اسلام آباد پراپرٹی مارکیٹ

اسلام آباد کے ای، ایف اور جی سکیٹرز سرمایہ کاری کے لیے ہمیشہ محفوظ اور منافع بخش رہے ہیں اور مستقبل میں بھی یہ رجحان جاری رہنے کا امکان ہے۔ پچھلے بیس سالوں میں سی ڈی اے سیکٹرز کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور ایف سیکٹرز میں تو قیمتیں آٹھ سے دس گنا تک بڑھ گئی ہیں۔ اگرچہ مستقبل میں قیمتیں اسطرح بڑھنے کی اُمید نہیں مگر پھر بھی یہ اوپر کو ہی جائیں گی۔ کیونکہ یہ علاقے اب بھی اسلام آباد کے سب سے بہترین علاقے ہیں اس لیے ان کی قیمتیں اور کرایہ مستحکم رہنے کا امکان ہے۔

نئے پوش علاقے: ڈی 12 سی ڈی اے کا پوش علاقہ ہے۔ مارگلہ کے پہاڑوں کے دامن میں واقع یہ سیکٹر خوبصورت ہے۔ مگر اسلام آباد کی بیک پر ہونے کی وجہ سے ابھی یہ اسلام آباد سے کٹا ہوا ہے۔ پلاٹ اس سیکٹر میں خاصے مہنگے ہیں مگر آرمی کا ہیڈ آفس جو بہت تیزی سے تکمیل کے مراحل میں ہے کے مکمل ہونے کے بعد اس علاقے میں نمایاں تبدیلی آئیگی۔

پارک انکیو سیکٹر اسلام آباد کے ایک دوسے کونے پر واقع ہے۔ راول ڈیم سے آگے یہ علاقہ کسی زمانے میں پودوں کی نرسریوں کی وجہ سے مشہور تھا مگر اب یہ نرسریا ں ختم ہوتی جارہی ہیں۔ سی ڈی اے نے اب تک پارک انکلیو کے تین فیز عوام کے لیے کھولے ہیں جن میں سے فیز ون میں مکان بننا شروع ہوگے ہیں۔ کیونکہ یہ سیکڑ اسلام آباد کے دوسرے کونے پر ہے اسلیے یہ خاصہ پرسکون سمجھا جاتا ہے۔

آئی 14,15,16 کم لاگت کے رہائشی علاقہ ہیں۔ مگر سی ڈی اے نے ان سیکٹروں کو مکمل طور پر نظر انداز کیا ہوا ہے۔ ان سیکڑوں میں جانے کے لیے راستہ بھی مناسب نہیں ہے درحقیقت یہ سیکڑ اسلام آباد کی نسبت راولپنڈی کا حصہ لگتے ہیں۔ ان میں سے آئی 14 اور آئی 16 مکمل طور پر ڈیویلپ ہو چکے ہیں جبکہ آئی 15 میں ڈیویلپمنٹ کا کام جاری ہے۔ ان سیکٹرز میں اگرچہ پلاٹوں کی قیمتوں میں خاصہ اضافہ ہوا ہے لیکن ان سیکڑوں میں کمرشل علاقوں کے بننے، پشاور روڈ اور کشمیر ہائی وے سے رسائی کو بہتربنانے اور راولپنڈی رنگ روڈ کے بننے کے بعد یہاں پلاٹوں کی قیمت میں خاصہ اضافہ ہوگا۔ اگر سی ڈی اے اس علاقے کو توجہ دے تو کم آمدنی والے لوگوں کو خاصہ فائدہ ہوگا۔

G-13, G-14 بھی نئے سیکٹرز ہیں جو کے عوام میں خاصے مقبول ہیں۔ ان علاقوں میں پلاٹوں کی قیمتیں بہت اوپر چلی گئی ہیں۔ ان علاقوں میں ایک چار مرلہ کے پلاٹ کی قیمت اسوقت ایک کروڑ پچاس لاکھ تک جا چکی ہے۔ کشمیر ہائی وے سے داخل ہونے کے بعد یہ سیکڑ اسلام آباد کے پہلے سیکٹرز میں شُمار ہوں گے۔ ویسے تو سارے اسلام آباد میں پانی کا مسئلہ ہے مگران دو سیکٹروں میں یہ مسئلہ کافی گھمبیر ہے۔ G-13 میں تین بڑے ہاوسنگ کے پراجیکٹ بھی بن رہے ہیں جس میں پانچ ہزار سے زائد پلاٹ ہوں گے۔

مستقبل میں راولپنڈی رنگ روڈ کے بننے کے بعد کچھ علاقوں میں رسائی آسان ہو جائیگی۔ اسلیے پچھلے چند مہینوں میں ڈی ایچ اے فیز 3، بحیریہ فیز 7 اور 8 میں پلاٹوں کی قیمتوں میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