LatestReal Estate

رئیل اسٹیٹ مافیا اور عام شہری کی بے بسی

پاکستان کا رئیل اسٹیٹ سیکٹر اس وقت شدید بحرانوں کی زد میں ہے۔ ایک ایسا شعبہ جو ماضی قریب میں سرمایہ کاری کا سب سے محفوظ اور منافع بخش ذریعہ سمجھا جاتا تھا، آج جمود، بے یقینی اور اعتماد کے فقدان کا شکار دکھائی دیتا ہے۔ اس بحران کی جڑیں محض معاشی بدحالی تک محدود نہیں بلکہ حکومتی پالیسیوں کے اچانک بدلتے رخ، کمزور ریگولیٹری نظام اور طاقتور مافیا کے اثر و رسوخ میں پیوست ہیں۔

2019 میں تحریک انصاف کی حکومت نے رئیل اسٹیٹ سیکٹر کو غیر معمولی مراعات فراہم کیں۔ ان مراعات کا مقصد بظاہر معیشت کو دستاویزی بنانا اور تعمیراتی سرگرمیوں کے ذریعے روزگار پیدا کرنا تھا، مگر عملی طور پر اس پالیسی نے جائیداد کو سرمایہ چھپانے کا سب سے آسان ذریعہ بنا دیا۔ ٹیکس میں نرمی، ویلیو ایشن ریٹس میں کمی اور ذرائع آمدن سے متعلق نرم رویے نے بیرون ملک سے آنے والے سرمائے اور مقامی غیر دستاویزی رقم کو بڑے پیمانے پر اس شعبے کی طرف موڑ دیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ پلاٹس کی قیمتیں حقیقی طلب اور آمدن سے کٹ کر محض قیاس آرائی کی بنیاد پر بڑھتی چلی گئیں۔ پانچ مرلہ کا وہ پلاٹ جو چند برس قبل پچیس لاکھ روپے میں دستیاب تھا، دیکھتے ہی دیکھتے ایک کروڑ روپے سے تجاوز کر گیا، خاص طور پر نام نہاد پریمیم ہاؤسنگ سوسائٹیز میں۔

یہ تیزی مگر پائیدار ثابت نہ ہو سکی۔ جب پی ٹی آئی حکومت اقتدار سے باہر ہوئی تو نئی حکومت نے نہ صرف یہ تمام مراعات واپس لے لیں بلکہ اضافی ٹیکس اور سخت شرائط بھی نافذ کر دیں۔ پالیسی کا یہ اچانک یو ٹرن رئیل اسٹیٹ مارکیٹ کے لیے شدید جھٹکا ثابت ہوا۔ خریدار غائب ہو گئے، سرمایہ منجمد ہو گیا اور لین دین تقریباً رک سا گیا۔ جو شعبہ کل تک معیشت کا انجن سمجھا جا رہا تھا، آج خود سہارا ڈھونڈ رہا ہے۔

اس بحران کا سب سے تشویشناک پہلو ہاؤسنگ سوسائٹیز میں ہونے والی بے ضابطگیاں ہیں۔ ملک کے مختلف حصوں میں ایسی متعدد سوسائٹیز موجود ہیں جنہوں نے اپنی ملکیت میں موجود زمین سے کئی گنا زیادہ پلاٹس فروخت کر رکھے ہیں۔ ترقیاتی کام انتہائی سست روی کا شکار ہے اور بعض مقامات پر خریدار برسوں سے مکمل ادائیگی کے باوجود اپنے پلاٹس کے منتظر ہیں۔ یہ صورتحال محض انتظامی نااہلی نہیں بلکہ ایک منظم استحصالی نظام کی عکاس ہے، جس میں عام شہری کی جمع پونجی کو یرغمال بنا لیا گیا ہے۔ حکومت اس مافیا کے خلاف کارروائی کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار نظر آتی ہے، کیونکہ یہ گروہ مالی اور سیاسی طور پر خاصا طاقتور ہے۔

اسی دوران زرعی زمین کی تیزی سے تباہی ایک اور سنگین مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔ زرخیز کھیت اور زرعی رقبے ہاؤسنگ سوسائٹیز کی نذر ہو رہے ہیں، جس کا براہ راست اثر خوراک کی پیداوار اور دیہی معیشت پر پڑ رہا ہے۔ ایک ایسے ملک میں جہاں پہلے ہی زرعی پیداوار دباؤ میں ہے، زرعی زمین کو کنکریٹ کے جنگل میں بدلنا طویل المدت قومی مفاد کے خلاف ہے۔ بدقسمتی سے منصوبہ بندی کے فقدان اور کمزور قوانین نے اس رجحان کو روکنے کے بجائے مزید تقویت دی ہے۔

