الیکٹرک گاڑیوں کی خریداری میں عوام کی عدم دلچسپی
یورپ اور امریکہ میں الیکٹرک گاڑیاں (EV) کیوں ناکام ہو رہی ہیں؟ یہ سوال حالیہ برسوں میں ایک اہم موضوع بن چکا ہے، خاص طور پر جب دنیا ماحولیاتی تبدیلیوں اور توانائی کے مسائل کے حل کی تلاش میں ہے۔ اگرچہ الیکٹرک گاڑیاں ایک بہتر ماحولیاتی متبادل سمجھی جاتی ہیں، مگر ان کی ناکامی کی کئی وجوہات ہیں جو مختلف خطوں میں نمایاں طور پر دیکھی جا سکتی ہیں۔
الیکٹرک گاڑیوں کی بیٹریوں کے ساتھ سب سے بڑا مسئلہ ان کا آگ پکڑنے کا خطرہ ہے۔ دنیا بھر میں مختلف واقعات رپورٹ کیے گئے ہیں جہاں الیکٹرک گاڑیوں کی بیٹریاں اچانک گرم ہو کر آگ پکڑ لیتی ہیں۔ اس طرح کے حادثات نہ صرف گاڑی کے لیے نقصان دہ ہوتے ہیں بلکہ مسافروں کی جان کے لیے بھی خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ آگ لگنے کا یہ خطرہ بیٹری کے اندر موجود لیتھیم آئن سیلز کی ساخت اور ان کے کیمیکل ردعمل کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ جرمنی، چین اور امریکہ جیسے ممالک میں ایسے واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں، جنہوں نے صارفین کو ان گاڑیوں کی طرف سے محتاط کر دیا ہے۔
دوسرا بڑا مسئلہ یہ ہے کہ الیکٹرک گاڑی کی بیٹری اگر کسی ویران جگہ پر خالی ہو جائے تو اسے فوری طور پر چارج کرنا مشکل ہے۔ پیٹرول یا ڈیزل گاڑیوں میں اگر ایندھن ختم ہو جائے تو ایک پوٹ ایبل کین کے ذریعے ایندھن لایا جا سکتا ہے، لیکن الیکٹرک گاڑیوں کے لیے ایسا ممکن نہیں۔ ان کی بیٹریاں چارج کرنے کے لیے مخصوص چارجر اور وقت درکار ہوتا ہے، جو کہ طویل سفر کے دوران یا دور دراز علاقوں میں ایک بڑی مشکل بن سکتی ہے۔ اگر کوئی گاڑی سڑک کے بیچ رک جائے تو اس کا حل فوری طور پر دستیاب نہیں ہوتا، جس سے صارفین کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
اس کے علاوہ، بیٹریوں کی عمر اور پائیداری بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ الیکٹرک گاڑی کی بیٹری کی کارکردگی کم ہو جاتی ہے، جس سے نہ صرف چارجنگ کا عمل بار بار دہرانا پڑتا ہے بلکہ گاڑی کی مجموعی رینج بھی کم ہو جاتی ہے۔ بیٹریوں کو تبدیل کرنے کی قیمت بھی بہت زیادہ ہوتی ہے، جو صارفین کے لیے ایک اضافی مالی بوجھ بن سکتی ہے۔ بیٹری کے خطرات میں ایک اور تشویش ان کی ری سائیکلنگ اور ماحولیاتی اثرات ہیں۔ جب یہ بیٹریاں اپنی عمر پوری کر لیتی ہیں تو ان کو ضائع کرنا ایک بڑا چیلنج ہوتا ہے۔ ان میں موجود خطرناک مواد ماحول کو آلودہ کر سکتا ہے، جو کہ ایک ماحولیاتی مسئلہ پیدا کرتا ہے۔
الیکٹرک گاڑیوں کی ناکامی کی سب سے بڑی وجہ ان کی چارجنگ انفراسٹرکچر کی کمی ہے۔ امریکہ جیسے ترقی یافتہ ملک میں بھی چارجنگ اسٹیشنز کی تعداد محدود ہے اور طویل فاصلے کے سفر میں مشکلات پیش آتی ہیں۔ مثال کے طور پر، امریکہ کے دیہی علاقوں میں چارجنگ اسٹیشنز نہ ہونے کی وجہ سے لوگ EV کو اپنانے سے گریز کرتے ہیں۔ اسی طرح، جرمنی میں بھی الیکٹرک گاڑیوں کی مارکیٹ کو چارجنگ نیٹ ورک کی کمی اور بجلی کے زیادہ نرخوں کا سامنا ہے۔ ایک اور چیلنج EV کے لیے بیٹریوں کی قیمت اور پائیداری ہے۔ EV کی بیٹریاں مہنگی ہیں اور ان کی عمر محدود ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ، ان بیٹریوں کے لیے لیتھیم اور دیگر قیمتی دھاتوں کی ضرورت ہوتی ہے، جو ماحولیاتی اور سماجی مسائل پیدا کرتی ہیں۔ جرمنی کی مشہور کمپنی BMW نے EV کے میدان میں بڑی سرمایہ کاری کی ہے، لیکن وہ بھی بیٹری کی قیمت اور پیداوار کے مسائل کا سامنا کر رہی ہے۔
چین اور جاپان جیسے ممالک نے الیکٹرک گاڑیوں کی پیداوار میں کافی پیشرفت کی ہے، لیکن وہاں بھی صارفین کی ایک بڑی تعداد ہائبرڈ گاڑیوں کو ترجیح دیتی ہے۔ چین نے الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ کے لیے سبسڈیز فراہم کیں، لیکن حالیہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ہائبرڈ گاڑیاں زیادہ مقبول ہو رہی ہیں۔ اس کی ایک اہم وجہ ہائبرڈ گاڑیوں کا طویل رینج اور بہتر ایندھن کی معیشت ہے۔ پیٹرول اور الیکٹرک دونوں پر چلتی ہیں، صارفین کے لیے ایک متوازن حل پیش کرتی ہیں۔ ٹویوٹا کی پرایس اور ہونڈا کی انسائٹ جیسی گاڑیاں دنیا بھر میں اپنی افادیت اور کم خرچ کی وجہ سے مشہور ہیں۔ امریکہ اور جاپان میں ہائبرڈ گاڑیاں EV کے مقابلے میں زیادہ فروخت ہو رہی ہیں کیونکہ یہ صارفین کو بغیر کسی چارجنگ کی فکر کے بہترین کارکردگی فراہم کرتی ہیں۔
مستقبل میں، ہائبرڈ گاڑیاں EV کے مقابلے میں بہتر آپشن معلوم ہوتی ہیں۔ اگرچہ الیکٹرک گاڑیاں ماحول دوست ہیں، مگر موجودہ حالات میں ہائبرڈ گاڑیاں صارفین کے لیے زیادہ قابل عمل اور قابل اعتماد ہیں۔ صارفین کی بڑھتی ہوئی دلچسپی اور ہائبرڈ ٹیکنالوجی میں مسلسل جدت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ یہ گاڑیاں آنے والے سالوں میں بھی اپنی جگہ برقرار رکھیں گی۔ چین کی BYD اور جاپان کی ٹویوٹا جیسی کمپنیاں ہائبرڈ اور الیکٹرک دونوں ٹیکنالوجیز میں سرمایہ کاری کر رہی ہیں، لیکن ہائبرڈ گاڑیوں کا مارکیٹ شیئر زیادہ ہے۔ یورپ میں بھی ہائبرڈ گاڑیاں، جیسے کہ مرسیڈیز کی پلگ ان ہائبرڈز، صارفین کے لیے ایک مقبول انتخاب بن رہی ہیں۔
خلاصہ یہ ہے کہ الیکٹرک گاڑیاں ابھی تک اپنی مکمل صلاحیت سے فائدہ نہیں اٹھا سکیں۔ صارفین کی ترجیحات، چارجنگ انفراسٹرکچر کی کمی، بیٹری کے مسائل، اور ہائبرڈ گاڑیوں کی سہولت کے باعث، ہائبرڈ گاڑیاں مستقبل میں بھی زیادہ کامیاب رہنے کی امید ہے۔ اگر مستقبل میں تیل کا کوئی بُحران آتا ہے تو اس صورت میں تمام مُشکلات کے باوجود الیکٹرک گاڑیاں ہی چل سکیں گی۔