پنجاب میں ثقافت کی بحالی کے بعد روزگار کا سوال
پنجاب میں پی ایم ایل این کے اقتدار میں آنے کے بعد سب سے نمایاں تبدیلی صوبے کی انتظامی گرفت میں نظر آتی ہے۔ ایک ایسا صوبہ جو پچھلے چند برسوں میں بدانتظامی، غیر یقینی صورتِ حال اور ادارہ جاتی کمزوری کا شکار تھا، وہاں اب سرکاری مشینری حرکت میں دکھائی دیتی ہے۔ بیوروکریسی میں فیصلہ سازی کا عمل تیز ہوا ہے، ضلعی انتظامیہ دوبارہ متحرک نظر آتی ہے اور فیلڈ میں ریاست کی موجودگی واضح محسوس ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قانون و نظم و ضبط کی مجموعی صورتحال میں بہتری کا تاثر عام ہو رہا ہے، جو کسی بھی حکومت کے لیے بنیادی شرط سمجھی جاتی ہے۔
شہری نظم و نسق کے محاذ پر سب سے نمایاں تبدیلی صفائی اور خوبصورتی کے حوالے سے سامنے آئی ہے۔ وہ شہر جو کچھ عرصہ پہلے تک کچرے، بدبو اور ٹوٹے انفراسٹرکچر کی علامت بن چکے تھے، اب آہستہ آہستہ ایک مختلف تصویر پیش کر رہے ہیں۔ یہ بحالی صرف لاہور تک محدود نہیں رہی بلکہ راولپنڈی، فیصل آباد، گوجرانوالہ، سیالکوٹ اور دیگر بڑے و چھوٹے شہروں میں بھی صفائی اور سڑکوں کی حالت بہتر بنانے پر توجہ دی جا رہی ہے۔ بازاروں کی بحالی، فٹ پاتھوں کی صفائی، تجاوزات کے خاتمے اور تاریخی عمارتوں کو نمایاں کرنے کی کوششیں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ حکومت شہروں کو دوبارہ رہنے کے قابل بنانے کی سمت میں سنجیدہ ہے۔ لاہور میں یہ تبدیلی زیادہ نمایاں ہے جہاں عمارتوں کی اصل خوبصورتی اب دوبارہ سامنے آ رہی ہے اور شہر کا مجموعی تاثر بتدریج ایک جدید مگر ثقافتی شناخت رکھنے والے شہر میں بدل رہا ہے۔
ثقافتی اور سماجی سرگرمیوں کی بحالی میں سب سے زیادہ توجہ جس اقدام نے حاصل کی وہ بسنت کا انعقاد تھا۔ برسوں بعد اس تہوار کو منظم انداز میں واپس لانا ایک بڑا انتظامی امتحان تھا، جسے پنجاب حکومت نے بُہت کامیابی سے عبور کیا۔ یہ صرف ایک تہوار نہیں تھا بلکہ یہ پیغام بھی تھا کہ ریاست شہریوں کو خوشی، ثقافت اور اجتماعی سرگرمیوں کا حق واپس دینا چاہتی ہے۔ اس ایونٹ میں ملک بھر سے لوگوں کی شرکت اور بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی آمد نے ثابت کیا کہ اگر ماحول سازگار ہو تو پاکستان میں بڑے عوامی ایونٹس کی گنجائش موجود ہے۔ خاص طور پر ایسے وقت میں جب اسلام آباد میں سیکیورٹی خدشات کے باعث کئی تقریبات منسوخ ہو چکی تھیں، بسنت کا کامیاب انعقاد پنجاب حکومت کے اعتماد اور انتظامی صلاحیت کا مظہر سمجھا گیا۔ اسی تناظر میں کھیلوں کے مقابلوں اور سرگرمیوں کو بحال کرنے کی کوششیں بھی اہم ہیں، کیونکہ ایک زندہ معاشرہ صرف سڑکوں اور عمارتوں سے نہیں بلکہ کھیل، ثقافت اور تفریح سے بنتا ہے۔
خوراک میں ملاوٹ کے خلاف کارروائیاں بھی موجودہ حکومت کے ایجنڈے کا حصہ ہیں۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جو براہِ راست عوامی صحت سے جڑا ہوا ہے اور برسوں سے نظرانداز ہوتا رہا۔ اگر یہ مہم مستقل مزاجی سے جاری رکھی گئی تو اس کے اثرات طویل مدت میں صحت کے شعبے پر مثبت انداز میں ظاہر ہو سکتے ہیں۔
تاہم، ان تمام اقدامات کے باوجود اصل امتحان ابھی باقی ہے اور وہ ہے پنجاب کی معیشت اور عوام کے روزگار کا سوال۔ صفائی، ثقافت اور شہری خوبصورتی اہم ہیں، مگر کسی بھی حکومت کی حقیقی کامیابی کا پیمانہ لوگوں کا معاشی استحکام ہوتا ہے۔ اسی نکتے پر آ کر پنجاب حکومت کو اپنی توجہ مرکوز کرنا ہوگی۔ دنیا کی مثالیں واضح ہیں، جیسے نیدرلینڈز، جو رقبے اور آبادی میں پنجاب سے کہیں چھوٹا ہونے کے باوجود زرعی معیشت اور ویلیو ایڈڈ مصنوعات کے ذریعے عالمی سطح پر نمایاں مقام رکھتا ہے۔ پنجاب کے پاس زرخیز زمین، محنتی کسان اور ایک طویل زرعی روایت موجود ہے، مگر خام مال بیچنے کی بجائے اگر زرعی پیداوار کو پراسیسنگ، پیکجنگ اور برآمدات سے جوڑا جائے تو دیہی معیشت میں حقیقی انقلاب آ سکتا ہے۔
اسی طرح کاٹیج انڈسٹری کی بحالی ایک اور کلیدی شعبہ ہے۔ گوجرانوالہ اور سیالکوٹ جیسے شہر کبھی چھوٹی صنعتوں، ہنر اور مقامی پیداوار کی بدولت معاشی سرگرمیوں کا مرکز تھے۔ اگر حکومت ان صنعتوں کو سستے قرضے، جدید ٹیکنالوجی اور مارکیٹ تک رسائی فراہم کرے تو ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں روزگار کے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔ تعلیم کے شعبے میں اصلاحات اس پورے عمل کی بنیاد ہیں۔ سرکاری اور نجی دونوں شعبوں میں معیارِ تعلیم زوال کا شکار ہے اور نجی ادارے بھی اکثر فرسودہ نصاب اور کمزور تربیت فراہم کر رہے ہیں۔ اگر تعلیم کو معیشت، ہنر اور مارکیٹ کی ضرورتوں سے جوڑا نہ گیا تو تمام ترقیاتی منصوبے عارضی ثابت ہوں گے۔
اصل کامیابی اسی دن کہلائے گی جب مسلم لیگ ن کی حکومت پنجاب کو صرف صاف ستھرا اور خوبصورت نہیں بلکہ معاشی طور پر مضبوط، تعلیمی طور پر باخبر اور سماجی طور پر متوازن صوبہ بنانے میں کامیاب ہو جائے گی۔ ثقافت، کھیل، صحت اور سیکیورٹی کے ساتھ ساتھ سب سے اہم سوال عوام کے روزگار اور عزتِ نفس کے ساتھ جڑی معیشت کا ہے۔ اگر اس سمت میں ٹھوس اور دیرپا اقدامات کیے گئے تو موجودہ دور کو پنجاب کی بحالی کا حقیقی موڑ کہا جا سکے گا۔

