عالمی کرنسی بحران اور بدلتا ہوا مالیاتی نظام
دنیا اس وقت ایک خاموش مگر گہرے کرنسی بحران سے گزر رہی ہے۔ ماضی میں کرنسی کی قدر میں اتار چڑھاؤ کو عموماً ترقی پذیر ممالک کا مسئلہ سمجھا جاتا تھا، مگر آج یہ بحران ترقی یافتہ معیشتوں تک پھیل چکا ہے۔ تقریباً ہر ملک اس جدوجہد میں ہے کہ وہ اپنی کرنسی کو کیسے مستحکم رکھے، کیونکہ کرنسی کی کمزوری نہ صرف مہنگائی کو جنم دیتی ہے بلکہ ریاست کی معاشی خودمختاری کو بھی کمزور کر دیتی ہے۔
زیادہ تر ممالک میں کرنسی دباؤ کی بنیادی وجہ مسلسل بڑھتا ہوا تجارتی خسارہ ہے۔ جب کوئی ملک درآمدات پر زیادہ اور برآمدات پر کم انحصار کرتا ہے تو اس کے نتیجے میں زرمبادلہ کے ذخائر دباؤ میں آ جاتے ہیں۔ ڈالر یا دیگر عالمی کرنسیوں کی طلب بڑھتی ہے اور مقامی کرنسی کمزور ہو جاتی ہے۔ یہ ایک ایسا دائرہ ہے جس سے نکلنا آسان نہیں، خاص طور پر ان ممالک کے لیے جہاں صنعتی بنیاد کمزور اور برآمدی تنوع محدود ہو۔
کرنسی بحران کے حوالے سے ایک اور حساس مگر اہم پہلو بین الاقوامی سرمایہ کاروں اور مالیاتی اداروں کا کردار ہے۔ تاریخ میں ایسے الزامات سامنے آتے رہے ہیں کہ بڑے سرمایہ کار یا ہیج فنڈز بعض ممالک کی کرنسیوں پر سٹے بازی کے ذریعے دباؤ ڈالتے ہیں۔ جارج سوروس کی کمپنی پر ماضی میں اس نوعیت کے الزامات لگے، خاص طور پر ایشیائی مالیاتی بحران کے دوران، اگرچہ سوروس نے ان الزامات کو مسترد کیا۔ اس کے باوجود یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ عالمی مالیاتی نظام میں طاقتور سرمایہ چند گھنٹوں میں کسی کمزور معیشت کو ہلا کر رکھ سکتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ امریکہ، جو دوسری جنگ عظیم کے بعد سے عالمی کرنسی نظام پر حاوی رہا، اب خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہا ہے۔ ڈی ڈالرائزیشن کی بحث محض نعرہ نہیں رہی بلکہ عملی اقدامات کی صورت اختیار کر رہی ہے۔ چین، روس اور کئی دیگر ممالک دو طرفہ تجارت میں ڈالر کے بجائے مقامی کرنسیوں کے استعمال کی کوشش کر رہے ہیں۔ خلیجی ممالک، جو طویل عرصے تک پیٹرو ڈالر نظام کا حصہ رہے، اب اپنے تجارتی اور مالیاتی آپشنز کو متنوع بنانے کی بات کر رہے ہیں۔ اگرچہ ڈالر ابھی بھی عالمی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، مگر اس کی اجارہ داری پر سوالات ضرور اٹھنے لگے ہیں۔
دوسری طرف کچھ ممالک ایسے ہیں جہاں کرنسی بحران مکمل معاشی افراتفری میں بدل چکا ہے۔ ارجنٹینا مسلسل مہنگائی اور کرنسی کی شدید گراوٹ کا شکار ہے۔ ایران پر پابندیوں نے اس کی کرنسی کو تقریباً مفلوج کر دیا ہے۔ بولیویا اور لاطینی امریکہ کے دیگر ممالک میں بھی ڈالر کی قلت اور بلیک مارکیٹ نے ریاستی کنٹرول کو کمزور کیا ہے۔ ان ممالک میں کرنسی محض لین دین کا ذریعہ نہیں رہی بلکہ روزمرہ سیاست اور سماجی بے چینی کا مرکز بن چکی ہے۔
