EconomyInternationalLatest

محصولات کی جنگ اور اسکے دُنیا کی معشیت پر نقصانات

امریکہ کا کل تجارتی خسارہ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 900 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے۔ چین، میکسیکو، اور ویتنام جیسے ممالک کے ساتھ امریکہ کو سب سے زیادہ تجارتی خسارے کا سامنا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ اس مسئلے کو سنجیدگی سے لے رہی ہے کیونکہ یہ امریکی معیشت کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکا ہے۔ بیرونی ممالک سے درآمدات میں اضافے اور مقامی پیداوار میں کمی کے باعث امریکی صنعتوں کو نقصان پہنچ رہا ہے، جس سے روزگار کے مواقع محدود ہو رہے ہیں۔ اس کے علاوہ بڑھتا ہوا تجارتی خسارہ امریکہ کے مالی استحکام کو متاثر کرتا ہے اور اسے بین الاقوامی سطح پر اقتصادی دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ نے چین، میکسیکو اور کینیڈا پر محصولات عائد کیے ہیں تاکہ امریکہ کے بڑھتے ہوئے تجارتی خسارے کو کم کیا جا سکے اور مقامی صنعتوں کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔ چین سے الیکٹرانکس، مشینری اور صنعتی آلات درآمد کیے جاتے ہیں، جبکہ میکسیکو سے گاڑیاں اور زرعی مصنوعات، اور کینیڈا سے اسٹیل اور ایلومینیم جیسی مصنوعات امریکہ آتی ہیں۔ ان محصولات کا مقصد امریکی مصنوعات کو بیرونی مقابلے سے بچانا ہے تاکہ مقامی معیشت میں پیداوار اور ملازمتوں میں اضافہ ہو سکے۔ تاہم، ان محصولات کے باعث درآمدی مصنوعات کی قیمتیں بڑھنے کا خدشہ ہے، جس سے صارفین کو زیادہ ادائیگی کرنا پڑ سکتی ہے۔ طویل مدت میں یہ محصولات عالمی تجارت کو متاثر کر سکتے ہیں اور دیگر ممالک کی جوابی کارروائی سے امریکی برآمد کنندگان کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے چین، میکسیکو اور کینیڈا پر عائد کیے گئے محصولات امریکی صارفین کے لیے منفی ثابت ہو سکتے ہیں۔ ان محصولات کے نتیجے میں درآمدی مصنوعات کی قیمتیں بڑھ جائیں گی، کیونکہ کمپنیاں ان اضافی اخراجات کو صارفین تک منتقل کریں گی۔ مثال کے طور پر الیکٹرانکس، گاڑیاں، زرعی مصنوعات اور صنعتی سامان کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا، جس سے روزمرہ زندگی کے اخراجات بڑھ جائیں گے۔ اس کے علاوہ، مقامی پیداوار بھی مہنگی ہو سکتی ہے کیونکہ امریکی صنعتیں درآمدی مواد پر انحصار کرتی ہیں۔ طویل مدت میں یہ صورتحال امریکی معیشت کی ترقی کو سست کر سکتی ہے اور صارفین کی خریداری طاقت کو کم کر سکتی ہے۔

اگر چین، میکسیکو، کینیڈا اور دیگر ممالک امریکی مصنوعات پر محصولات عائد کرتے ہیں تو اس کے نتیجے میں امریکی معیشت کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔ امریکی برآمد کنندگان کے لیے بیرونی مارکیٹیں مہنگی اور کم مسابقتی ہو جائیں گی، جس سے امریکی مصنوعات کی مانگ میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔ اس سے امریکی صنعتوں کو نقصان پہنچے گا، پیداوار کم ہوگی اور ملازمتوں کے مواقع محدود ہو جائیں گے۔ عالمی معیشت پر بھی اس کا منفی اثر پڑے گا، کیونکہ تجارتی جنگ سے عالمی تجارت کا حجم سکڑ سکتا ہے، جس کے نتیجے میں معاشی غیر یقینی کی صورتحال پیدا ہوگی۔ ترقی پذیر ممالک خاص طور پر اس صورت حال سے متاثر ہو سکتے ہیں کیونکہ ان کا انحصار بڑی معیشتوں کے ساتھ تجارت پر ہوتا ہے۔

ٹرمپ کا تجارتی خسارے پر تشویش کرنا ایک حد تک جائز ہے کیونکہ بڑھتا ہوا تجارتی خسارہ امریکی معیشت کے لیے ایک سنگین چیلنج بن سکتا ہے، چاہے وہ دنیا کی سب سے بڑی معیشت ہی کیوں نہ ہو۔ ٹرمپ انتظامیہ کا محصولات عائد کرنے کا مقصد اس خسارے کو کم کرنا ہے، جو ایک درست قدم ہو سکتا ہے، لیکن اسے اس انداز میں نہیں کرنا چاہیے کہ عالمی سطح پر تجارتی جنگ کا آغاز ہو جائے۔ بہتر حکمت عملی یہ ہوگی کہ چین، میکسیکو، کینیڈا اور دیگر ممالک کے ساتھ مذاکرات کا آغاز کیا جائے تاکہ باہمی مفاہمت سے مسائل حل ہوں۔ ٹرمپ انتظامیہ کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ معیشت کے لیے بہتر اقدامات کریں، لیکن دھمکی آمیز رویہ کسی بھی مسئلے کا دیرپا حل نہیں ہے بلکہ یہ عالمی معیشت کو مزید عدم استحکام کی طرف دھکیل سکتا ہے۔