خلیجی جنگ اور پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر پر منڈلاتا خطرہ
مشرق وسطیٰ میں ایران پر ممکنہ امریکی اور اسرائیلی حملے کی خبریں اور اس کے نتیجے میں خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی صرف ایک جغرافیائی یا عسکری معاملہ نہیں بلکہ اس کے اثرات پوری عالمی معیشت پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ خاص طور پر وہ ممالک جو توانائی کے درآمد کنندہ ہیں اور جن کی معیشت پہلے ہی دباؤ کا شکار ہے، ان کے لیے یہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہو سکتی ہے۔ پاکستان بھی انہی ممالک میں شامل ہے۔ اگر یہ تنازعہ وسیع پیمانے پر پھیلتا ہے اور خلیجی ممالک اس میں براہ راست یا بالواسطہ طور پر شامل ہو جاتے ہیں تو پاکستان کی معاشی مشکلات میں غیر معمولی اضافہ ہو سکتا ہے۔
پاکستان کی معیشت اس وقت بھی مکمل طور پر مستحکم نہیں ہے۔ گزشتہ سال سے ملک کو بڑھتے ہوئے تجارتی خسارے کا سامنا ہے۔ اگرچہ موجودہ معاشی انتظامیہ نے وقتی طور پر کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو قابو میں رکھنے کی کوشش کی، لیکن اب دوبارہ درآمدات میں اضافے اور آئی ایم ایف کی بعض شرائط کے باعث تجارتی خسارہ بڑھنے لگا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ زرعی پیداوار میں کمی نے بھی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ پاکستان ایک زرعی ملک ہونے کے باوجود گزشتہ چند برسوں میں گندم، کپاس اور دیگر اجناس کی کم پیداوار کے باعث درآمدات پر زیادہ انحصار کرنے لگا ہے، جس سے زرمبادلہ پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔
یہ بات یاد رکھنا ضروری ہے کہ 2021 میں پاکستان عملی طور پر دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچ چکا تھا۔ اس وقت اگر چین، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور چند دیگر دوست ممالک مالی مدد نہ کرتے تو پاکستان کی معیشت شدید بحران کا شکار ہو سکتی تھی۔ اس صورتحال کو ایک انتباہ سمجھ کر معیشت میں بنیادی اصلاحات کی جانی چاہئیں تھیں۔ بدقسمتی سے ایسا نہیں ہوا اور وقتی سہارا ملنے کے بعد معیشت کو دوبارہ اسی ڈگر پر چھوڑ دیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان آج بھی بیرونی مدد اور قرضوں پر غیر معمولی حد تک انحصار کر رہا ہے۔
ایران پر ممکنہ حملے کی صورت میں سب سے بڑا اثر عالمی توانائی منڈی پر پڑ سکتا ہے۔ اگر خلیج فارس میں کشیدگی بڑھتی ہے اور آبنائے ہرمز جیسی اہم گزرگاہ متاثر ہوتی ہے تو عالمی سطح پر تیل اور گیس کی سپلائی بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔ دنیا کے ایک بڑے حصے کی تیل کی تجارت اسی راستے سے گزرتی ہے۔ اگر یہ راستہ بند ہو جاتا ہے یا اس میں رکاوٹ آتی ہے تو تیل کی قیمتیں تیزی سے بڑھ سکتی ہیں۔ بعض تجزیہ کار پہلے ہی یہ اندازہ لگا رہے ہیں کہ تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی اوپر جا سکتی ہے۔
