Featured

مکان کی تلاش ایک خواب کیوں بنتی جا رہی ہے

پاکستان کے بڑے شہروں میں مکانات کی شدید قلت ایک خاموش مگر ہمہ گیر بحران کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ آبادی میں تیز رفتار اضافہ، دیہات سے شہروں کی جانب ہجرت، اور روزگار کے مواقع کا چند شہری مراکز تک محدود ہونا اس مسئلے کو مسلسل سنگین بنا رہا ہے۔ ایک وقت تھا جب متوسط طبقہ برسوں کی محنت کے بعد اپنا گھر بنانے کا خواب پورا کر لیتا تھا، مگر آج یہی خواب کرائے کے بوجھ اور غیر یقینی مستقبل کے نیچے دب چکا ہے۔

دلچسپ مگر افسوسناک پہلو یہ ہے کہ بظاہر ہر طرف ہاؤسنگ سوسائٹیاں ہی سوسائٹیاں نظر آتی ہیں، مگر اس کے باوجود عام آدمی کے لیے رہائش دستیاب نہیں۔ زرعی زمینیں تیزی سے کنکریٹ کے جنگل میں بدل دی گئیں، جس سے نہ صرف خوراک کی پیداوار متاثر ہوئی بلکہ زمین کی قیمتیں بھی آسمان سے باتیں کرنے لگیں۔ اس بے ہنگم پھیلاؤ نے شہروں کے انفراسٹرکچر پر اضافی دباؤ ڈالا، پانی، بجلی اور گیس جیسے وسائل پہلے سے زیادہ نایاب ہوتے چلے گئے۔

کرایوں میں حالیہ برسوں کے دوران غیر معمولی اضافہ اس بحران کی سب سے تلخ حقیقت ہے۔ ایک عام ملازم کی آمدنی کا بڑا حصہ صرف کرائے کی نذر ہو جاتا ہے، جس کے بعد تعلیم، صحت اور دیگر ضروریات پوری کرنا ایک مستقل جدوجہد بن جاتا ہے۔ رئیل اسٹیٹ مارکیٹ میں یہ تاثر عام ہے کہ کرائے مزید بڑھیں گے، جس نے لوگوں کو ذہنی دباؤ اور عدم تحفظ کے احساس میں مبتلا کر دیا ہے۔

اس صورتحال کے پیچھے بدانتظامی اور کرپشن کا کردار بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ متعدد ہاؤسنگ سوسائٹیاں برسوں پہلے فروخت کیے گئے پلاٹس کی ڈیولپمنٹ مکمل نہیں کر سکیں۔ فائلوں کا کاروبار پھلتا پھولتا رہا، مگر زمین پر نہ سڑک بنی، نہ سیوریج، نہ بجلی۔ خریدار اپنی جمع پونجی پھنسنے کے بعد قانونی پیچیدگیوں میں الجھ جاتے ہیں، جبکہ ذمہ دار عناصر کسی نہ کسی راستے سے بچ نکلتے ہیں۔

یہ شعبہ اپنی اصل روح میں معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ تعمیرات سے وابستہ درجنوں صنعتیں حرکت میں آتی ہیں، روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں اور ریاست کو بھاری محصولات حاصل ہو سکتے ہیں۔ بدقسمتی سے واضح پالیسیوں کی عدم موجودگی اور کمزور نگرانی نے اس پورے شعبے کو جمود کا شکار کر دیا ہے، جس کا خمیازہ عام شہری بھگت رہا ہے۔

اصل ضرورت اب آدھے اقدامات یا وقتی بیانات کی نہیں بلکہ فیصلہ کن اصلاحات کی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ جعلی اور بدعنوان ہاؤسنگ سوسائٹیوں کا کڑا احتساب کرے اور ایسی واضح مدت مقرر کرے جس کے اندر ہر سوسائٹی کو پلاٹس کی مکمل ڈیولپمنٹ کر کے مالکان کے حوالے کرنا لازمی ہو۔ اسی طرح، جب پلاٹ تعمیر کے قابل ہو جائے تو مکان بنانے کے لیے بھی ایک معقول ٹائم فریم مقرر کیا جانا چاہیے، تاکہ زمین خالی پڑی رہنے کے بجائے رہائش میں تبدیل ہو اور مصنوعی قلت ختم ہو۔ سخت جرمانے اور مؤثر قانون سازی کے بغیر یہ ممکن نہیں۔ زرعی زمین کے تحفظ، کرایوں کے توازن، شفاف ریگولیٹری نظام اور سستی رہائش کے منصوبوں کو ایک جامع پالیسی میں سموئے بغیر حالات بہتر نہیں ہوں گے۔ اگر اس شعبے کو درست سمت دی جائے تو نہ صرف اربوں روپے کی معاشی سرگرمی پیدا ہو سکتی ہے بلکہ لاکھوں خاندانوں کو وہ سکون مل سکتا ہے جسے ہم گھر کہتے ہیں۔