دنیا کی مہنگی ترین گھڑیاں اور ان کی حیران کن قیمتیں
دنیا میں مردانہ گھڑیوں کی ایک ایسی منڈی بھی موجود ہے جہاں وقت دیکھنا اصل مقصد نہیں رہتا بلکہ حیثیت، دولت اور منفرد ذوق کا اظہار زیادہ اہم سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض لگژری گھڑیاں لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں اور اربوں روپے میں فروخت ہوتی ہیں۔ سوئٹزرلینڈ کی چند معروف کمپنیاں اس میدان میں سب سے نمایاں سمجھی جاتی ہیں جن میں پیٹیک فلپ، رچرڈ مل، آڈیمار پیگے، واشرون کانسٹنٹن، اے لانگے اینڈ زونے اور جیکب اینڈ کمپنی شامل ہیں۔ ان کمپنیوں کی عام گھڑیاں بھی کروڑوں روپے میں فروخت ہوتی ہیں جبکہ محدود تعداد میں تیار کی جانے والی خصوصی گھڑیوں کی قیمت اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔
مہنگی ترین گھڑیوں کی بات کی جائے تو ایک مشہور ہیرے جڑی گھڑی کی قیمت تقریباً پانچ کروڑ پچاس لاکھ امریکی ڈالر بتائی جاتی ہے۔ موجودہ شرح مبادلہ کے مطابق یہ رقم تقریباً پندرہ ارب ساٹھ کروڑ پاکستانی روپے بنتی ہے۔ اتنی رقم میں نہ صرف ایک جدید کاروباری طیارہ خریدا جا سکتا ہے بلکہ کئی بڑے صنعتی منصوبوں میں بھی سرمایہ کاری کی جا سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسی گھڑیاں عام صارفین کے بجائے ارب پتی افراد، شاہی خاندانوں اور عالمی شہرت یافتہ شخصیات کی توجہ کا مرکز بنتی ہیں۔
ان گھڑیوں کی بلند قیمت کے پیچھے کئی عوامل ہوتے ہیں۔ بعض گھڑیوں میں نایاب ہیرے، پلاٹینم، سفید سونا اور دیگر قیمتی دھاتیں استعمال کی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ ایک گھڑی کے اندر موجود باریک مکینیکل نظام کو تیار کرنے میں سینکڑوں گھنٹے صرف ہوتے ہیں۔ بعض ماہر گھڑی ساز ہاتھ سے ایسے پرزے تیار کرتے ہیں جن کی تیاری میں مہینوں بلکہ بعض اوقات سال لگ جاتے ہیں۔ محدود تعداد میں تیاری بھی قیمت بڑھانے کا ایک اہم سبب سمجھی جاتی ہے کیونکہ نایاب چیز ہمیشہ زیادہ قیمتی مانی جاتی ہے۔
مشہور شخصیات بھی اس صنعت میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ عالمی کھلاڑی، فلمی ستارے، موسیقار اور کاروباری شخصیات جب کسی مخصوص برانڈ کی گھڑی پہن کر عوام کے سامنے آتے ہیں تو اس برانڈ کی مقبولیت میں نمایاں اضافہ ہو جاتا ہے۔ بعض کمپنیاں معروف شخصیات کو اپنا سفیر بناتی ہیں جبکہ بعض خصوصی ماڈل انہی کے نام سے منسوب کیے جاتے ہیں۔ اس عمل سے گھڑی صرف ایک مصنوعات نہیں رہتی بلکہ ایک علامت بن جاتی ہے جسے خریدار اپنی سماجی حیثیت کے اظہار کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
تاہم اصل سوال یہ ہے کہ کیا ان گھڑیوں کی قیمت ان میں استعمال ہونے والے مواد کے مطابق ہوتی ہے؟ اس کا جواب مکمل طور پر ہاں میں نہیں دیا جا سکتا۔ اگرچہ قیمتی ہیرے، پلاٹینم اور اعلیٰ درجے کی کاریگری قیمت میں اضافہ کرتے ہیں، لیکن اکثر ماہرین کا خیال ہے کہ حتمی قیمت کا بڑا حصہ برانڈ کی ساکھ، نایابی، تاریخ، تشہیر اور خریدار کے نفسیاتی رجحان سے جڑا ہوتا ہے۔ کئی مواقع پر گھڑی میں استعمال ہونے والے مواد کی حقیقی مالیت فروختی قیمت کا صرف ایک محدود حصہ ہوتی ہے۔ دوسرے الفاظ میں دیکھا جائے تو خریدار صرف دھات اور ہیرے نہیں خرید رہا ہوتا بلکہ ایک کہانی، ایک حیثیت اور ایک ایسا نام خرید رہا ہوتا ہے جسے دنیا بھر میں وقعت حاصل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض گھڑیوں کی قیمتیں معاشی منطق سے زیادہ جذباتی اور سماجی عوامل کے تحت طے ہوتی ہیں۔ لگژری گھڑیوں کی دنیا میں وقت کی قیمت کم اور تصورِ وقار کی قیمت کہیں زیادہ نظر آتی ہے، اور شاید یہی وہ عنصر ہے جو چند ہزار روپے کی گھڑی اور ہزاروں کروڑ روپے کی گھڑی کے درمیان سب سے بڑا فرق پیدا کرتا ہے۔

