ریاستی فیصلوں میں قومی نگرانی کی ضرورت
پاکستان کو سب سے زیادہ نقصان دشمنوں نے نہیں بلکہ بعض اوقات اپنے ناقص فیصلوں، جلد بازی میں کیے گئے معاہدوں اور کمزور نظام نے پہنچایا۔ گزشتہ کئی دہائیوں میں ایسے متعدد قومی معاہدے ہوئے جن کے اثرات صرف ایک حکومت تک محدود نہیں رہے بلکہ پوری معیشت، صنعت، زرمبادلہ اور عام شہری کی زندگی متاثر ہوئی۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ان میں سے کئی اہم فیصلے ادارہ جاتی مشاورت کے بجائے چند افراد یا ایک محدود سیاسی حلقے کے ذریعے کیے گئے، جس کے باعث بعد میں نہ صرف تنازعات کھڑے ہوئے بلکہ قومی خزانے کو اربوں ڈالر کا نقصان بھی برداشت کرنا پڑا۔
آزاد بجلی گھروں کے معاہدے اس کی سب سے بڑی مثال ہیں۔ ملک میں بجلی کے بحران کے خاتمے کے نام پر ایسے معاہدے کیے گئے جن میں بجلی پیدا ہو یا نہ ہو، حکومت کو صلاحیتی ادائیگی ہر صورت کرنی تھی۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ معاہدے پاکستان کی معیشت پر بوجھ بنتے گئے۔ گردشی قرضہ کھربوں روپے تک پہنچ گیا، زرمبادلہ کے ذخائر دباؤ کا شکار ہوئے اور ملک میں بجلی کی قیمت خطے کے کئی ممالک سے زیادہ ہو گئی۔ صنعتوں کی پیداواری لاگت بڑھی، برآمدات متاثر ہوئیں، فیکٹریاں بند ہوئیں اور عام آدمی مہنگی بجلی کے بوجھ تلے دب گیا۔ آج صورتحال یہ ہے کہ پاکستان ایک ایسے نظام کا یرغمال بن چکا ہے جہاں مہنگی بجلی معیشت کی رفتار سست کر رہی ہے۔
قطر کے ساتھ مائع گیس کے معاہدے بھی پاکستان میں شدید بحث کا موضوع بنے۔ یہ درست ہے کہ اس وقت ملک کو فوری توانائی کی ضرورت تھی، تاہم بعد میں یہ سوال اٹھا کہ کیا معاہدے کی شرائط مکمل طور پر پاکستان کے مفاد میں تھیں۔ پاکستان کو ایک مخصوص مقدار میں گیس خریدنے کا پابند بنایا گیا، چاہے ملک میں اس کی ضرورت کم ہی کیوں نہ ہو۔ نتیجہ یہ نکلا کہ بعض اوقات حکومت کو یہ گیس مقامی مارکیٹ میں کم نرخ پر فروخت کرنا پڑی، جس سے مالی نقصان ہوا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بنگلہ دیش نے بھی تقریباً اسی نوعیت کے معاہدے کیے، جبکہ بھارت نے نسبتاً بہتر شرائط حاصل کیں، تاہم اس کی بڑی مارکیٹ اور زیادہ خریداری کی طاقت بھی اس میں اہم عنصر تھی۔ پاکستان میں اس معاہدے پر شدید سیاسی تنازع کھڑا ہوا کیونکہ عوام کو یہ احساس دیا گیا کہ فیصلے قومی اتفاق رائے کے بجائے محدود سطح پر کیے گئے۔
ریکوڈک کا معاملہ تو پاکستان کی قانونی اور انتظامی کمزوریوں کی علامت بن چکا ہے۔ بلوچستان میں سونے اور تانبے کے وسیع ذخائر پر مشتمل اس منصوبے کے معاہدے اور بعد میں اس کی منسوخی نے عالمی ثالثی عدالتوں میں پاکستان کو مشکل صورتحال سے دوچار کیا۔ غیر ملکی کمپنی نے دعویٰ کیا کہ پاکستان نے معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے، جس کے نتیجے میں پاکستان پر اربوں ڈالر ہرجانے کا خطرہ پیدا ہوا۔ مختلف اندازوں کے مطابق یہ رقم چھ سے بارہ ارب ڈالر تک بتائی جاتی رہی۔ اگرچہ بعد میں معاملات کسی حد تک طے ہوئے، مگر اس تنازع نے دنیا بھر کے سرمایہ کاروں کے سامنے پاکستان کے قانونی اور پالیسی نظام پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیا۔