پاکستان کے لیے یہ صورتحال انتہائی خطرناک ہو سکتی ہے کیونکہ ملک کی درآمدی بل کا تقریباً نصف حصہ توانائی سے متعلقہ مصنوعات پر مشتمل ہوتا ہے۔ تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ براہ راست پاکستان کے درآمدی بل کو بڑھا دے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کو پہلے سے زیادہ ڈالر خرچ کرنا پڑیں گے جبکہ ملک کے پاس زرمبادلہ کے ذخائر پہلے ہی محدود ہیں۔ اس طرح تجارتی خسارہ تیزی سے بڑھ سکتا ہے اور کرنٹ اکاؤنٹ پر شدید دباؤ پڑ سکتا ہے۔
اس کے ساتھ ایک اور اہم مسئلہ ایل این جی کی سپلائی کا ہے۔ اطلاعات یہ بھی سامنے آ رہی ہیں کہ قطر نے آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش کے باعث معاہدے کے تحت گیس فراہم کرنے میں مشکلات کا عندیہ دیا ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو پاکستان کو توانائی کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ گیس کی کمی کا براہ راست اثر صنعتوں اور بجلی کی پیداوار پر پڑے گا، جس سے صنعتی سرگرمیاں متاثر ہوں گی اور برآمدات میں کمی آ سکتی ہے۔
اس بحران کا دوسرا بڑا پہلو خلیجی ممالک میں کام کرنے والے پاکستانیوں سے جڑا ہوا ہے۔ خلیج کی معیشتیں بڑی حد تک توانائی اور تجارت پر مبنی ہیں۔ اگر جنگ کی وجہ سے کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں یا بعض صنعتیں عارضی طور پر بند ہو جاتی ہیں تو وہاں کام کرنے والے لاکھوں غیر ملکی کارکنوں کی ملازمتیں خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔ پاکستان کے لاکھوں شہری سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت اور عمان میں کام کر رہے ہیں۔ اگر ان میں سے بڑی تعداد بے روزگار ہو جاتی ہے تو اس کا براہ راست اثر پاکستان کو ملنے والی ترسیلات زر پر پڑے گا۔
پاکستان کی معیشت میں ترسیلات زر کی اہمیت غیر معمولی ہے۔ بعض برسوں میں یہ برآمدات سے بھی زیادہ ہو جاتی ہیں۔ اگر خلیجی ممالک میں معاشی سرگرمیوں میں کمی آتی ہے اور پاکستانی کارکنوں کی آمدنی متاثر ہوتی ہے تو ترسیلات زر میں کمی آ سکتی ہے۔ اس طرح پاکستان کو ایک ساتھ دو بڑے دھچکے لگ سکتے ہیں۔ ایک طرف توانائی کی درآمدات مہنگی ہوں گی اور دوسری طرف ڈالر کی آمد کم ہو جائے گی۔
ایک اور تشویشناک پہلو پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کی نوعیت ہے۔ بظاہر ذخائر کی جو رقم نظر آتی ہے اس کا بڑا حصہ دراصل قرض یا عارضی ڈپازٹس پر مشتمل ہوتا ہے۔ چین، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے مختلف مواقع پر پاکستان کو مالی سہارا دیا ہے۔ اگر خطے میں سیاسی یا معاشی حالات بدلتے ہیں تو یہ ممالک اپنے مالی مفادات کو دیکھتے ہوئے مختلف فیصلے کر سکتے ہیں۔ پہلے ہی یہ خبریں سامنے آ چکی ہیں کہ متحدہ عرب امارات نے اپنے ڈپازٹس کے رول اوور کی مدت سالانہ کے بجائے ماہانہ کر دی ہے۔ یہ تبدیلی بظاہر ایک تکنیکی معاملہ لگتی ہے مگر معاشی ماہرین اسے ایک محتاط اشارہ سمجھتے ہیں۔
