دنیا میں روزگار کے محدود ہوتے مواقع اور پاکستان کی حقیقت
دنیا بھر میں ہجرت کے مواقع تیزی سے محدود ہوتے جا رہے ہیں۔ ایک وقت تھا جب یورپ، امریکہ، کینیڈا اور آسٹریلیا کو بہتر زندگی اور روزگار کے لیے سب سے بڑی منزل سمجھا جاتا تھا۔ لوگ بڑے پیمانے پر ان ممالک کا رخ کرتے تھے اور وہاں کی معیشتیں بھی بڑی حد تک تارکین وطن کی محنت پر چلتی تھیں۔ بعد میں تیل کی دریافت اور معاشی ترقی کے بعد خلیجی ممالک بھی روزگار کے بڑے مراکز بن گئے۔ کم آبادی اور تیزی سے بڑھتی ہوئی ترقی کے باعث ان ممالک کو بیرونی افرادی قوت کی ضرورت رہی، جس نے پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش اور دیگر ترقی پذیر ممالک سے لاکھوں افراد کو روزگار فراہم کیا۔
اسی طرح مشرقی ایشیا کے کئی ممالک جیسے جاپان، جنوبی کوریا، ہانگ کانگ اور سنگاپور نے بھی مختلف ادوار میں بیرونی محنت کشوں کو اپنی معیشت کا حصہ بنایا۔ ان تمام ممالک میں تارکین وطن کی ایک بڑی تعداد آباد ہوئی اور ان کی بھیجی گئی رقوم نے ان کے آبائی ممالک کی معیشتوں کو سہارا دیا۔ پاکستان کی معیشت بھی بڑی حد تک ترسیلات زر پر انحصار کرتی رہی ہے جو کئی مواقع پر برآمدات سے زیادہ رہی ہیں۔ اگر یہ آمدن نہ ہو تو ملک کی معاشی صورتحال بہت زیادہ دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔
لیکن اب یہ پوری تصویر بدلتی جا رہی ہے۔ مغربی دنیا میں سیاسی طور پر دائیں بازو کی جماعتوں اور سوچ میں اضافہ ہو رہا ہے جو امیگریشن کے خلاف سخت مؤقف رکھتی ہیں۔ امریکہ، کینیڈا اور آسٹریلیا جیسے ممالک میں بھی امیگریشن قوانین مزید سخت کیے جا رہے ہیں اور ویزا پالیسیوں میں مسلسل تبدیلیاں آ رہی ہیں۔ اسی طرح کچھ خلیجی ممالک میں بھی غیر ملکی ورک پرمٹس کی پالیسیوں پر نظر ثانی کی خبریں سامنے آ رہی ہیں اور ہزاروں افراد کے اجازت نامے منسوخ ہونے کی اطلاعات بھی ملتی ہیں۔ یہ سب اس بات کی علامت ہے کہ دنیا اب پہلے کی طرح کھلی لیبر مارکیٹ نہیں رہی۔
اسی دوران ایک اور بڑی تبدیلی مصنوعی ذہانت اور خودکار نظام کی صورت میں سامنے آئی ہے۔ وہ کام جو پہلے دفاتر میں درجنوں افراد انجام دیتے تھے، اب چند سافٹ ویئر سسٹمز یا مصنوعی ذہانت کے ذریعے ممکن ہو رہے ہیں۔ خاص طور پر ابتدائی سطح کی نوکریاں، جیسے ڈیٹا انٹری، بنیادی پروگرامنگ اور کسٹمر سپورٹ، تیزی سے کم ہو رہی ہیں۔ اسی طرح روبوٹس اور آٹومیشن نے صنعتی اور محنت طلب شعبوں میں انسانی ضرورت کو محدود کرنا شروع کر دیا ہے۔ اس کا براہ راست اثر ان ممالک پر پڑ رہا ہے جو پہلے اپنی آبادی کو بیرون ملک بھیج کر روزگار حاصل کرتے تھے۔
پاکستان جیسے ملک کے لیے یہ صورتحال ایک بڑے چیلنج کی شکل اختیار کر رہی ہے۔ ایک طرف بیرون ملک روزگار کے مواقع کم ہو رہے ہیں اور دوسری طرف اندرون ملک روزگار پیدا کرنے کی صلاحیت بھی محدود ہے۔ اس کا بنیادی حل صرف اور صرف صنعت کاری ہے، تاکہ ملک کے اندر ہی بڑے پیمانے پر روزگار پیدا ہو سکے۔ بدقسمتی سے یہ وہ شعبہ ہے جسے پچھلے چالیس سال سے مسلسل نظر انداز کیا گیا ہے۔ نہ صرف موجودہ دور میں بلکہ مختلف حکومتوں نے طویل عرصے تک ایسی پالیسیاں نہیں بنائیں جو پیداواری صنعت کو فروغ دیتیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ آج پاکستان میں ایک ایسا معاشی ماحول موجود ہے جو نئی صنعتوں کے قیام کے لیے مشکل ترین ہوتا جا رہا ہے، مہنگی توانائی، غیر مستحکم پالیسیاں، اور کمزور انفراسٹرکچر سرمایہ کاری کو مزید مشکل بناتے ہیں۔
اگر یہی رجحان جاری رہا تو ملک کو نہ صرف بیرونی روزگار کے کم ہوتے مواقع کا سامنا ہوگا بلکہ اندرونی سطح پر بھی بے روزگاری ایک بڑے بحران میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ اس لیے اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ریاستی سطح پر سنجیدگی کے ساتھ صنعتی پالیسی، ہنر مندی کی تربیت اور ٹیکنالوجی کے ساتھ ہم آہنگی پر توجہ دی جائے تاکہ معیشت کو صرف ترسیلات زر کے سہارے کے بجائے ایک مضبوط پیداواری بنیاد دی جا سکے۔