ایران گیس پائپ لائن منصوبہ بھی پاکستان کے لیے مسلسل سفارتی اور قانونی دباؤ کا باعث بنتا رہا ہے۔ اس منصوبے کا تصور اس وقت پیش کیا گیا جب ایران، پاکستان اور بھارت اس میں شامل تھے، لیکن بعد میں بھارت الگ ہو گیا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس معاہدے میں اس حقیقت کو پوری طرح نظر انداز کیا گیا کہ ایران اور امریکہ کے تعلقات شدید کشیدہ ہیں جبکہ پاکستان کی معیشت بڑی حد تک مغربی مالیاتی نظام اور امریکی اثر و رسوخ سے جڑی ہوئی ہے۔ بعض قانونی ماہرین کے مطابق پرانا سہ فریقی ڈھانچہ عملاً ختم ہو چکا تھا اور نئے حالات میں نئے دوطرفہ معاہدے کی ضرورت تھی، لیکن اس کے باوجود ایران کی بعض حلقوں کی جانب سے پاکستان پر جرمانوں کے دعوے سامنے آتے رہے جن کی مالیت اربوں ڈالر تک بتائی جاتی ہے۔
پانی کے معاملات میں بھی پاکستان کو پیچیدہ صورتحال کا سامنا کرنا پڑا۔ سندھ طاس معاہدے کے تحت مغربی دریاؤں یعنی سندھ، جہلم اور چناب پر پاکستان کا بنیادی حق تسلیم کیا گیا تھا، تاہم بعد کے برسوں میں بھارت نے مختلف پن بجلی منصوبوں کے ذریعے ان دریاؤں پر اپنی موجودگی بڑھائی۔ عالمی بینک کی ثالثی اور بین الاقوامی قانونی کارروائیوں میں پاکستان کو بعض مواقع پر وہ سفارتی اور قانونی برتری حاصل نہ ہو سکی جس کی توقع کی جا رہی تھی۔ ماہرین کا خیال ہے کہ پاکستان کو ان معاملات میں زیادہ مضبوط تکنیکی، قانونی اور آبی ماہرین کی ٹیم کے ساتھ پیش ہونا چاہیے تھا کیونکہ پانی مستقبل کی جنگوں اور معیشت دونوں کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
اصل مسئلہ صرف ایک یا دو معاہدے نہیں بلکہ وہ نظام ہے جس کے تحت ایسے فیصلے کیے جاتے رہے۔ پاکستان میں اکثر سیاسی جماعتیں شخصیات کے گرد گھومتی ہیں، اس لیے قومی نوعیت کے بڑے فیصلے بھی بعض اوقات ادارہ جاتی مشاورت کے بجائے محدود سیاسی سوچ کے تحت کیے جاتے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ملک میں ایک ایسا مضبوط، شفاف اور تیز رفتار نظام قائم کیا جائے جس میں کسی بھی بڑے بین الاقوامی معاہدے کو صرف ایک فرد یا حکومت کی صوابدید پر نہ چھوڑا جائے۔ قومی سلامتی، معیشت، توانائی، پانی یا معدنیات سے متعلق ہر بڑے معاہدے کی منظوری ایک جامع قومی فورم سے ہونی چاہیے۔
دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں بڑے معاہدوں کے لیے پارلیمانی نگرانی، آزاد قانونی جانچ، معاشی اثرات کا تفصیلی تجزیہ اور قومی سلامتی کے اداروں کی رائے کو لازمی سمجھا جاتا ہے۔ امریکہ میں کانگریس، یورپی ممالک میں پارلیمانی کمیٹیاں اور کئی ایشیائی ممالک میں قومی اقتصادی کونسلیں بڑے معاہدوں کی جانچ کرتی ہیں۔ چین جیسے ممالک میں بھی اسٹریٹجک منصوبوں پر پارٹی، ریاستی اداروں اور ماہرین کی مشترکہ رائے شامل ہوتی ہے۔ پاکستان میں بھی ضرورت اس امر کی ہے کہ عدلیہ سے وابستہ قانونی ماہرین، کاروباری تنظیموں اور ایوان ہائے صنعت و تجارت کے معاشی ماہرین، متعلقہ تکنیکی ادارے، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن، قومی سلامتی کے ادارے اور پارلیمانی نمائندے مل کر ایک ایسا فریم ورک تشکیل دیں جو ہر بڑے معاہدے کو قومی مفاد کے پیمانے پر پرکھ سکے۔
پاکستان اب مزید ایسے تجربات کا متحمل نہیں ہو سکتا جن کے نتائج آنے والی نسلوں کو بھگتنا پڑیں۔ ریکوڈک، آزاد بجلی گھروں، قطر گیس، ایران پائپ لائن اور پانی کے تنازعات جیسے معاملات اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ قومی فیصلے صرف وقتی سیاسی ضرورت یا انفرادی سوچ کی بنیاد پر نہیں کیے جا سکتے۔ ایک مضبوط، شفاف اور اجتماعی فیصلہ سازی کا نظام ہی پاکستان کو مستقبل کے معاشی، قانونی اور سفارتی نقصانات سے بچا سکتا ہے۔

