مگر عملی دنیا میں کارآمد ثابت نہیں ہوتے۔ اس کے برعکس، مثالی تعلیمی نظام میں طلبہ کو مختلف مسائل کے حل کے لیے سوچنے، تجزیہ کرنے اور تخلیقی حل نکالنے کی تربیت دی جاتی ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ، مثالی تعلیمی نظام میں طلبہ کو عالمی معیار کے مطابق تیار کیا جانا ضروری ہے۔ اس کے لیے بین الاقوامی زبانوں، خاص طور پر انگریزی، کی تعلیم کو نصاب میں شامل کیا جانا چاہیے تاکہ طلبہ دنیا کے کسی بھی حصے میں جا کر کام کر سکیں۔ متحدہ عرب امارات نے اس حوالے سے اہم اقدامات کیے ہیں، جہاں بین الاقوامی نصاب کو ملکی تعلیمی پالیسی میں شامل کیا گیا ہے تاکہ وہاں کے طلبہ دنیا کے کسی بھی ملک میں مقابلہ کرنے کے قابل ہو سکیں۔
آخر میں، ایک کامیاب تعلیمی نظام وہی ہوتا ہے جو طلبہ کو محض نوکری کے لیے تیار نہ کرے بلکہ انہیں ایک باشعور، ذمہ دار اور معاشرے کے لیے مفید فرد بننے میں مدد دے۔ تعلیم کا بنیادی مقصد یہ ہونا چاہیے کہ وہ ایک فرد کو نہ صرف علم فراہم کرے بلکہ اس میں مہارتیں، قائدانہ صلاحیتیں، تنقیدی سوچ، اور عملی زندگی میں کامیاب ہونے کے گر بھی سکھائے۔ ترقی پذیر ممالک کو اپنے تعلیمی نظام میں وہی اصلاحات متعارف کرانی چاہئیں جو ترقی یافتہ ممالک کی کامیابی کی بنیاد بنی ہیں، تاکہ ان کے نوجوان بھی عالمی معیار کے مطابق تعلیم حاصل کر کے ایک روشن مستقبل کی طرف گامزن ہو سکیں۔