برقی گاڑیوں کا خاموش انقلاب اور اس کی رفتار
برقی گاڑیاں کبھی مستقبل کی علامت سمجھی جاتی تھیں۔ ماحول دوست، کم خرچ اور جدید ٹیکنالوجی سے لیس یہ گاڑیاں عالمی سطح پر نقل و حمل کے نظام میں ایک خاموش انقلاب لانے والی تھیں۔ تاہم وقت گزرنے کے ساتھ یہ حقیقت سامنے آئی کہ ان کی مقبولیت وہ رفتار حاصل نہیں کر سکی جس کا ابتدا میں اندازہ لگایا گیا تھا۔ مختلف خطوں میں ان کی قبولیت، کامیابی اور ناکامی کی وجوہات ایک دوسرے سے خاصی مختلف ہیں۔
یورپ کے کئی ممالک، خصوصاً ناروے، نیدرلینڈز اور جرمنی میں برقی گاڑیاں نسبتاً زیادہ کامیاب رہی ہیں۔ ناروے اس حوالے سے دنیا کی مثال بن چکا ہے جہاں نئی فروخت ہونے والی گاڑیوں کی اکثریت برقی یا ہائبرڈ ہے۔ اس کامیابی کی بنیادی وجہ حکومتی مراعات، ٹیکس میں چھوٹ، مفت یا سستی چارجنگ سہولتیں اور سخت ماحولیاتی قوانین ہیں۔ چین بھی برقی گاڑیوں کی پیداوار اور استعمال میں تیزی سے آگے بڑھا ہے، جہاں حکومتی سبسڈی، مقامی صنعت کی حوصلہ افزائی اور بڑے پیمانے پر چارجنگ نیٹ ورک نے اس شعبے کو مضبوط بنایا۔
اس کے برعکس امریکہ، بھارت اور کئی ترقی پذیر ممالک میں برقی گاڑیوں کی مقبولیت توقع سے کم رہی۔ امریکہ میں اگرچہ بڑی کمپنیوں نے جدید ماڈلز متعارف کروائے، مگر قیمت، بیٹری کی عمر اور چارجنگ سہولتوں کی کمی نے عام صارف کو محتاط رکھا۔ بھارت میں بنیادی ڈھانچے کی کمزوری، مہنگی بیٹریاں اور محدود رینج اب بھی بڑی رکاوٹیں ہیں۔ افریقہ اور مشرق وسطیٰ کے بیشتر ممالک میں بھی یہی صورتحال نظر آتی ہے، جہاں برقی گاڑی ایک لگژری شے سمجھی جاتی ہے، نہ کہ روزمرہ کی ضرورت۔
برقی گاڑیوں کی سست مقبولیت کی بڑی وجہ ان کی ابتدائی قیمت، بیٹری ٹیکنالوجی پر عدم اعتماد، چارجنگ انفراسٹرکچر کی کمی اور لمبے سفر کے حوالے سے خدشات ہیں۔ صارفین اب بھی یہ سوال کرتے ہیں کہ اگر بیچ راستے بیٹری ختم ہو جائے تو متبادل کیا ہوگا۔ اس کے علاوہ بیٹری کی تبدیلی کی لاگت بھی ایک بڑا مسئلہ ہے، جو کئی لوگوں کو روایتی گاڑیوں سے دور جانے سے روکتی ہے۔
پاکستان میں برقی گاڑیوں کے لیے چیلنجز اور بھی گہرے ہیں۔ یہاں سب سے بڑی رکاوٹ قیمت ہے، کیونکہ برقی گاڑیاں عام صارف کی پہنچ سے باہر ہیں۔ دوسرا بڑا مسئلہ چارجنگ اسٹیشنز کا نہ ہونا ہے۔ شہروں میں بھی چند گنے چنے مقامات پر یہ سہولت دستیاب ہے، جبکہ دیہی علاقوں میں اس کا تصور ہی نہیں۔ اس کے علاوہ بجلی کی فراہمی کا غیر مستحکم نظام بھی لوگوں کو اس ٹیکنالوجی پر مکمل اعتماد کرنے سے روکتا ہے۔ عوام کے ذہن میں یہ سوال فطری طور پر پیدا ہوتا ہے کہ جب گھروں میں بجلی پوری نہیں ملتی تو گاڑی کہاں سے چارج ہوگی۔
اس کے باوجود پاکستان کے لیے برقی گاڑیاں ایک اہم موقع بھی فراہم کرتی ہیں۔ یہ گاڑیاں فضائی آلودگی میں نمایاں کمی لا سکتی ہیں، جو بڑے شہروں میں صحت کے سنگین مسائل کا سبب بن چکی ہے۔ ایندھن کی درآمد پر خرچ ہونے والا قیمتی زرِ مبادلہ بچایا جا سکتا ہے، اور شور کی آلودگی میں کمی سے شہری زندگی کا معیار بہتر ہو سکتا ہے۔ اگر پاکستان شمسی توانائی کے ساتھ برقی گاڑیوں کو جوڑ دے تو یہ ماڈل نہ صرف سستا بلکہ پائیدار بھی ہو سکتا ہے۔ گھروں اور دفاتر میں سولر چارجنگ پوائنٹس اس نظام کو مزید قابلِ عمل بنا سکتے ہیں۔
حکومت اگر مقامی سطح پر برقی گاڑیوں کی اسمبلنگ اور بیٹری مینوفیکچرنگ کی حوصلہ افزائی کرے تو قیمتوں میں کمی آ سکتی ہے۔ عوامی ٹرانسپورٹ میں برقی بسوں اور رکشوں کا استعمال نہ صرف ماحول دوست ہوگا بلکہ ایندھن کے اخراجات میں بھی نمایاں کمی لائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ صارفین میں آگاہی مہم چلانا بھی ضروری ہے تاکہ لوگ اس ٹیکنالوجی کے فوائد اور حدود دونوں کو حقیقت پسندانہ انداز میں سمجھ سکیں۔
برقی گاڑیوں کا مستقبل صرف ٹیکنالوجی سے نہیں بلکہ پالیسی سے جڑا ہوا ہے۔ وہ ممالک جہاں حکومت نے واضح اور مستقل حکمت عملی اپنائی، وہاں یہ شعبہ پھلا پھولا۔ جہاں پالیسی غیر یقینی رہی، وہاں برقی گاڑیاں ایک تجربہ بن کر رہ گئیں۔ پاکستان کے لیے یہ وقت فیصلہ کن ہے کہ آیا وہ اس عالمی رجحان کا حصہ بنے گا یا پھر ایک اور موقع ضائع کر دے گا۔
آخرکار یہ کہا جا سکتا ہے کہ برقی گاڑیاں مکمل حل نہیں، مگر بہتر مستقبل کی طرف ایک اہم قدم ضرور ہیں۔ اگر پاکستان انہیں اپنی زمینی حقیقت کے مطابق اپنائے، مقامی توانائی وسائل کے ساتھ ہم آہنگ کرے اور عوام کے لیے قابلِ رسائی بنائے تو یہ ٹیکنالوجی نہ صرف ٹرانسپورٹ کے معیار کو بہتر بنا سکتی ہے بلکہ ماحول، معیشت اور شہری زندگی تینوں پر مثبت اثر ڈال سکتی ہے۔ خاموش مگر طاقتور یہ انقلاب اب بھی اپنی جگہ رکھتا ہے، بس اسے درست سمت اور سنجیدہ حکمت عملی کی ضرورت ہے۔

