BusinessLatest

پاکستان کی کرنسی عالمی دباؤ اور مقامی ناکامیوں کے درمیان

پاکستان کی کرنسی، یعنی روپیہ، گزشتہ چالیس برس میں جس تیزی سے گرا ہے وہ محض ایک مالیاتی معاملہ نہیں بلکہ ایک گہرے معاشی، سماجی اور پالیسی بحران کی عکاسی کرتا ہے۔ ایک وقت تھا جب ایک امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپیہ تقریباً سو روپے کے برابر تھا اور اس سے بھی پہلے، 1980 کی دہائی کے آغاز میں، روپے کو دانستہ طور پر 9.90 روپے فی ڈالر پر ڈی لنک کیا گیا۔ یہ فیصلہ کسی اندرونی معاشی حقیقت کے تحت نہیں بلکہ عالمی مالیاتی اداروں، خصوصاً عالمی بینک اور آئی ایم ایف کے دباؤ میں کیا گیا۔ یہی وہ موڑ تھا جہاں سے پاکستانی روپے کی مسلسل قدر میں کمی کا سفر شروع ہوا جو آج تقریباً 280 روپے فی ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔

حالیہ برسوں میں گولڈمین سیکس اور چند دیگر بین الاقوامی مالیاتی اداروں نے اپنی رپورٹس میں یہ مؤقف اختیار کیا کہ پاکستانی روپیہ اپنی حقیقی قدر سے کم سطح پر ٹریڈ کر رہا ہے اور اس کی مناسب قدر 220 سے 250 روپے فی ڈالر کے درمیان ہونی چاہیے۔ ان اداروں کے مطابق پاکستان کی معیشت کی پیداواری صلاحیت، آبادی، کھپت اور علاقائی تقابل کو دیکھا جائے تو موجودہ شرح تبادلہ ضرورت سے زیادہ کمزور ہے۔ اس کے باوجود پالیسی سازوں نے روپے کو مصنوعی طور پر کمزور رکھنے کی روش جاری رکھی، جس کا جواز یہ پیش کیا جاتا رہا کہ کمزور کرنسی سے برآمدات میں اضافہ ہوگا۔

یہاں یہ بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر بعض ممالک اپنی کرنسی کو مضبوط کیوں رکھتے ہیں جبکہ ترقی پذیر ممالک کی کرنسیاں جان بوجھ کر کمزور کی جاتی ہیں۔ مغربی ممالک، خصوصاً امریکہ اور یورپی ریاستیں، اپنی کرنسی کی قدر کو اپنی عالمی سیاسی، عسکری اور تجارتی طاقت سے جوڑے رکھتی ہیں۔ مضبوط کرنسی انہیں سستی درآمدات، کم افراطِ زر اور اپنے شہریوں کے لیے بہتر معیارِ زندگی فراہم کرتی ہے۔ اس کے برعکس ترقی پذیر ممالک کو یہ باور کرایا جاتا ہے کہ کمزور کرنسی ان کی برآمدات کو مسابقتی بنائے گی، حالانکہ ان ممالک کی زیادہ تر برآمدات خام مال یا کم ویلیو ایڈڈ مصنوعات پر مشتمل ہوتی ہیں، جس سے حاصل ہونے والا فائدہ محدود رہتا ہے۔

پاکستان کی مثال اس تضاد کو واضح کرتی ہے۔ اگر واقعی روپے کی قدر میں کمی سے برآمدات میں نمایاں اضافہ ہونا تھا تو گزشتہ بیس برسوں میں ایسا کیوں نہیں ہوا؟ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی برآمدات کا ڈھانچہ کمزور ہے، توانائی مہنگی ہے، ٹیکنالوجی پر سرمایہ کاری نہ ہونے کے برابر ہے اور صنعتی پیداوار درآمدی خام مال پر انحصار کرتی ہے۔ ایسے میں روپے کی قدر میں کمی برآمدات کو فائدہ دینے کے بجائے لاگت میں اضافہ کر دیتی ہے۔

روپے کی قدر میں کمی کا سب سے زیادہ بوجھ ملک کے متوسط طبقے پر پڑا ہے۔ اگر ہم محض ایک مثال دیکھیں تو جب ڈالر سو روپے کے لگ بھگ تھا، اس وقت پیٹرول کی قیمت تقریباً 95 روپے فی لیٹر تھی، جو آج بڑھ کر 270 روپے کے قریب پہنچ چکی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ صرف کرنسی کی گراوٹ نے ایک ہی جھٹکے میں عوام کی قوتِ خرید تقریباً ایک تہائی کم کر دی۔ بجلی کے بل، گیس، اشیائے خورونوش، ادویات اور حتیٰ کہ مقامی سطح پر تیار ہونے والی مصنوعات کی قیمتیں بھی تین گنا تک بڑھ چکی ہیں کیونکہ ان میں کہیں نہ کہیں درآمدی ایندھن، مشینری یا خام مال شامل ہے۔

ایسے حالات میں یہ سوال نہایت اہم ہو جاتا ہے کہ اگر روپے کو اس کی حقیقی قدر، یعنی 220 سے 250 کے درمیان، واپس لایا جائے تو کیا اس سے عام آدمی کو ریلیف ملے گا؟ اس کا جواب سادہ الفاظ میں ہاں ہے، مگر شرط یہ ہے کہ یہ عمل جذباتی یا عارضی اقدامات کے بجائے ایک جامع حکمتِ عملی کے تحت کیا جائے۔ روپے کی قدر میں مناسب بہتری سے درآمدی مہنگائی کم ہو سکتی ہے، پیٹرول، بجلی اور دیگر بنیادی اشیاء سستی ہو سکتی ہیں اور افراطِ زر پر قابو پایا جا سکتا ہے، جس سے متوسط طبقے کو فوری ریلیف ملے گا۔

تاہم بہترین حکمتِ عملی یہ نہیں کہ روپے کو محض زبردستی مضبوط کر دیا جائے۔ اصل ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان آئی ایم ایف پر انحصار کم کرے، برآمدات کو مقدار کے بجائے معیار اور ویلیو ایڈیشن کی بنیاد پر بڑھائے، مقامی صنعت کو سستی توانائی فراہم کرے اور زرعی و صنعتی پیداوار میں خودکفالت کی طرف بڑھے۔ اس کے ساتھ ساتھ درآمدات کو منظم کرنا، غیر ضروری لگژری اشیاء پر سخت کنٹرول، اور ڈالرائزیشن کی حوصلہ شکنی بھی ناگزیر ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ کرنسی پالیسی کو محض قرض دہندگان کی شرائط کے تابع رکھنے کے بجائے قومی مفاد کے مطابق ترتیب دیا جائے۔

پاکستان کا مسئلہ یہ نہیں کہ اس کی کرنسی کمزور ہے، بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ اس کمزوری کو ایک پالیسی کے طور پر قبول کر لیا گیا ہے۔ جب تک اس سوچ کو تبدیل نہیں کیا جاتا اور روپے کو معیشت کی عکاسی بنانے کے بجائے تجربہ گاہ بنائے رکھا جاتا ہے، تب تک مہنگائی، غربت اور متوسط طبقے کی زبوں حالی میں کمی ممکن نہیں۔ روپے کی حقیقی قدر کی طرف واپسی نہ صرف معاشی استحکام بلکہ سماجی انصاف کی سمت بھی ایک اہم قدم ہو سکتی ہے۔