صحت بمقابلہ منافع: خوراک میں ملاوٹ کا بڑھتا ہوا رجحان
آج کے سخت معاشی ماحول میں کاروبار چلانا یقیناً آسان نہیں رہا۔ مگر بدقسمتی سے اس مشکل دور میں کئی تاجر اور کاروباری حضرات نے منفی اور غیر اخلاقی طریقے اپنا کر دولت کمانے کو معمول بنا لیا ہے۔ ان میں سب سے خطرناک عمل خوراک اور دودھ کی ملاوٹ ہے، جو براہِ راست عوام کی صحت سے کھیلنے کے مترادف ہے۔
حال ہی میں پنجاب فوڈ اتھارٹی نے جعلی اور ملاوٹ شدہ دودھ تیار کرنے والی فیکٹریوں کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا ہے۔ لاہور میں ایسی متعدد فیکٹریاں پکڑی گئی ہیں جو روزانہ لاکھوں لیٹر مصنوعی دودھ تیار کر کے مارکیٹ میں فروخت کر رہی تھیں۔ رپورٹوں کے مطابق یہ دودھ دراصل کیمیکل، ناقص سبزیوں کے تیل، اور غیر معیاری خشک دودھ کا آمیزہ ہوتا ہے، جس میں دودھ جیسا رنگ اور ذائقہ پیدا کرنے کے لیے مختلف خطرناک کیمیکل شامل کیے جاتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ایسے اجزاء انسانی جگر، گردوں اور دل کے لیے نہایت نقصان دہ ہیں۔
یہ افسوسناک حقیقت ہے کہ پاکستان میں دودھ ہی نہیں بلکہ تقریباً تمام غذائی اشیاء میں ملاوٹ عام ہے۔ گوشت میں مردہ یا بیمار جانوروں کا گوشت فروخت ہونا، مسالوں میں رنگ اور مٹی کا استعمال، مشروبات میں کیمیکل کی آمیزش اور دیگر اشیائے خوردونوش میں غیر معیاری اجزاء کی موجودگی ایک معمول بن چکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پنجاب اور دیگر صوبوں میں جگر، گردوں، دل اور معدے کے امراض تیزی سے پھیل رہے ہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف عوامی صحت کے لیے خطرہ ہے بلکہ پہلے سے دباؤ میں موجود ہمارے صحت کے نظام پر اضافی بوجھ ڈال رہی ہے۔
قابلِ غور بات یہ ہے کہ ایسے سنگین جرائم میں ملوث افراد کو صرف چند ہزار روپے جرمانے کے بعد دوبارہ کاروبار جاری رکھنے کی اجازت دے دی جاتی ہے۔ اگر ان کے لیے سخت سزائیں، جیسے بھاری جرمانے، قید، یا لائسنس کی مستقل منسوخی نافذ کی جائیں تو حالات میں بہتری ممکن ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں خوراک میں ملاوٹ کو سنگین جرم سمجھا جاتا ہے، اور اس پر سخت سزائیں دی جاتی ہیں۔ پاکستان میں بھی اسی طرز کی سخت کارروائی کی ضرورت ہے تاکہ عوامی صحت کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
دودھ کی قیمت کے حوالے سے بھی ایک حقیقت یہ ہے کہ موجودہ مہنگائی کے دور میں خالص دودھ کی لاگت تین سو روپے فی لیٹر کے قریب پہنچ چکی ہے۔ جب فیڈ، بجلی، ٹرانسپورٹ، کرایہ اور دیگر اخراجات شامل کیے جائیں تو سستا خالص دودھ فروخت کرنا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کئی دکاندار اور سپلائر منافع برقرار رکھنے کے لیے ملاوٹ کا سہارا لیتے ہیں۔
پنجاب حکومت کا ملاوٹ شدہ اشیائے خوردونوش کے خلاف کریک ڈاؤن ایک خوش آئند اقدام ہے، مگر اسے وقتی مہم کے بجائے مستقل پالیسی کی صورت میں جاری رکھنا ضروری ہے۔ حکومت کو نہ صرف چھوٹی فیکٹریوں بلکہ بڑی کمپنیوں کے معیارات بھی چیک کرنے چاہئیں۔ اس کے ساتھ ساتھ عوام میں آگاہی مہمات چلانا، حفظانِ صحت کے اصولوں پر عملدرآمد، اور خوراک کی خالص فراہمی کو یقینی بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
صاف ستھرا ماحول، خالص خوراک اور صحت مند جسم کسی بھی معاشرے کی بنیاد ہوتے ہیں۔ اگر ہم نے اس مسئلے کو سنجیدگی سے نہ لیا تو آنے والی نسلیں اس کے نتائج بھگتیں گی۔ وقت کا تقاضا ہے کہ حکومت، عدلیہ، میڈیا اور عوام مل کر خوراک میں ملاوٹ کے خلاف سخت ترین اقدامات کریں تاکہ ایک صحت مند اور محفوظ پاکستان تشکیل دیا جا سکے۔

