BusinessFeatured

پاکستان اور بھارت امریکی ویزہ پالیسی کے دو مختلف زاویے

حالیہ امریکی فیصلہ جس میں پچھترممالک پر ویزا پابندی عائد کی گئی بظاہر ایک عجیب تضاد پیش کرتا ہے۔ ایک طرف پاکستان غیر متوقع طور پر ٹرمپ انتظامیہ کی نظر میں نسبتاً بہتر مقام پر دکھائی دیتا ہے، جبکہ دوسری جانب امریکہ اور بھارت کے تعلقات اس وقت اپنی نچلی ترین سطح پر ہیں۔ بھارت کو اس وقت امریکہ کی جانب سے متعدد دباؤ کا سامنا ہے جن میں امریکی کمپنیوں کے لیے بھارتی منڈیوں کا مکمل طور پر کھلنا، ڈالر کو بین الاقوامی تجارت اور زرِ مبادلہ کے ذخائر میں مرکزی حیثیت دینا، دو طرفہ تجارتی خسارے میں کمی اور روس و ایران سے بالخصوص تیل کی درآمدات روکنا شامل ہیں۔ ان مطالبات پر بھارت کا رویہ لچکدار نہیں رہا، جس کی وجہ سے دونوں ممالک کے تعلقات میں واضح تناؤ پیدا ہوا۔ ایسے پس منظر میں یہ سوال فطری ہے کہ جب بھارت امریکہ کی فہرست میں شامل نہیں، تو پھر پاکستان کا نام ان 75 ممالک میں کیوں شامل کیا گیا جن کے لیے امیگریشن ویزا عارضی طور پر روک دیا گیا۔ اصل میں اس کے پیچھے محض ایک نہیں بلکہ کئی عوامل کارفرما ہیں۔

درحقیقت کوئی حیران کن اقدام نہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پہلی صدارتی مدت کے دوران کھلے الفاظ میں مسلمانوں کے امریکہ میں داخلے پر پابندی لگانے کا عندیہ دیا تھا، جس کا عملی اظہار مختلف اسلامی ممالک پر سفری اور ویزا پابندیوں کی صورت میں سامنے آیا۔ اس فہرست میں کویت جیسے ممالک بھی شامل ہیں جن کے شہری دنیا میں سب سے زیادہ فی کس آمدنی رکھنے والوں میں شمار ہوتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ چند اسٹریٹجک شراکت دار اسلامی ممالک کو چھوڑ کر تقریباً تمام مسلم اکثریتی ممالک کسی نہ کسی سطح پر امریکی امیگریشن پابندیوں یا اضافی جانچ کے دائرے میں آ چکے ہیں۔ پاکستان بھی اسی عمومی پالیسی کا حصہ ہے، نہ کہ کسی مخصوص دو طرفہ دشمنی کا نتیجہ۔

دوسرا اور شاید سب سے اہم پہلو امریکہ کی معاشی اور صنعتی ضروریات سے جڑا ہوا ہے۔ امریکی کارپوریشنز کو ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ، ہنرمند اور عالمی معیار کی افرادی قوت درکار ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان کا تعلیمی نظام اس معیار پر پورا اترنے میں بری طرح ناکام رہا ہے۔ گزشتہ بیس سے تیس برسوں میں نجی تعلیمی اداروں اور جامعات کی بھرمار نے تعلیم کو ایک منافع بخش کاروبار میں بدل دیا ہے، جہاں ڈگریاں تو دی جا رہی ہیں مگر وہ مہارتیں پیدا نہیں ہو رہیں جو عالمی منڈی میں قابلِ قبول ہوں۔ اس کے برعکس بھارت، بنگلہ دیش اور سری لنکا جیسے ممالک نے ٹیکنالوجی، آئی ٹی، انجینئرنگ اور دیگر مہارتوں پر مبنی تعلیم میں واضح پیش رفت کی ہے۔ امریکہ اگرچہ ایچ ون بی ویزا کو محدود کرنے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اسے اب بھی اعلیٰ مہارت رکھنے والے افراد کی ضرورت ہے، اور پاکستان اس ضرورت کو پورا کرنے کی پوزیشن میں فی الحال کمزور ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امیگریشن کے معاملے میں پاکستان کو زیادہ سخت جانچ کا سامنا ہے۔

تیسرا اہم مسئلہ پاکستان کی ساکھ سے متعلق ہے، خاص طور پر جعلی دستاویزات کے حوالے سے۔ پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں جعلی ڈگریوں، جعلی سرٹیفکیٹس اور غلط معلومات کے ذریعے بیرونِ ملک جانے کے واقعات ماضی میں بارہا سامنے آ چکے ہیں۔ حالیہ برسوں میں متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے ساتھ پیش آنے والے معاملات نے اس مسئلے کو مزید نمایاں کر دیا، جس کے بعد خود پاکستانی حکومت کو یہ یقین دہانی کروانا پڑی کہ بیرونِ ملک جانے والے پاکستانی شہریوں کی اسناد درست اور قابلِ تصدیق ہوں گی۔ اس کے ساتھ ساتھ بعض پاکستانی شہریوں کے بیرونِ ملک غیر قانونی، مجرمانہ یا غیر سماجی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے واقعات نے بھی مجموعی تاثر کو نقصان پہنچایا ہے، جس کا اثر امیگریشن پالیسیوں پر پڑنا ناگزیر تھا۔

اس تمام صورتحال میں ایک اور بنیادی نکتہ پاکستان کی کمزور صنعتی بنیاد ہے۔ اگر پاکستان میں مضبوط صنعتی اور مینوفیکچرنگ سیکٹر موجود ہوتا تو ملک کے اندر ہی بڑی تعداد میں ہنرمند افراد کو روزگار فراہم کیا جا سکتا تھا۔ صنعت کے بغیر نہ صرف بے روزگاری میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ بیرونِ ملک جانے کا دباؤ بھی بڑھتا ہے، جس سے امیگریشن نظام پر انحصار غیر فطری حد تک بڑھ جاتا ہے۔ پاکستان کو ایک متوازن حکمتِ عملی اپنانا ہو گی جس میں ایک طرف ملک کے اندر روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں اور دوسری طرف ایک محدود مگر انتہائی ہنرمند افرادی قوت تیار کی جائے جو عالمی منڈی میں باوقار انداز میں جگہ بنا سکے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ترقی یافتہ ممالک اپنی معیشتوں کو چلانے کے لیے بیرونی افرادی قوت کے بغیر زیادہ دیر نہیں چل سکتے، اس لیے موجودہ امریکی پالیسی کو حتمی یا مستقل سمجھنا درست نہیں۔

آخر میں یہ بات بھی پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ امریکہ کی امیگریشن پالیسی ہمیشہ داخلی سیاست، معاشی حالات اور عالمی طاقتوں کے ساتھ تعلقات کے تابع رہی ہے۔ موجودہ پابندیاں بھی عارضی نوعیت کی ہیں اور آئندہ انتظامیہ یا حتیٰ کہ یہی انتظامیہ آنے والے دنوں میں ان میں نرمی یا تبدیلی کر سکتی ہے۔ پاکستان کے لیے اصل چیلنج یہ نہیں کہ اس کا نام کسی فہرست میں شامل ہو گیا ہے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم اپنے تعلیمی، صنعتی اور انتظامی ڈھانچے کو اس قابل بنا سکتے ہیں کہ دنیا ہمیں ایک سنجیدہ، ہنرمند اور قابلِ اعتماد قوم کے طور پر دیکھے؟