اگر خلیجی خطے میں کشیدگی بڑھتی ہے تو ان ممالک کی ترجیحات بھی بدل سکتی ہیں۔ ایسے حالات میں پاکستان کو مالی سہارا دینا ان کے لیے آسان فیصلہ نہیں ہوگا۔ بدترین صورتحال میں پاکستان سے یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ وہ بعض مالی واجبات جلد واپس کرے یا نئے ڈپازٹس فراہم نہ کیے جائیں۔ اس سے پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر پر فوری دباؤ پڑ سکتا ہے۔
ان تمام خدشات کے پیش نظر اصل سوال یہ نہیں کہ جنگ ہوگی یا نہیں بلکہ یہ ہے کہ اگر عالمی حالات اچانک تبدیل ہو جائیں تو کیا پاکستان اس جھٹکے کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ بدقسمتی سے حقیقت یہ ہے کہ ہماری معیشت ابھی تک بیرونی سہارا، قرضوں اور درآمدات پر کھڑی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کسی بھی عالمی بحران کا سب سے زیادہ اثر پاکستان جیسے ممالک پر پڑتا ہے۔
ایسے حالات میں پاکستان کے پالیسی سازوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ فوری اور سنجیدہ اقدامات کریں۔ سب سے پہلے غیر ضروری درآمدات کو سختی سے محدود کرنا ہوگا۔ ماضی میں بھی کئی بار عارضی پابندیاں لگائی گئیں مگر کچھ عرصے بعد انہیں نرم کر دیا گیا۔ اگر عالمی سطح پر توانائی کا بحران پیدا ہوتا ہے تو پاکستان کو اپنے درآمدی بل کو کم سے کم سطح پر رکھنے کی حکمت عملی اپنانا ہوگی۔ اس کے ساتھ ساتھ مقامی توانائی کے وسائل کو تیزی سے فروغ دینا ہوگا۔ کوئلہ، پن بجلی، شمسی توانائی اور ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں کو صرف اعلانات تک محدود رکھنے کے بجائے عملی طور پر تیز کرنا ہوگا۔
اس کے علاوہ صنعتی پالیسی کو بھی ازسرنو ترتیب دینے کی ضرورت ہے تاکہ وہ صنعتیں فروغ پائیں جو برآمدات بڑھا سکیں اور درآمدات کو کم کر سکیں۔ زرعی شعبے کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کیونکہ خوراک کی درآمدات بھی زرمبادلہ پر بڑا بوجھ ڈالتی ہیں۔ اگر گندم، دالیں اور تیل دار اجناس مقامی سطح پر زیادہ پیدا ہوں تو درآمدی بل میں نمایاں کمی آ سکتی ہے۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ پاکستان کو اپنی معاشی پالیسی کو بیرونی امداد کے سہارے سے نکال کر خود انحصاری کی طرف لے جانا ہوگا۔ ہر چند سال بعد آئی ایم ایف کے پاس جانا اور دوست ممالک سے ڈپازٹس حاصل کرنا ایک مستقل معاشی حکمت عملی نہیں ہو سکتی۔ اگر معیشت کو واقعی مستحکم بنانا ہے تو ہمیں مشکل مگر ضروری فیصلے کرنے ہوں گے۔ غیر ضروری اخراجات میں کمی، ٹیکس نظام کی اصلاح، توانائی کے مقامی وسائل کا استعمال اور برآمدات میں اضافہ وہ اقدامات ہیں جو پاکستان کو مستقبل کے بحرانوں سے محفوظ بنا سکتے ہیں۔
اگر یہ اقدامات نہ کیے گئے تو خدشہ ہے کہ کسی بڑے عالمی بحران کی صورت میں پاکستان دوبارہ اسی صورتحال کے قریب پہنچ سکتا ہے جس کا سامنا اسے 2021 میں کرنا پڑا تھا۔ اس بار شاید حالات زیادہ پیچیدہ ہوں اور مدد کے دروازے بھی پہلے کی طرح آسانی سے نہ کھلیں۔ اسی لیے وقت کا تقاضا ہے کہ پاکستان اپنی معاشی پالیسی کو فوری طور پر مضبوط، خود مختار اور طویل مدتی بنیادوں پر استوار کرے تاکہ عالمی سیاست کے طوفان ہماری معیشت کو بار بار ہلا نہ سکیں۔

