رواں مالی سال میں پاکستان میں دو ارب ڈالر مالیت کے موبائل فون کی درآمد متوقع
پاکستان میں موبائل فونز کی بڑی مقدار میں درآمد ملک کے قیمتی زرمبادلہ کے ذخائر کو ضائع کرنے کا باعث بن رہی ہے۔ ہر سال پاکستان اربوں ڈالرز کے موبائل فونز درآمد کرتا ہے، جو ملکی معیشت پر بوجھ ڈالتا ہے۔ 2022-23 کے دوران، پاکستان نے صرف موبائل فونز کی درآمد پر تقریباً 1.5 ارب ڈالر سے زائد رقم خرچ کی۔ یہ زرمبادلہ دیگر ترقیاتی منصوبوں یا صنعتوں میں استعمال ہو سکتا تھا۔ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے پاکستان کو مقامی موبائل فون مینوفیکچرنگ کو فروغ دینا چاہیے، ٹیکنالوجی ٹرانسفر کو آسان بنانا چاہیے، اور غیر قانونی درآمدات پر سختی سے پابندی لگانی چاہیے۔ اس کے علاوہ، حکومت کو چاہیے کہ وہ مقامی کمپنیوں کو مراعات دے اور ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ میں سرمایہ کاری بڑھائے تاکہ مقامی سطح پر معیاری فونز تیار کیے جا سکیں اور درآمدات پر انحصار کم ہو۔
پاکستان میں موبائل فون کی صنعت کا آغاز 2000 کی دہائی میں ہوا، جب زیادہ تر فونز درآمد کیے جاتے تھے۔ تاہم، گذشتہ چند سالوں میں حکومتی پالیسیوں اور مراعات کی بدولت، کئی بین الاقوامی اور مقامی کمپنیوں نے پاکستان میں موبائل فونز کی اسمبلی اور مینوفیکچرنگ کے پلانٹس قائم کیے ہیں۔ اس سے نہ صرف روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں بلکہ ٹیکنالوجی کے شعبے میں خود انحصاری کی راہ ہموار ہوئی ہے۔
2020 میں، پاکستان کی حکومت نے "موبائل فون مینوفیکچرنگ پالیسی” متعارف کرائی، جس کا مقصد غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنا اور مقامی پیداوار کو فروغ دینا تھا۔ اس پالیسی کے تحت، کمپنیوں کو ٹیکس چھوٹ اور دیگر مراعات دی گئیں، جس کے نتیجے میں چائنا، سام سنگ، اور دیگر بڑے برانڈز نے پاکستان میں اپنے پلانٹس لگانے شروع کر دیے۔
موبائل فون انڈسٹری کی ترقی نے نہ صرف صارفین کو سستی اور معیاری ڈیوائسز فراہم کی ہیں بلکہ ہزاروں افراد کو روزگار کے مواقع بھی فراہم کیے ہیں۔ اسمبلی لائنز، کوالٹی کنٹرول، اور ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ کے شعبوں میں نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے دروازے کھلے ہیں۔ اس کے علاوہ، مقامی سپلائرز اور وینڈرز کو بھی فائدہ پہنچا ہے، جو موبائل فونز کے پرزے اور ایکسسریز فراہم کرتے ہیں۔
پاکستان کی موبائل فون انڈسٹری ابھی ابتدائی مراحل میں ہے، لیکن اس کے باوجود برآمدات کے حوالے سے کافی امکانات موجود ہیں۔ پاکستان میں تیار کردہ موبائل فونز کو خطے کے دیگر ممالک، جیسے افغانستان، ایران، اور وسطی ایشیائی ممالک میں برآمد کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، اگر حکومت اور صنعت کے درمیان مضبوط تعاون ہو تو پاکستان چائنا اور دیگر بڑے ممالک کے ساتھ تجارتی معاہدے کر کے اپنے موبائل فونز کو عالمی منڈی میں متعارف کروا سکتا ہے۔
تاہم، برآمدات کو فروغ دینے کے لیے کچھ چیلنجز درپیش ہیں۔ ان میں معیار کو بین الاقوامی معیارات پر لانا، لاگت کو کم کرنا، اور مارکیٹنگ کی حکمت عملی کو بہتر بنانا شامل ہیں۔ اگر ان چیلنجز پر قابو پا لیا جائے تو پاکستان کی موبائل فون انڈسٹری عالمی منڈی میں اپنی پہچان بنا سکتی ہے۔
اگرچہ پاکستان کی موبائل فون انڈسٹری نے کافی ترقی کی ہے، لیکن ابھی بھی کئی چیلنجز درپیش ہیں۔ ان میں سب سے بڑا چیلنج غیر قانونی اور غیر معیاری فونز کی درآمد ہے، جو مقامی صنعت کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ اس کے علاوہ، تحقیق اور ترقی کے شعبے میں سرمایہ کاری کی کمی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ اگر حکومت اور صنعت مل کر ان مسائل پر کام کریں تو پاکستان کی موبائل فون انڈسٹری مستقبل میں اور بھی ترقی کر سکتی ہے۔
پاکستان کی موبائل فون انڈسٹری ملک کی معیشت کو مضبوط بنانے اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں خود انحصاری حاصل کرنے کا اہم ذریعہ ہے۔ اگر حکومت اور صنعت کے درمیان بہتر تعاون ہو اور چیلنجز پر قابو پا لیا جائے تو پاکستان نہ صرف مقامی ضروریات کو پورا کر سکتا ہے بلکہ موبائل فونز کی برآمدات کے ذریعے زرمبادلہ بھی کما سکتا ہے۔ مستقبل میں، پاکستان کی موبائل فون انڈسٹری عالمی منڈی میں اپنا مقام بنا سکتی ہے، بشرطیکہ اسے درست سمت میں آگے بڑھایا جائے۔