LatestLiving

فلمی صنعت کی بحالی کے لیے پنجاب حکومت کے اقدامات

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی قیادت میں پنجاب حکومت نے لاہور کو دوبارہ فلم، ڈرامہ اور تفریحی سرگرمیوں کا مرکز بنانے کے لیے اقدامات شروع کیے ہیں۔ یہ ایک ایسا فیصلہ ہے جسے نہ صرف ثقافتی اعتبار سے اہم قرار دیا جا سکتا ہے بلکہ معاشی اور سماجی نقطۂ نظر سے بھی اس کی بڑی اہمیت ہے۔ ایک زمانہ تھا جب لاہور برصغیر اور بعد ازاں پاکستان کی فلمی سرگرمیوں کا دل سمجھا جاتا تھا۔ آج حکومت اس کھوئی ہوئی شناخت کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جو یقیناً قابلِ ستائش ہے۔

دنیا بھر میں فلم اور تفریحی صنعت ایک بہت بڑی معاشی سرگرمی سمجھی جاتی ہے۔ یہ صنعت اربوں ڈالر کی آمدنی پیدا کرتی ہے، لاکھوں افراد کو روزگار فراہم کرتی ہے اور سیاحت، اشتہارات، موسیقی، فیشن اور دیگر شعبوں کی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ فلمیں اور ڈرامے صرف تفریح کا ذریعہ نہیں ہوتے بلکہ وہ معاشروں کی فکری تربیت، اخلاقی رہنمائی اور سماجی شعور اجاگر کرنے میں بھی مدد دیتے ہیں۔ عوام کو اچھائی اور برائی میں فرق سمجھانے، قومی شناخت کو مضبوط بنانے اور ثقافتی اقدار کو فروغ دینے میں ان کا کردار انتہائی اہم ہے۔ امریکہ کی فلمی صنعت اور بھارت کی فلمی دنیا اس کی نمایاں مثالیں ہیں جنہوں نے نہ صرف اپنے ممالک کو معاشی فائدہ پہنچایا بلکہ دنیا بھر میں اپنے ثقافتی اثرات بھی قائم کیے۔

لاہور نے بھی ماضی میں فلمی دنیا میں ایک درخشاں مقام حاصل کیا تھا۔ ساٹھ کی دہائی سے لے کر کئی عشروں تک یہاں فلموں کی تیاری، موسیقی کی تخلیق، اداکاری اور ہدایت کاری کے میدان میں بے شمار نامور شخصیات سامنے آئیں۔ لاہور کے فلمی مراکز میں ایسی فلمیں بنیں جو آج بھی پاکستانی ثقافت کا قیمتی اثاثہ سمجھی جاتی ہیں۔ اس دور میں فلم سازی ایک باقاعدہ فن اور پیشہ ورانہ سرگرمی تھی جس میں معیار کو اہمیت دی جاتی تھی۔

تاہم وقت گزرنے کے ساتھ اس صنعت کا زوال شروع ہو گیا۔ آہستہ آہستہ فلمی شعبے پر ایسے مالی طور پر مضبوط مگر غیر پیشہ ور عناصر کا غلبہ ہو گیا جنہوں نے صلاحیت اور معیار کے بجائے ذاتی تعلقات، گروہ بندی اور مالی اثر و رسوخ کو ترجیح دی۔ نئے اور باصلاحیت افراد کے لیے دروازے بند ہوتے گئے جبکہ غیر تربیت یافتہ اور غیر سنجیدہ افراد صنعت میں نمایاں ہوتے چلے گئے۔ نتیجتاً فلموں کا معیار گرتا گیا، کہانیاں کمزور ہوتی گئیں اور ناظرین سینما گھروں سے دور ہوتے چلے گئے۔ بالآخر صورتحال یہاں تک پہنچی کہ سینما گھر بند ہونے لگے اور پاکستان کی فلمی صنعت تقریباً مفلوج ہو گئی۔

پنجاب حکومت کا موجودہ اقدام یقیناً مثبت اور حوصلہ افزا ہے، لیکن اس منصوبے کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ اسے کس انداز میں آگے بڑھایا جاتا ہے۔ اگر صنعت کی بحالی کے لیے انہی چہروں اور انہی روایتی حلقوں پر انحصار کیا گیا جنہیں ماضی کے زوال کا ذمہ دار سمجھا جاتا ہے تو مطلوبہ نتائج حاصل کرنا مشکل ہوگا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت نئے ٹیلنٹ، نوجوان ہدایت کاروں، مصنفین، تکنیکی ماہرین اور تخلیقی صلاحیت رکھنے والے افراد کو سامنے لائے اور انہیں مواقع فراہم کرے۔

اصل ضرورت روایتی سوچ سے ہٹ کر نئے راستے اختیار کرنے کی ہے۔ دنیا میں فلم سازی کا شعبہ تیزی سے بدل رہا ہے اور جدید ٹیکنالوجی اس کا چہرہ تبدیل کر رہی ہے۔ پنجاب حکومت کو چاہیے کہ لاہور میں جدید مصنوعی ذہانت اور متحرک تصویری مراکز قائم کرے جہاں نوجوانوں کو تربیت دی جائے اور جدید ترین سہولیات فراہم کی جائیں۔ آج ایسی فلمیں اور ڈرامے تیار کیے جا سکتے ہیں جن میں مہنگے سیٹ، وسیع شوٹنگ مقامات اور بھاری اخراجات کی ضرورت بہت کم رہ جاتی ہے۔ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے محدود وسائل میں بھی عالمی معیار کا مواد تیار کیا جا سکتا ہے۔

اسی طرح ترکی کے ذرائع ابلاغ اور تفریحی اداروں کے ساتھ مشترکہ منصوبے شروع کیے جا سکتے ہیں۔ ترکی نے گزشتہ دو دہائیوں میں اپنے ڈراموں اور فلموں کے ذریعے عالمی سطح پر نمایاں مقام حاصل کیا ہے۔ پاکستان ان کے تجربات سے بہت کچھ سیکھ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ کینیڈا، امریکہ اور برطانیہ میں بھی اردو اور پنجابی زبان میں مواد تیار کیا جا رہا ہے۔ ان ممالک کے اداروں کے ساتھ تعاون نہ صرف جدید مہارتوں کی منتقلی کا باعث بنے گا بلکہ پاکستانی مواد کے لیے بین الاقوامی منڈیوں کے دروازے بھی کھولے گا۔

اگر پنجاب حکومت ایک ایسی فلمی صنعت کی بنیاد رکھنے میں کامیاب ہو جاتی ہے جو معیاری کہانیاں، جدید تکنیک اور بین الاقوامی معیار کی پیشکش کر سکے تو یہ پاکستان کے لیے ایک بڑی خدمت ہوگی۔ مستقبل کی کامیابی صرف فلموں کی تعداد بڑھانے میں نہیں بلکہ ان کے معیار کو بلند کرنے میں ہے۔ ہمیں ایسی فلمیں اور ڈرامے تخلیق کرنے ہوں گے جو دنیا بھر کے ناظرین کو متاثر کر سکیں، قومی تاریخ، ثقافت اور جدید معاشرتی موضوعات کو مؤثر انداز میں پیش کر سکیں اور عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت تشخص اجاگر کریں۔ لاہور کے پاس دوبارہ ایک عظیم فلمی مرکز بننے کی صلاحیت موجود ہے، لیکن اس کے لیے ماضی کی غلطیوں کو دہرانے کے بجائے مستقبل کی ضروریات کے مطابق ایک نئی، جدید اور دور اندیش حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی۔