پاکستان میں بڑھتی غربت ایک خطرناک موڑ
اسلام آباد میں غربت کی سطح میں حالیہ چار فیصد اضافہ محض ایک رپورٹ نہیں بلکہ ایک سنجیدہ انتباہ ہے۔ یہ اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک پہلے ہی معاشی دباؤ، مہنگائی اور عدم استحکام کی کیفیت سے گزر رہا ہے۔ خاص طور پر یہ حقیقت کہ اسلام آباد میں غربت کی شرح 24 فیصد سے بڑھ کر 28 فیصد ہو جانا نہایت افسوسناک، مایوس کن، تشویشناک اور خطرناک ہے۔ دارالحکومت کو عموماً بہتر روزگار، سہولتوں اور مواقع کی علامت سمجھا جاتا ہے، مگر یہاں غربت کا پھیلاؤ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ مسائل اب صرف دور دراز یا پسماندہ علاقوں تک محدود نہیں رہے۔
غربت کسی بھی معاشرے میں محض آمدنی کی کمی کا نام نہیں ہوتی بلکہ یہ ایک ایسا عمل ہے جو پورے سماجی ڈھانچے کو آہستہ آہستہ گھٹا دیتا ہے۔ جب گھر کا چولہا جلانا مشکل ہو جائے، تعلیم اور علاج بنیادی ضرورتوں کی فہرست سے نکل جائیں اور باعزت روزگار خواب بن جائے تو اس کے اثرات لازماً سماجی رویوں میں نظر آتے ہیں۔ جرائم میں اضافہ، انتہاپسندی کی طرف رجحان، سماجی بے چینی اور ریاست پر عدم اعتماد جیسے مسائل اسی پس منظر میں جنم لیتے ہیں۔ حالیہ مہینوں میں دہشت گردی اور دیگر جرائم کے بڑھتے ہوئے واقعات اسی سماجی دباؤ کی ایک شکل محسوس ہوتے ہیں۔
یہ رپورٹ اس بات کی بھی نشاندہی کرتی ہے کہ ملک مجموعی طور پر پیچھے کی طرف جا رہا ہے۔ معیشت کی رفتار سست ہے، صنعتیں دباؤ میں ہیں اور کاروباری طبقہ غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔ جب معیشت روزگار پیدا کرنے میں ناکام ہو جائے تو غربت کا بڑھنا ایک فطری نتیجہ بن جاتا ہے۔ اسی تناظر میں حالیہ دورہ پاکستان کے دوران اجے بنگا، صدر ورلڈ بینک، کا یہ کہنا کہ پاکستان کو 2030 تک تین کروڑ نئی ملازمتیں پیدا کرنا ہوں گی، بظاہر ایک حقیقت پسندانہ مگر موجودہ حالات میں نہایت مشکل ہدف دکھائی دیتا ہے۔ موجودہ رجحانات اور پالیسیوں کے ساتھ یہ سوال اپنی جگہ قائم ہے کہ یہ ملازمتیں کہاں سے اور کیسے آئیں گی۔
غربت میں اضافے کی ایک بڑی وجہ روپے کی مسلسل قدر میں کمی ہے۔ جب کرنسی کمزور ہوتی ہے تو درآمدات مہنگی ہو جاتی ہیں، جس کا براہ راست اثر روزمرہ اشیائے ضروریہ پر پڑتا ہے۔ عام آدمی کی آمدن وہیں کی وہیں رہتی ہے مگر اخراجات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔ اس کے ساتھ بجلی اور گیس کی قیمتوں میں بار بار اضافہ، فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز اور مختلف قسم کے ٹیکسز نے زندگی کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔ صنعتکار مہنگی توانائی کی وجہ سے پیداوار کم کرنے پر مجبور ہیں، جس کا نتیجہ بیروزگاری کی صورت میں نکلتا ہے، اور یوں غربت کا دائرہ مزید وسیع ہو جاتا ہے۔
ٹیکسوں کا موجودہ ڈھانچہ بھی عام شہری پر غیر متناسب بوجھ ڈالتا ہے۔ بالواسطہ ٹیکسوں کی بھرمار نے غریب اور متوسط طبقے کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے، جبکہ ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے اور بڑے شعبوں سے مؤثر وصولی میں مسلسل ناکامی دکھائی دیتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ تعلیم اور ہنر مندی پر ناکافی سرمایہ کاری نے نوجوانوں کو ایسے وقت میں بے سہارا چھوڑ دیا ہے جب آبادی کا بڑا حصہ روزگار کی تلاش میں ہے۔
اس ساری صورتحال میں سب سے اہم اور فیصلہ کن پہلو پالیسی سازوں کا کردار ہے۔ یہ معاملہ محض ایک اور رپورٹ کے طور پر فائلوں میں دبانے کا نہیں بلکہ جنگی بنیادوں پر سوچنے اور عمل کرنے کا تقاضا کرتا ہے۔ اگر فوری اور جامع حکمت عملی نہ اپنائی گئی تو غربت کا یہ بڑھتا ہوا دائرہ ریاست، معیشت اور سماج تینوں کے لیے سنگین نتائج پیدا کر سکتا ہے۔ روزگار پیدا کرنے کے لیے صنعتی ترقی، سستی توانائی، برآمدات میں اضافہ، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کی سرپرستی اور زراعت و خدمات کے شعبوں میں جدیدیت ناگزیر ہو چکی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ روپے کو مستحکم کرنے، ٹیکس نظام میں انصاف لانے اور سماجی تحفظ کے پروگراموں کو مؤثر بنانے کی اشد ضرورت ہے۔
یہ وقت نیم دلانہ اقدامات یا عارضی حل کا نہیں۔ اگر غربت کے اس شیطانی چکر کو توڑنا ہے تو ریاست کو واضح سمت، مضبوط سیاسی عزم اور مسلسل عمل کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ بصورت دیگر آج کا چار فیصد اضافہ کل ایک ایسے بحران میں بدل سکتا ہے جس کے اثرات صرف معیشت تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔

