Featured

پاکستان کے لیے تیس ملین نوکریوں کا چیلنج

عالمی بینک کے صدر اجے بنگا کا حالیہ بیان کہ پاکستان کو اگلے دس برسوں میں تین کروڑ نئی ملازمتیں پیدا کرنا ہوں گی، بظاہر ایک عددی ہدف معلوم ہوتا ہے، مگر درحقیقت یہ ایک وارننگ ہے۔ یہ وارننگ صرف حکومتِ پاکستان کے لیے نہیں بلکہ پورے معاشی نظام، کاروباری طبقے، پالیسی سازوں اور عالمی مالیاتی اداروں کے لیے بھی ہے۔ پاکستان اس وقت ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں آبادی، معیشت اور سیاست تینوں ایک دوسرے سے ٹکرا رہی ہیں، اور سب سے زیادہ دباؤ نوجوان آبادی پر ہے۔

پاکستان کی آبادی کا بڑا حصہ تیس برس سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے۔ یہ نوجوان اگر تعلیم، ہنر اور روزگار کے مواقع سے محروم رہے تو وہ معاشی بوجھ بن سکتے ہیں، اور اگر انہیں مناسب مواقع مل جائیں تو یہی طبقہ ملک کو ترقی کی راہ پر ڈال سکتا ہے۔ اجے بنگا کا کہنا اسی حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ روزگار محض معاشی مسئلہ نہیں بلکہ سماجی استحکام اور قومی سلامتی سے بھی جڑا ہوا معاملہ ہے۔

مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان پہلے ہی شدید معاشی دباؤ میں ہے۔ مہنگائی، روپے کی قدر میں کمی، توانائی کے بحران، بلند شرح سود اور غیر یقینی پالیسیوں نے صنعتی سرگرمیوں کو تقریباً مفلوج کر دیا ہے۔ کاروباری طبقہ کھل کر اپنی مایوسی کا اظہار کر رہا ہے۔ سرمایہ کاری رکی ہوئی ہے، صنعتیں بند یا محدود پیمانے پر چل رہی ہیں، اور نئی ملازمتوں کے بجائے موجودہ نوکریاں بھی خطرے میں ہیں۔ ایسے حالات میں تیس ملین نوکریوں کا ہدف ایک ناممکن خواب دکھائی دیتا ہے۔

پاکستان میں صنعتی ترقی کی راہ میں چند بنیادی رکاوٹیں دہائیوں سے موجود ہیں۔ پالیسیوں کا عدم تسلسل، ٹیکس نظام کی پیچیدگی، غیر رسمی معیشت کا پھیلاؤ، توانائی کی بلند قیمتیں، درآمدی انحصار اور کمزور ادارہ جاتی ڈھانچہ وہ عوامل ہیں جو صنعت کو پنپنے نہیں دیتے۔ اس کے ساتھ ساتھ کاروبار کرنے کی لاگت اتنی زیادہ ہو چکی ہے کہ مقامی صنعت کار عالمی منڈی میں مقابلہ کرنے سے قاصر نظر آتے ہیں۔

عالمی سطح پر بھی حالات سازگار نہیں۔ یورپ اور امریکہ میں سست روی، چین کی معیشت میں کمی، مشرقِ وسطیٰ کی غیر یقینی صورتحال اور عالمی تجارت میں سکڑاؤ نے ترقی پذیر ممالک کے لیے مواقع مزید محدود کر دیے ہیں۔ ایسے میں پاکستان جیسے ملک کے لیے برآمدات بڑھانا اور نئی صنعتیں کھڑی کرنا پہلے سے کہیں زیادہ مشکل ہو چکا ہے۔

اس کے باوجود سوال یہ ہے کہ کیا یہ ہدف مکمل طور پر ناقابلِ حصول ہے؟ جواب نفی میں نہیں دیا جا سکتا، بشرطیکہ پاکستان اپنی سمت درست کرے۔ سب سے پہلے یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ حکومت اکیلے تیس ملین نوکریاں پیدا نہیں کر سکتی۔ اصل روزگار نجی شعبے، چھوٹی اور درمیانی صنعتوں، زراعت، تعمیرات، خدمات اور ٹیکنالوجی کے شعبوں سے آئے گا۔ حکومت کا کردار سہولت کار کا ہونا چاہیے، رکاوٹ بننے کا نہیں۔

پاکستان کو سب سے زیادہ توجہ اپنی مقامی صنعت اور ویلیو ایڈیشن پر دینی ہوگی۔ زرعی پیداوار کو خام حالت میں بیچنے کے بجائے فوڈ پروسیسنگ، ٹیکسٹائل میں آگے بڑھنے، انجینئرنگ اور لائٹ مینوفیکچرنگ جیسے شعبوں میں سرمایہ کاری بڑھانا ہوگی۔ تعمیراتی شعبہ، اگر پالیسی استحکام ملے، تو لاکھوں نوکریاں پیدا کر سکتا ہے۔ اسی طرح آئی ٹی، فری لانسنگ اور ڈیجیٹل خدمات وہ شعبے ہیں جہاں کم سرمائے سے زیادہ روزگار پیدا کیا جا سکتا ہے۔

تعلیم اور ہنر مندی کا نظام بھی ازسرنو ترتیب دینا ہوگا۔ پاکستان کے نوجوان ڈگریاں تو حاصل کر لیتے ہیں مگر مارکیٹ کے مطابق مہارتیں نہیں۔ اگر ٹیکنیکل ٹریننگ، ووکیشنل ایجوکیشن اور انڈسٹری سے جڑا ہوا نصاب متعارف نہ کرایا گیا تو روزگار اور افرادی قوت کے درمیان خلا مزید بڑھتا جائے گا۔

یہاں عالمی مالیاتی اداروں کا کردار بھی سوالیہ نشان بنتا ہے۔ عالمی بینک اور آئی ایم ایف کی پالیسیاں عمومی طور پر مالی استحکام، خسارے میں کمی اور اصلاحات پر زور دیتی ہیں، مگر ان کا فوری اثر اکثر سست معاشی سرگرمی اور مہنگائی کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ بلند شرح سود اور سخت مالی نظم و ضبط صنعت کے لیے سانس لینا مشکل بنا دیتے ہیں۔ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ آئی ایم ایف کے پروگرام مختصر مدت میں صنعتی ترقی کے لیے سازگار نہیں ہوتے، البتہ اگر ان کے ساتھ مقامی سطح پر صنعتی پالیسی، برآمدی مراعات اور سرمایہ کاری کے لیے تحفظ فراہم کیا جائے تو منفی اثرات کو کسی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔

اصل مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان نے اکثر عالمی اداروں کے پروگرام تو قبول کیے مگر اپنی اندرونی اصلاحات ادھوری چھوڑ دیں۔ ٹیکس نیٹ وسیع نہیں ہوا، سرکاری اداروں کی اصلاح نہ ہو سکی، اور پیداواری معیشت کی طرف سنجیدہ پیش رفت نہ کی گئی۔ جب تک یہ بنیادی کمزوریاں دور نہیں ہوتیں، تیس ملین نوکریوں کا ہدف محض ایک تقریر ہی رہے گا۔

اجے بنگا کا بیان دراصل پاکستان کے لیے ایک آئینہ ہے۔ یہ ہمیں بتاتا ہے کہ وقت کم ہے اور فیصلے سخت کرنے ہوں گے۔ اگر نوجوانوں کو روزگار نہ ملا تو مایوسی بڑھے گی، ہجرت میں اضافہ ہوگا اور سماجی دباؤ ناقابلِ برداشت ہو جائے گا۔ لیکن اگر درست پالیسی سمت، سیاسی استحکام اور معاشی ترجیحات واضح ہو جائیں تو یہی نوجوان پاکستان کی سب سے بڑی طاقت بن سکتے ہیں۔