EconomyInternationalLatest

ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ٹیرف کا نفاذ

ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے اُن تمام ممالک سے درآمدات پر ٹیرف لگایا گیا جنہوں نے امریکی اشیاء پر ٹیرف عائد کیا ہوا ہے۔ ٹیرف پالیسی کو امریکی معیشت کے تحفظ کے لیے ضروری سمجھا گیا کیونکہ امریکہ کا تجارتی خسارہ کئی دہائیوں سے مسلسل بڑھ رہا ہے، خاص طور پر چین کے ساتھ۔ یہ خسارہ اس وقت پیدا ہوا جب امریکی کمپنیاں سستی لیبر اور سازگار کاروباری ماحول کی تلاش میں اپنی مینوفیکچرنگ چین، میکسیکو اور دیگر ممالک میں منتقل کرنے لگیں۔ اس کے نتیجے میں، امریکہ کی مقامی صنعتیں کمزور ہو گئیں اور روزگار کے مواقع بیرون ملک منتقل ہو گئے۔ امریکی پالیسی سازوں نے گلوبلائزیشن کو اپناتے ہوئے اس حقیقت کو نظر انداز کیا کہ آزاد تجارتی معاہدے اور کم لاگت والی غیر ملکی پیداوار مقامی معیشت کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ انہوں نے سستی درآمدات کے باعث صارفین کو وقتی فائدہ پہنچانے پر توجہ دی لیکن طویل مدتی اثرات کا اندازہ نہیں لگایا۔ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ٹیرف کا مقصد اس خسارے کو کم کرنا، مقامی مینوفیکچرنگ کو بحال کرنا اور امریکی ملازمتوں کی حفاظت کرنا ہے۔ تاہم، یہ سوال برقرار ہے کہ آیا یہ پالیسی دیر سے نافذ کی گئی اور کیا اب عالمی سپلائی چین کو تبدیل کرنا اتنا آسان ہوگا۔

ٹیرف ایک ایسا معاشی ہتھیار ہے جسے حکومتیں دوسرے ممالک کی درآمدات پر ٹیکس عائد کرنے کے لیے استعمال کرتی ہیں تاکہ مقامی صنعتوں کو تحفظ دیا جا سکے اور تجارتی خسارے کو کم کیا جا سکے۔ امریکہ کو کئی دہائیوں سے تجارتی خسارے کا سامنا ہے، خاص طور پر چین کے ساتھ۔ ٹرمپ حکومت کا ماننا تھا کہ اگر چین سے درآمدات پر بھاری ٹیرف لگا دیا جائے تو امریکی کمپنیاں مقامی سطح پر پیداوار شروع کریں گی، روزگار کے مواقع بڑھیں گے اور معیشت مستحکم ہوگی۔ لیکن حقیقت میں، ٹیرف کے نتیجے میں درآمدی اشیا مہنگی ہو جاتی ہیں جس سے عام صارفین پر بوجھ بڑھتا ہے۔ اس کے علاوہ، کئی امریکی کمپنیاں چین میں اپنی مصنوعات تیار کرواتی ہیں کیونکہ وہاں سستی لیبر اور مضبوط سپلائی چین موجود ہے۔ چین سے درآمدات پر ٹیرف لگانے کا مطلب یہ ہوگا کہ امریکی کمپنیاں اپنی مصنوعات مہنگی داموں خریدیں گی، جس سے ان کے منافع میں کمی آئے گی اور بالآخر امریکی صارفین کو زیادہ قیمت ادا کرنی پڑے گی۔

دنیا بھر میں معاشی ترقی کا دار و مدار تجارت پر ہے۔ جب ایک بڑی معیشت جیسے امریکہ ٹیرف عائد کرتا ہے تو اس کے اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے جاتے ہیں۔ یورپ، بھارت اور کینیڈا جیسی معیشتیں پہلے ہی مالیاتی دباؤ کا شکار ہیں۔ اگر امریکہ ان ممالک پر بھی ٹیرف عائد کرتا ہے تو ان کی برآمدات متاثر ہوں گی، جس سے ان کے تجارتی خسارے میں اضافہ ہوگا۔ خاص طور پر بھارت جیسے ترقی پذیر ممالک کے لیے یہ ایک بڑا چیلنج ہوگا کیونکہ وہ پہلے ہی کئی اندرونی معاشی مسائل سے دوچار ہیں۔

چین دنیا کی سب سے بڑی مینوفیکچرنگ معیشت ہے۔ دنیا بھر میں بیشتر اشیا کی پیداوار چین میں ہوتی ہے، کیونکہ وہاں نہ صرف سستی لیبر موجود ہے بلکہ نایاب دھاتوں (rare earth minerals) پر بھی چین کا کنٹرول ہے جو الیکٹرانک اور جدید ٹیکنالوجی کی پیداوار میں بنیادی حیثیت رکھتی ہیں۔ اگر امریکہ یا دیگر ممالک چین سے پیداوار نکالنے کی کوشش کریں گے تو انہیں نئی سپلائی چین بنانے میں کئی سال لگ سکتے ہیں، جو عالمی معیشت کے لیے عدم استحکام کا باعث بنے گا۔

چین بھی ٹیرف کے جواب میں امریکی اشیا پر جوابی ٹیرف لگا سکتا ہے، جس سے امریکی مصنوعات کی برآمدات متاثر ہوں گی۔ اس سے امریکی کسان، صنعتی شعبے اور ٹیکنالوجی کمپنیاں نقصان اٹھا سکتی ہیں۔ آگر ٹیرف پالیسی کامیاب ہوتی ہے تو امریکہ میں مقامی پیداوار کو فروغ مل سکتا ہےنئی ملازمتیں پیدا ہو سکتی ہیں اور کچھ صنعتیں جو بیرون ملک منتقل ہو چکی تھیں وہ واپس آ سکتی ہیں۔ اس سے امریکی معیشت کو کچھ حد تک فائدہ پہنچ سکتا ہے۔

عالمی سطح پر ٹیرف کی جنگ مہنگائی کو بڑھا سکتی ہے، جس سے عام صارفین کو زیادہ قیمتیں ادا کرنی پڑیں گی۔ اس کے علاوہ، ترقی پذیر معیشتوں پر اس کا شدید اثر پڑ سکتا ہے، کیونکہ ان کی برآمدات کم ہو جائیں گی اور عالمی معیشت میں سست روی آ سکتی ہے۔ اگر چین جیسے بڑے ممالک نے جوابی کارروائی کی تو اس سے عالمی تجارتی نظام میں شدید عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹیرف پالیسی کا مقصد امریکہ کے تجارتی خسارے کو کم کرنا تھا، لیکن یہ حکمت عملی عالمی معیشت کے لیے کئی مسائل پیدا کر سکتی ہے۔ چین جیسے ممالک کی طاقتور مینوفیکچرنگ اور سپلائی چین سسٹم کو فوری طور پر تبدیل کرنا آسان نہیں ہوگا۔ مزید برآں، یورپ، کینیڈا اور بھارت جیسے ممالک پہلے ہی معاشی چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں اور وہ امریکہ کی اس پالیسی کی حمایت نہیں کر سکتے کیونکہ اس سے ان کی معیشتوں کو نقصان پہنچے گا۔ اگر یہ تجارتی جنگ جاری رہی تو اس سے مہنگائی، بے روزگاری اور عالمی کساد بازاری کے خطرات بڑھ سکتے ہیں، جو کسی بھی ملک کے مفاد میں نہیں ہوگا۔