پاکستان بھی اس عالمی بحران سے محفوظ نہیں رہا۔ چند برس قبل ملک ڈیفالٹ کے دہانے پر پہنچ گیا تھا اور روپے کی قدر 300 سے تجاوز کر گئی۔ اگرچہ فوری ڈیفالٹ ٹل گیا اور تجارتی خسارہ کسی حد تک قابو میں آیا، مگر بنیادی مسائل جوں کے توں موجود ہیں۔ پاکستان کی معیشت اب بھی درآمدات پر انحصار کرتی ہے، جبکہ برآمدات محدود اور کم ویلیو ایڈڈ ہیں۔ زرمبادلہ کے ذخائر کا دارومدار قرضوں اور ترسیلات زر پر ہے، جو ایک پائیدار حل نہیں۔
بھارت، جسے عموماً ایک مضبوط ابھرتی ہوئی معیشت سمجھا جاتا ہے، بھی مکمل طور پر محفوظ نہیں۔ امریکہ کے ساتھ جاری ٹیرف اور تجارتی تنازعات کے پس منظر میں بھارت کو بھی ڈالر کے مقابلے میں اپنی کرنسی کو مستحکم رکھنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ آج کی عالمی معیشت میں کوئی بھی ملک مکمل طور پر الگ تھلگ ہو کر محفوظ نہیں رہ سکتا۔
کرنسی بحران کے تناظر میں کرپٹو کرنسیز کی طرف رجحان بھی بڑھ رہا ہے۔ کچھ ممالک اور افراد اسے روایتی مالیاتی نظام سے نجات کا راستہ سمجھتے ہیں، مگر یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ ایسی ڈیجیٹل کرنسیوں پر کیسے اعتماد کیا جائے جن کا کوئی مرکزی دفتر، ریگولیٹری اتھارٹی یا واضح قانونی ڈھانچہ موجود نہیں۔ حالیہ برسوں میں کرپٹو فراڈز، ایکسچینجز کے دیوالیہ ہونے اور سرمایہ کاروں کے اربوں ڈالر ڈوبنے کے واقعات نے اس نظام کی کمزوریوں کو بے نقاب کیا ہے۔
پاکستان کے لیے اس تمام صورتحال میں سب سے اہم سبق یہ ہے کہ وقتی انتظامات مسئلے کا حل نہیں۔ اگر واقعی روپے کو مستحکم کرنا ہے تو سب سے پہلی ترجیح تجارتی خسارے کا مستقل حل ہونا چاہیے۔ اس کا واحد پائیدار راستہ صنعتی ترقی اور برآمدات میں اضافہ ہے۔ مقامی صنعت کو سستی توانائی، پالیسی میں تسلسل، اور برآمدی منڈیوں تک رسائی دیے بغیر ڈالر پر قابو پانا ممکن نہیں۔ جب تک پاکستان اپنی معیشت کو درآمدی کھپت سے نکال کر پیداواری اور برآمدی معیشت میں تبدیل نہیں کرتا، کرنسی بحران کا خطرہ ہر چند سال بعد سر اٹھاتا رہے گا۔
عالمی کرنسی بحران دراصل اس بات کی علامت ہے کہ دنیا کا موجودہ مالیاتی نظام دباؤ میں ہے۔ طاقت، تجارت اور کرنسی کے درمیان توازن بدل رہا ہے۔ جو ممالک اس تبدیلی کو بروقت سمجھ کر اپنی معیشت کو مضبوط بنیادوں پر استوار کریں گے، وہی مستقبل میں اپنی کرنسی اور خودمختاری کا تحفظ کر سکیں گے۔

