LatestLiving

خریداری میں بدلتا ہوا رجحان

گزشتہ چند برسوں تک آن لائن خریداری کو مستقبل کی خریداری قرار دیا جاتا رہا۔ وبا کے دوران یہ رجحان غیر معمولی تیزی سے پھیلا، گھروں میں بند صارفین نے موبائل فون اور لیپ ٹاپ کو ہی اپنی دکان بنا لیا، اور ایسا محسوس ہونے لگا کہ روایتی بازار اور ریٹیل اسٹورز شاید ماضی کا قصہ بن جائیں گے۔ مگر اب حالات ایک بار پھر بدلتے دکھائی دے رہے ہیں۔ مختلف شہروں میں نئی دکانوں اور شاپنگ آؤٹ لیٹس کا کھلنا، شاپنگ مالز میں بڑھتی ہوئی چہل پہل اور مخصوص اشیاء کی براہِ راست خریداری میں اضافہ اس بات کی نشاندہی کر رہا ہے کہ لوگ دوبارہ اسٹورز کا رخ کر رہے ہیں۔

مارکیٹ رپورٹس کے مطابق کپڑوں، جوتوں، خوشبوؤں، کاسمیٹکس، فرنیچر اور گھریلو استعمال کی کئی اشیاء ایسی ہیں جنہیں صارفین اب آن لائن کے بجائے خود دیکھ کر، چھو کر اور آزما کر خریدنا چاہتے ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ اسکرین پر نظر آنے والی تصویر اکثر حقیقت سے مختلف ہوتی ہے۔ کپڑے کا کپڑا، جوتے کی فٹنگ، رنگ کی اصل جھلک یا کسی چیز کا وزن اور معیار وہ عوامل ہیں جن کا درست اندازہ صرف جسمانی طور پر ہی لگایا جا سکتا ہے۔ آن لائن خریداری میں بار بار غلط سائز، مختلف رنگ یا کم معیار کی شکایات نے صارف کے اعتماد کو خاصا متاثر کیا ہے۔

اس رجحان کی ایک اور اہم وجہ آن لائن خریداری کے ساتھ جڑے مسائل ہیں۔ تاخیر سے ڈیلیوری، خراب یا استعمال شدہ اشیاء کی ترسیل، ریٹرن اور ریفنڈ کے پیچیدہ طریقہ کار اور بعض اوقات کسٹمر سروس کی عدم دستیابی نے خریدار کو مایوس کیا ہے۔ کئی صارفین کا کہنا ہے کہ دکان سے خریداری میں اگرچہ وقت زیادہ لگتا ہے، مگر کم از کم چیز فوراً ہاتھ میں آ جاتی ہے اور بعد میں پچھتاوے کا امکان کم ہوتا ہے۔

نفسیاتی اور سماجی پہلو بھی اس تبدیلی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ طویل عرصے تک گھروں تک محدود رہنے کے بعد لوگوں میں باہر نکلنے، بازار جانے، خاندان یا دوستوں کے ساتھ وقت گزارنے اور ایک معمول کی سماجی سرگرمی میں حصہ لینے کی خواہش بڑھ گئی ہے۔ شاپنگ اب صرف خریداری نہیں رہی بلکہ ایک تفریح، ایک تجربہ اور ذہنی دباؤ سے نکلنے کا ذریعہ بھی بن گئی ہے۔ شاپنگ مالز اور بازار اسی لیے دوبارہ سماجی مراکز کی شکل اختیار کرتے جا رہے ہیں۔

مہنگائی اور بڑھتی ہوئی قیمتوں نے بھی صارف کے رویے کو بدلا ہے۔ آن لائن پلیٹ فارمز پر سہولت کے نام پر اضافی چارجز، ڈیلیوری فیس اور بعض اوقات غیر شفاف قیمتیں صارف کو دکان کی طرف واپس لے جا رہی ہیں، جہاں وہ قیمت پر بات بھی کر سکتا ہے اور مختلف برانڈز کا موازنہ ایک ہی جگہ کر سکتا ہے۔ کئی ریٹیلرز اب نقد ادائیگی، فوری رعایت اور بنڈل آفرز کے ذریعے خریدار کو راغب کر رہے ہیں، جو آن لائن شاپنگ میں ممکن نہیں ہوتیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس تبدیلی کا مطلب آن لائن شاپنگ کا خاتمہ نہیں بلکہ خریداری کے رویے میں توازن کی واپسی ہے۔ صارف اب ہر چیز آن لائن خریدنے کے بجائے انتخاب کر رہا ہے۔ روزمرہ کی اشیاء، الیکٹرانکس یا وہ مصنوعات جن کا معیار پہلے سے معلوم ہو، اب بھی آن لائن خریدی جا رہی ہیں، جبکہ وہ چیزیں جن میں ذاتی پسند، لمس اور فٹنگ شامل ہو، ان کے لیے اسٹور کو ترجیح دی جا رہی ہے۔

ریٹیل انڈسٹری نے بھی اس بدلتے رجحان کو بھانپ لیا ہے۔ کئی برانڈز اب ہائبرڈ ماڈل کی طرف جا رہے ہیں، جہاں آن لائن موجودگی کے ساتھ ساتھ فزیکل اسٹورز کو جدید انداز میں ڈیزائن کیا جا رہا ہے۔ بہتر روشنی، آرام دہ ماحول، تربیت یافتہ اسٹاف اور کسٹمر کے تجربے پر توجہ دے کر دکان کو محض فروخت کی جگہ کے بجائے ایک مکمل تجربہ بنایا جا رہا ہے۔

مجموعی طور پر دیکھا جائے تو خریداری کا یہ نیا رجحان دراصل صارف کے شعور میں اضافے کی علامت ہے۔ لوگ سہولت کے ساتھ ساتھ اعتماد، معیار اور اطمینان کو بھی اہمیت دینے لگے ہیں۔ یہ رجحان نہ صرف ریٹیل سیکٹر کے لیے ایک نئی امید ہے بلکہ اس بات کا ثبوت بھی ہے کہ ٹیکنالوجی کے دور میں بھی انسانی تجربہ اور براہِ راست رابطہ اپنی اہمیت برقرار رکھتا ہے۔