BusinessFeatured

پی آئی اے کی نجکاری سے قومی وسائل کے زیاں کا خاتمہ

کئی سالوں کی سیاسی مخالفت، مالی دیوالیہ پن اور ملازمین کی یونینوں کی شدید مزاحمت کے بعد بالآخر حکومت پاکستان پی آئی اے کو نجی شعبے کے حوالے کرنے میں کامیاب ہو گئی ہے۔ حالیہ بولی میں کراچی کے ایک بڑے گروپ عارف حبیب کی قیادت میں کنسورشیم نے اسے حاصل کیا ہے۔ اگرچہ کچھ حلقوں کی طرف سے یہ کہہ کر قوم کو متاثر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ پی آئی اے کو سستے داموں بیچا گیا ہے اور اس پورے عمل سے حکومت کو محض دس ارب روپے ہی حاصل ہوں گے، لیکن حقائق اس سے یکسر مختلف ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ سرکاری کنٹرول میں یہ ایئر لائن نہ صرف ہر سال بھاری نقصان اٹھا رہی تھی بلکہ اپنی ناقص خدمات، تکنیکی مسائل اور بالآخر کراچی میں ہونے والے ہوائی حادثے کے بعد یورپ اور امریکا میں پابندی کی زد پر آچکی تھی۔ اس ایئر لائن کا کل مجموعی نقصان چھ سو ارب روپے سے تجاوز کر چکا تھا اور ہر سال پچاس ارب روپے کا خسارہ حکومتی خزانے پر بوجھ بن رہا تھا۔ معاشی ماہرین کا کہنا تھا کہ اگر کوئی گروہ اس ایئر لائن کو مفت میں بھی لینے پر راضی ہو تو حکومت کو اس موقع کو ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہیے۔

پی آئی اے کا سب سے بڑا مسئلہ انتہائی زیادہ افرادی قوت تھی۔ جہاں ترکی کی ایئر لائن کا ہوائی جہاز سے ملازم کا تناسب ایک سے 92 ہے، وہیں پی آئی اے میں یہ تناسب ایک سے 500 تک تھا جو دنیا میں سب سے زیادہ شمار ہوتا تھا۔ اس پر طرہ یہ کے بیشتر ملازمین سیاسی بنیادوں پر بھرتی کیے گئے تھے۔ صورتحال اس وقت انتہائی سنگین ہو گئی جب ایک وزیر نے ایوان میں اعلان کیا کہ ایئر لائن کے متعدد پائلٹوں کے پاس جعلی ڈگریاں ہیں، جس کے بعد یورپ سمیت متعدد مغربی ممالک نے پی آئی اے پر مکمل پابندی عائد کر دی۔

ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ نجکاری سے پہلے حکومت نے ایئر لائن کے بھاری قرضوں کو ایک علیحدہ کمپنی میں منتقل کر دیا، تاکہ اسے ایک صاف بیلنس شیٹ کے ساتھ فروخت کیا جا سکے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ قرضوں کے بوجھ سے آزاد ہونے اور کچھ اصلاحات کے بعد پی آئی اے گزشتہ کچھ سالوں سے منافع کما رہی تھی، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ بہتر انتظامیہ کے تحت یہ ادارہ پھر سے کامیاب ہو سکتا ہے۔

اب جبکہ نجی شعبے کے ہاتھوں میں یہ ادارہ آگیا ہے، عوام اور ماہرین دونوں کو امید ہے کہ پیشہ ورانہ انتظام، جدید آپریشنل طریقے اور سیاسی مداخلت سے آزادی اسے خطے کی ایک معتبر ایئر لائن بنا سکیں گی۔ حکومت کے لیے سب سے بڑی ریلیف یہ ہے کہ اب ہر سال پچاس ارب روپے کا خسارہ پورا کرنے کی زمہ داری سے سبکدوش ہو گئی ہے، اور یہ رقم تعلیم، صحت یا بنیادی ڈھانچے جیسے شعبوں میں استعمال ہو سکے گی۔

یہ فیصلہ محض ایک ایئر لائن کی فروخت کا معاملہ نہیں، بلکہ اس سے بڑھ کر پاکستان میں سرکاری اداروں کے اصلاحاتی اور نجکاری کے عمل کا ایک اہم امتحان ہے۔ آئندہ وقت ہی یہ بتا پائے گا کہ کیا نجی شعبہ واقعی اس قومی اثاثے کو اس کا کھویا ہوا وقار واپس دلانے میں کامیاب ہوتا ہے کے نہیں۔