تعلیم، صنعت، زراعت اور آئی ٹی: کیسے صوبائی حکومت عوام کی زندگی بدل سکتی ہے؟
حکومتِ پنجاب کی حالیہ کوششیں قابلِ تحسین ہیں، جن میں صفائی، فضلہ مینجمنٹ، سڑکوں کی تعمیر اور ٹرانسپورٹ کے نظام کو بہتر بنانے جیسے اقدامات شامل ہیں۔ یہ اقدامات یقیناً شہری سہولیات کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور لوگوں کی روزمرہ زندگی میں آسانی پیدا کرتے ہیں۔ بہتر انفراسٹرکچر، صاف ستھرا ماحول اور منظم ٹرانسپورٹ سسٹم کسی بھی صوبے کی ترقی کے لیے لازمی عوامل ہیں۔ حکومت کی یہ کاوشیں مثبت سمت میں ایک قدم ہیں، تاہم ترقی اور خوشحالی کے اصل پیمانے کا تعین کسی علاقے میں روزگار کے مواقع، معاشی ترقی اور عوام کی فلاح و بہبود سے کیا جاتا ہے۔
اصل مسئلہ جو سب سے زیادہ توجہ کا مستحق ہے، وہ روزگار کے مواقع کی فراہمی ہے۔ اگر کسی علاقے کے لوگوں کے پاس روزگار کے مواقع نہ ہوں، تو سڑکیں، پل، بسیں اور صفائی کے اقدامات زیادہ دیر تک فائدہ مند ثابت نہیں ہو سکتے۔ دنیا کے ترقی یافتہ شہروں اور علاقوں کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ صرف ایک شہر، سان فرانسسکو، کی مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) پاکستان کی مجموعی جی ڈی پی سے دس گنا زیادہ ہے۔ اسی طرح بھارت کی ریاستیں مہاراشٹر، تمل ناڈو، اتر پردیش اور گجرات کی جی ڈی پی پاکستان کے برابر یا اس سے زیادہ ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ معاشی ترقی اور لوگوں کی خوشحالی کا تعلق براہِ راست روزگار کے مواقع اور معیشت کی وسعت سے ہے، نہ کہ صرف انفراسٹرکچر کی بہتری سے۔
معاشی ترقی اور روزگار کے مواقع میں اضافہ کیسے کیا جا سکتا ہے؟ اس کے لیے سب سے پہلے تعلیمی نظام میں بہتری لانا ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ زراعت کے شعبے کو درپیش مسائل کا حل، صنعتی ترقی، سیاحت کے فروغ اور فریٹ لاگت میں کمی جیسے اقدامات کرنے ہوں گے۔ اگر ایک صوبے میں تعلیم کا معیار بہتر ہو، زراعت ترقی کرے، صنعت پھلے پھولے اور سیاحت کو فروغ دیا جائے تو اس سے معیشت مضبوط ہوگی اور لوگوں کے لیے بہتر روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔
تعلیم کو ہنر پر مبنی بنایا جانا چاہیے نہ کہ محض روایتی اور غیر عملی تعلیمی نصاب پر انحصار کیا جائے۔ پاکستان کا موجودہ تعلیمی نظام معیار کے لحاظ سے انتہائی پست ہے، جس میں سرکاری تعلیمی ادارے زوال کا شکار ہیں اور نجی ادارے عوام کو لوٹ رہے ہیں۔ اس مسئلے کا واحد حل یہ ہے کہ تعلیمی معیار کو بہتر بنایا جائے اور تعلیم کو عملی مہارتوں کے ساتھ منسلک کیا جائے۔ طلبہ کو ایسی مہارتیں سکھائی جائیں جو ان کے روزگار کے امکانات کو بڑھائیں، جیسے کہ مواصلاتی مہارتیں اور ہر شعبے میں تکنیکی مہارتوں پر توجہ دی جائے۔ مذہبی تعلیم لازمی ہونی چاہیے، لیکن اسے الگ سے سکھایا جانا چاہیے تاکہ دیگر مضامین پر اس کا اثر نہ پڑے۔
کاروباری سرگرمیوں کو بہتر بنانے کے لیے سب سے اہم قدم مینوفیکچرنگ کے شعبے کو ترقی دینا ہے۔ اگر صنعتیں ترقی کریں گی تو اس سے نہ صرف ملکی جی ڈی پی میں اضافہ ہوگا بلکہ دیگر کئی شعبوں کو بھی فائدہ پہنچے گا اور بے روزگاری کم ہوگی۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ عوامی نجی شراکت داری (پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ) کے تحت بڑے منصوبے شروع کرے تاکہ سرمایہ کاری بڑھے اور صنعتی ترقی کو فروغ حاصل ہو۔
کسانوں کی مشکلات کم کرنے کے لیے حکومت کو زرعی اجناس کے ذخیرہ کرنے کی سہولیات مہیا کرنی چاہئیں تاکہ وہ اپنی پیداوار کو مناسب قیمت پر فروخت کر سکیں۔ اس کے علاوہ کسانوں کو جدید ٹیکنالوجی، بہتر بیج، کھاد، پانی اور زرعی قرضے آسان شرائط پر فراہم کیے جائیں تاکہ وہ اپنی پیداوار کو بہتر بنا سکیں۔ زرعی مصنوعات کو برآمد کرنے کے مواقع پیدا کیے جائیں تاکہ مقامی کسان عالمی مارکیٹ میں بھی اپنی جگہ بنا سکیں۔
حکومت کو آئی ٹی کے شعبے پر بھی بھرپور توجہ دینی چاہیے۔ پاکستان میں سافٹ ویئر انڈسٹری کو ترقی دینے کے ساتھ ساتھ ہارڈ ویئر کی صنعت کو بھی فروغ دیا جائے۔ یہاں تک کہ ابتدائی سطح پر سیمی کنڈکٹرز کی پیداوار کا آغاز کیا جا سکتا ہے تاکہ ملک میں ٹیکنالوجی کے میدان میں خودکفالت حاصل کی جا سکے۔ اس کے علاوہ دیگر شعبے بھی ہیں جو عوام کی معاشی خوشحالی میں کردار ادا کر سکتے ہیں، جیسے کہ فری لانسنگ، ای کامرس، برآمدی صنعت، اور گرین انرجی کے منصوبے۔
اگر حکومت واقعی عوام کی فلاح و بہبود چاہتی ہے تو اسے انفراسٹرکچر کے ساتھ ساتھ معیشت کے دیگر پہلوؤں پر بھی بھرپور توجہ دینی ہوگی۔ لوگوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنا، تعلیمی نظام میں بہتری لانا، صنعتی ترقی کو فروغ دینا، زرعی مسائل کا حل نکالنا، اور آئی ٹی کے میدان میں آگے بڑھنا ہی اصل ترقی کے ضامن ہیں۔ ایک مضبوط اور خوشحال صوبہ وہی ہوگا جہاں عوام کی زندگی بہتر ہو، انہیں روزگار ملے، اور وہ خود انحصاری کی راہ پر گامزن ہوں۔