زرعی معیشت اور کھوئے ہوئے مواقع
پاکستان کا زرعی شعبہ کبھی قومی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا تھا۔ ایک وقت تھا جب خیبر پختونخوا، پنجاب اور سندھ کی زرخیز زمینیں نہ صرف ملک کی غذائی ضروریات پوری کرتی تھیں بلکہ کپاس، گندم اور چینی جیسی فصلوں کے ذریعے قیمتی زرمبادلہ بھی کمایا جاتا تھا۔ دریاؤں کے کنارے آباد دیہات، نہری نظام اور محنتی کسان پاکستان کو زرعی خود کفالت کی مثال بناتے تھے۔ مگر وقت گزرنے کے ساتھ یہ شعبہ آہستہ آہستہ زوال کا شکار ہوتا چلا گیا اور آج وہی ملک خوراک کی درآمدات پر اربوں ڈالر خرچ کرنے پر مجبور ہے۔
تاریخی طور پر پنجاب اور سندھ گندم، کپاس اور گنے کی پیداوار کے بڑے مراکز رہے ہیں، جبکہ خیبر پختونخوا پھلوں، سبزیوں اور مکئی میں نمایاں مقام رکھتا تھا۔ ان صوبوں کی مجموعی پیداوار اتنی تھی کہ ملک کو بیرونی دنیا کی طرف دیکھنے کی ضرورت نہیں پڑتی تھی۔ کپاس پاکستان کی معیشت کا ستون سمجھی جاتی تھی، جس پر ٹیکسٹائل صنعت کھڑی تھی اور لاکھوں افراد کا روزگار وابستہ تھا۔ مگر آج صورتحال یہ ہے کہ کپاس کی پیداوار تاریخی کم ترین سطح پر ہے اور صنعت کو خام مال درآمد کرنا پڑ رہا ہے۔
زرعی زوال کی سب سے نمایاں وجہ کم پیداوار ہے۔ پاکستان میں فی ایکڑ پیداوار عالمی معیار سے کہیں کم ہے، حتیٰ کہ ہمسایہ ملک بھارت بھی کئی فصلوں میں ہم سے بہتر نتائج دے رہا ہے۔ گندم، چاول، کپاس اور مکئی جیسی بنیادی فصلوں میں جدید بیج، تحقیق اور ٹیکنالوجی کے استعمال میں ہم پیچھے رہ گئے ہیں۔ کسان اب بھی پرانے طریقوں پر انحصار کرتا ہے، جبکہ دنیا جدید زرعی سائنس کی مدد سے کم زمین سے زیادہ پیداوار حاصل کر رہی ہے۔
اس تناظر میں نیدرلینڈز کی مثال بار بار دی جاتی ہے۔ رقبے کے لحاظ سے ایک چھوٹا سا ملک، مگر زرعی برآمدات میں دنیا کے بڑے ممالک کے ساتھ کھڑا ہے۔ جدید گرین ہاؤسز، تحقیق پر سرمایہ کاری، پانی کے مؤثر استعمال اور ویلیو ایڈیشن نے ہالینڈ کو زرعی معیشت کا پاور ہاؤس بنا دیا ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ مسئلہ زمین کی کمی نہیں بلکہ حکمتِ عملی کی کمی ہے۔
پاکستان کے زرعی شعبے کو درپیش مسائل محض تکنیکی نہیں بلکہ حکومتی بھی ہیں۔ پانی کی ناقص تقسیم، نہری نظام کی خستہ حالی، موسمیاتی تبدیلی، غیر معیاری بیج، مہنگی کھاد اور زرعی ادویات کسان کی کمر توڑ دیتی ہیں۔ دوسری جانب پالیسی کا عدم تسلسل، تحقیق پر ناکافی سرمایہ کاری، اور کسان کو منڈی تک براہِ راست رسائی نہ ملنا بھی بڑے مسائل ہیں۔ فصل کی کٹائی کے بعد ذخیرہ، کولڈ چین اور ٹرانسپورٹ کی کمی کی وجہ سے بڑی مقدار میں پیداوار ضائع ہو جاتی ہے۔
ایک اور بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان زیادہ تر خام زرعی اجناس برآمد کرتا ہے۔ گندم، چاول، پھل اور سبزیاں ویلیو ایڈیشن کے بغیر بیرونِ ملک جاتی ہیں، جس سے کم آمدن حاصل ہوتی ہے۔ اگر یہی اجناس پراسیسنگ، پیکنگ اور برانڈنگ کے بعد برآمد کی جائیں تو آمدن کئی گنا بڑھ سکتی ہے۔ ڈیری، گوشت، فروٹ پروسیسنگ، اور ٹیکسٹائل کے شعبے میں ویلیو ایڈیشن پاکستان کے لیے گیم چینجر ثابت ہو سکتی ہے۔
زرعی شعبے کی بحالی کے لیے حکومت اور عوام دونوں کو کردار ادا کرنا ہوگا۔ حکومت کو تحقیق، معیاری بیجوں، جدید آبپاشی اور کسان دوست پالیسیوں پر سنجیدگی سے سرمایہ کاری کرنا ہوگی۔ زرعی یونیورسٹیوں اور ریسرچ سینٹرز کو عملی مسائل سے جوڑنا ہوگا، جبکہ کسان کو جدید طریقوں کی تربیت دینا ہوگی۔ دوسری طرف کسان کو بھی روایتی سوچ سے نکل کر نئی ٹیکنالوجی اپنانا ہوگی اور مارکیٹ کے تقاضوں کو سمجھنا ہوگا۔
اگر پاکستان زرعی پیداوار بڑھانے، ویلیو ایڈیشن کو فروغ دینے اور برآمدات کو منظم کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو نہ صرف غذائی خود کفالت حاصل کی جا سکتی ہے بلکہ معیشت کو مضبوط بنیاد بھی فراہم کی جا سکتی ہے۔ بصورتِ دیگر زراعت کا یہ مسلسل زوال ملک کو مزید معاشی دباؤ میں دھکیلتا رہے گا۔
آج سوال یہ نہیں کہ پاکستان کے پاس زرعی وسائل ہیں یا نہیں، اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم ان وسائل کو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق استعمال کرنے کے لیے تیار ہیں یا نہیں۔

