BusinessFeatured

کیا کرپٹو کرنسی ایک ڈیجیٹل انقلاب ہے یا مالیاتی فریب؟

عالمی معیشت کے ایک ایسے دور میں جب ہر چیز ڈیجیٹل ہوتی جارہی ہے، ایک نیا تصور تیزی سے مقبول ہورہا ہے۔ یہ تصور ہے کرپٹو کرنسی کا، جسے ڈیجیٹل دور کی کرنسی قرار دیا جارہا ہے۔ اس کا آغاز ایک پراسرار شخص "ساتوشی ناکاموٹو” کے نام سے 2009 میں ہوا، جس نے "بٹ کوائن” کے نام سے دنیا کی پہلی غیرمرکزی ڈیجیٹل کرنسی متعارف کروائی۔ آج، یہ صرف بٹ کوائن تک محدود نہیں بلکہ ہزاروں ڈیجیٹل کرنسیز کا ایک وسیع جہاں ہے۔

اس نئے نظام کے حامی اسے کرنسیوں کے مستقبل کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ یہ روایتی بینکاری نظام کی پیچیدگیوں سے آزاد، تیز اور سستا طریقہ کار فراہم کرتا ہے، جس کے ذریعے لمحہ بھر میں دنیا کے کسی بھی کونے میں رقم کی منتقلی ممکن ہے۔ یہ نظام عوامی لیجر یا بلاک چین پر مبنی ہے، جس میں ہر لین دین کا ریکارڈ محفوظ ہوتا ہے۔ اسے اب متعدد ترقی یافتہ ممالک جیسے ایل سلواڈور اور وسطی افریقی جمہوریہ نے بطور قانونی کرنسی تسلیم کر لیا ہے، جبکہ بڑی عالمی کمپنیاں جیسے ٹیسلا، مائیکرو اسٹریٹیجی، اور PayPal بھی اسے اپنی خدمات میں شامل کرچکی ہیں۔ اس کے علاوہ، اس کی بنیاد پر اسمارٹ کنٹریکٹس، ڈیجیٹل اثاثوں کی ملکیت، اور ڈیسنٹرلائزڈ فائنانس جیسی نئی معاشی سوچ نے جنم لیا ہے۔

لیکن اس چمک دمک کے پیچھے ایک ایسی دنیا بھی ہے جہاں خطرات اور شکوک و شبہات کی گہری چھاؤں ہے۔ سب سے بڑا سوال اس نظام کی بنیاد کو لے کر ہے۔ بٹ کوائن جیسی معروف کرنسی کا کوئی مرکزی دفتر نہیں، نہ ہی اس کے خالق نے کبھی اپنا تعارف کروایا۔ یہی پراسراریت اس پر شک کا باعث بنتی ہے۔ حفاظت کے دعوؤں کے باوجود، متعدد واقعات میں لاکھوں ڈالر کے بٹ کوائن ہیکنگ یا ذاتی چابیاں گم ہونے کے باعث ہمیشہ کے لیے ضائع ہوچکے ہیں، جیسا کہ 2014 میں جاپان کے ایکسچینج "ماؤنٹ گوکس” کے ہیک ہونے کا واقعہ سامنے آیا تھا۔

اس ڈیجیٹل سونے کے جنون نے ایک خطرناک روپ بھی اختیار کر لیا ہے۔ یہ اب محض ٹیکنالوجی نہیں رہی بلکہ ایک قسم کی جوا بازی بن چکی ہے، جہاں "میم کوائنز” نامی کرنسیاں گھٹیا مذاق کی طرح آتی ہیں، عوام کا پیسہ ہتھیا کر غائب ہوجاتی ہیں۔ اسی طرح، اس کی نامعلوم شناخت اور آسانی سے منتقلی کی خصوصیت نے اسے مجرمانہ سرگرمیوں، منی لانڈرنگ اور تاوان کے وصولے کے لیے ایک مثالی ذریعہ بنا دیا ہے۔

یہ سلسلہ صرف مالیاتی دھوکے دہی تک ہی محدود نہیں۔ اس سے وابستہ تشدد کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔ سیم بینک مین فریڈ کا ایف ٹی ایکس اسکینڈل ہو یا دیگر عالمی سطح کے گھوٹالے، ان واقعات نے واضح کیا کہ بغیر ضابطے کے یہ نظام کس قدر خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ اسی تناظر میں وہ واقعہ بھی دنیا کے لیے ایک جھٹکا تھا جب ایک روسی نژاد کرپٹو سے وابستہ جوڑے کو بے رحمی سے قتل کر دیا گیا، جسے دولت اور کرپٹو سے جڑے تنازعات سے جوڑا گیا۔ ان واقعات نے اس صنعت کے سیاہ پہلوؤں کو بے نقاب کیا ہے۔

بین الاقوامی سطح پر اسے قبولیت کا سفر ہموار نہیں رہا۔ بیشتر مغربی ممالک اسے مکمل قانونی حیثیت دینے سے گریزاں ہیں۔ اگرچہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا کو کرپٹو کا دارالحکومت بنانے کا وعدہ کیا ہے، لیکن اس سمت میں ابھی کوئی ٹھوس قانون سازی نظر نہیں آتی۔ دنیا کے نامور ترین سرمایہ کار وارن بفیٹ تو اس کی مکمل مخالفت کرتے ہوئے بارہا کہہ چکے ہیں کہ کرپٹو کرنسی کی کوئی حقیقی قدر نہیں اور آخرکار اس کا مستقبل صفر ہوگا۔

پاکستان جیسے ملک کے لیے، جو ہمیشہ مالیاتی بحران کے دہانے پر کھڑا رہتا ہے، یہ معاملہ اور بھی نازک ہے۔ کرپٹو کرنسی کو بغیر کسی مضبوط قانونی ڈھانچے کے اپنانا، غیرقانونی سرگرمیوں کے دروازے کھولنے اور ملک سے سرمائے کی غیرقانونی نقل و حرکت کو بے تحاشا بڑھانے کے مترادف ہوسکتا ہے۔

ایسے میں ضرورت اس امر کی ہے کہ انفرادی سطح پر ہو یا قومی سطح پر، ہم انتہائی محتاط اور دانشمندانہ رویہ اپنائیں۔ ٹیکنالوجی کے اس نئے دور سے فائدہ اٹھانے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے اس پر پوری طرح تحقیق کی جائے، مضبوط قوانین بنائے جائیں، اور عوام کو اس کے ممکنہ فوائد اور سنگین خطرات دونوں سے آگاہ کیا جائے۔ بلا سوچے سمجھے اس دوڑ میں شامل ہونا ہماری معیشت اور شہریوں دونوں کے لیے تباہ کن ثابت ہوسکتا ہے۔