اصل سوال یہ ہے کہ رئیل اسٹیٹ کا مقصد کیا ہونا چاہیے۔ دنیا کے مہذب ممالک میں یہ شعبہ شہریوں کو معیاری اور قابلِ استطاعت رہائش فراہم کرنے کے لیے کام کرتا ہے، جبکہ پاکستان میں پلاٹس ایک طرح کے ٹکٹ بن چکے ہیں جنہیں امیر طبقہ خرید کر سالہا سال خالی چھوڑ دیتا ہے، صرف قیمت بڑھنے کے انتظار میں۔ اس قیاس آرائی نے نہ صرف گھروں کی قلت کو بڑھایا ہے بلکہ متوسط طبقے کے لیے اپنی چھت کا خواب مزید دور کر دیا ہے۔

اس پس منظر میں ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت ایک جامع اور متوازن پالیسی تشکیل دے۔ ایسی قانون سازی ناگزیر ہے جس کے تحت پلاٹ حاصل کرنے کے بعد مقررہ مدت میں تعمیر لازم ہو، بصورت دیگر بھاری جرمانہ عائد کیا جائے۔ اس سے ایک طرف قیاس آرائی کی حوصلہ شکنی ہو گی اور دوسری طرف رہائشی یونٹس کی حقیقی فراہمی میں اضافہ ممکن ہو سکے گا۔ ساتھ ہی ان تمام ہاؤسنگ سوسائٹیز کے خلاف بلا امتیاز کارروائی ہونی چاہیے جو لوگوں کو نہ پلاٹس دے رہی ہیں اور نہ رقم واپس کر رہی ہیں۔

یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ اگر رئیل اسٹیٹ کا شعبہ ایک صحت مند، شفاف اور ضابطے میں کام کرے تو یہ معیشت کے لیے نہایت مفید ثابت ہو سکتا ہے۔ رئیل اسٹیٹ محض پلاٹس اور مکانات کی خرید و فروخت تک محدود نہیں بلکہ اس سے تقریباً چالیس سے زائد صنعتیں براہ راست یا بالواسطہ طور پر منسلک ہیں۔ سیمنٹ، اسٹیل، اینٹیں، بجری، ریت، الیکٹریکل آلات، پلمبنگ، لکڑی، پینٹ، ٹائلز، فرنیچر، ٹرانسپورٹ اور لیبر مارکیٹ سب اسی شعبے کے گرد گھومتی ہیں۔ جب تعمیراتی سرگرمیوں میں تیزی آتی ہے تو روزگار کے مواقع بڑھتے ہیں، حکومتی محاصل میں اضافہ ہوتا ہے اور معاشی پہیہ حرکت میں آتا ہے۔ ایک مثبت اور متوازن رئیل اسٹیٹ ماحول میں سرمایہ قیاس آرائی کے بجائے تعمیر کی طرف جاتا ہے، جس سے رہائشی یونٹس کی تعداد میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس وقت پاکستان میں گھروں کی قلت ایک سنگین مسئلہ بنتی جا رہی ہے اور لاکھوں خاندان مناسب اور سستی رہائش سے محروم ہیں۔ اگر حکومتی پالیسی کا رخ پلاٹوں کی خرید و فروخت کے بجائے گھروں کی تعمیر اور اپارٹمنٹ کلچر کے فروغ کی طرف ہو تو نہ صرف معیشت کو سہارا مل سکتا ہے بلکہ عام آدمی کے لیے گھر کا خواب بھی حقیقت کے قریب آ سکتا ہے۔

حکومتی پالیسی کا محور رئیل اسٹیٹ کو کالا دھن پارک کرنے کے ذریعے کے بجائے ایک باقاعدہ، شفاف اور عوام دوست شعبہ بنانا ہونا چاہیے۔ زرعی زمین کا تحفظ، خریداروں کے حقوق کی ضمانت، اور معیاری و سستی رہائش کی دستیابی وہ نکات ہیں جن پر سنجیدگی سے عمل کیے بغیر یہ بحران ختم نہیں ہو سکتا۔ اگر رئیل اسٹیٹ کو محض قیاس آرائی سے نکال کر حقیقی معاشی سرگرمی سے جوڑ دیا جائے تو یہ شعبہ ایک بار پھر معیشت کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے، ورنہ موجودہ جمود اور عدم اعتماد مزید گہرا ہوتا چلا جائے گا۔