سوزوکی سوفٹ – بھارت کی سستی مگر پاکستان کی مہنگی گاڑی
سوزوکی سوئفٹ پاکستان میں ایک جدید اور بہتر ہیچ بیک سمجھی جاتی ہے، مگر اس کی قیمت نے متوسط طبقے کے لیے اسے تقریباً ایک لگژری گاڑی بنا دیا ہے۔ بھارت میں یہی گاڑی کہیں کم قیمت پر دستیاب ہے، جس سے پاکستان کی آٹو پالیسی، ٹیکس نظام اور صنعتی کمزوریوں پر کئی سوالات اٹھتے ہیں۔
پاکستان میں سوزوکی سوئفٹ کو اکثر لوگ صرف ایک چھوٹی ہیچ بیک گاڑی سمجھتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ پرانی پاکستانی سوزوکی گاڑیوں کے مقابلے میں کافی جدید اور بہتر انجینئرنگ کی حامل گاڑی ہے۔ اس کی ساخت، انجن، حفاظتی نظام اور ڈرائیونگ کا انداز واضح طور پر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کمپنی نے اسے صرف سستی عوامی سواری کے طور پر نہیں بلکہ ایک جدید شہری گاڑی کے طور پر تیار کیا ہے۔
سوئفٹ کا سب سے بڑا مثبت پہلو اس کا جدید ہارٹیک پلیٹ فارم ہے جس پر یہ گاڑی تیار کی گئی ہے۔ اس پلیٹ فارم کی وجہ سے گاڑی ہلکی ہونے کے باوجود زیادہ مضبوط محسوس ہوتی ہے۔ موڑ کاٹتے وقت گاڑی بہتر توازن برقرار رکھتی ہے اور تیز رفتاری پر بھی نسبتاً مستحکم رہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے نوجوان اسے چلانے میں مزہ محسوس کرتے ہیں۔ پاکستان میں عام طور پر چھوٹی گاڑیوں کو صرف کم خرچ سواری سمجھا جاتا ہے، لیکن سوئفٹ کی ڈرائیونگ اس تصور سے کچھ مختلف محسوس ہوتی ہے۔
اس کا بارہ سو سی سی انجن بھی کافی بہتر تصور کیا جاتا ہے۔ یہ انجن خاموش، نرم اور نسبتاً تیز ردعمل دینے والا ہے۔ شہری ٹریفک میں گاڑی کی اٹھان مناسب رہتی ہے جبکہ لمبے سفر میں بھی انجن زیادہ شور نہیں کرتا۔ خودکار گیئر نظام نے بھی اس گاڑی کو مزید آرام دہ بنا دیا ہے، خاص طور پر راولپنڈی اور اسلام آباد جیسے شہروں کی روزمرہ ٹریفک میں جہاں بار بار کلچ دبانے سے ڈرائیور تھک جاتا ہے۔ اس گاڑی میں موجود جدید سہولیات جیسے چھ ائیر بیگ، اسٹیبلٹی کنٹرول، ہل ہولڈ، کروز کنٹرول اور جدید معلوماتی اسکرین اسے پاکستان کی روایتی ہیچ بیک گاڑیوں سے کافی آگے لے جاتی ہیں۔
تاہم اس گاڑی پر تنقید بھی کم نہیں ہوتی۔ سب سے بڑی شکایت اس کی قیمت ہے۔ پاکستان میں اس کی اعلیٰ قسم تقریباً اڑتالیس سے پچاس لاکھ روپے تک پہنچ چکی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں صارفین سوال اٹھاتے ہیں کہ آخر ایک چھوٹی ہیچ بیک گاڑی کی قیمت ایک بڑی سیڈان گاڑی کے قریب کیوں پہنچ گئی ہے۔ بھارت میں یہی سوئفٹ پاکستانی روپے میں تقریباً اٹھارہ لاکھ روپے سے شروع ہوتی ہے۔
یہ فرق صرف کمپنی کے منافع کی وجہ سے نہیں بلکہ پاکستان کی مجموعی معاشی اور صنعتی صورتحال کی عکاسی بھی کرتا ہے۔ پاکستان میں گاڑیوں کی پیداوار بہت کم ہے جبکہ بھارت میں لاکھوں گاڑیاں تیار ہوتی ہیں۔ بڑے پیمانے پر پیداوار کی وجہ سے وہاں پرزہ جات سستے پڑتے ہیں۔ بھارت میں انجن، الیکٹرانکس، پلاسٹک، اسکرینیں اور حفاظتی نظام تک مقامی طور پر تیار ہوتے ہیں جبکہ پاکستان اب بھی بہت سے اہم پرزہ جات درآمد کرتا ہے۔ روپے کی کمزوری، بھاری ٹیکس، درآمدی ڈیوٹیاں، غیر یقینی معاشی پالیسیاں اور محدود مقابلہ بازی گاڑیوں کی قیمتوں کو مسلسل اوپر لے جا رہی ہیں۔
پاکستان کی آٹو صنعت کا ایک بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ یہاں گاڑی اب صرف سواری نہیں رہی بلکہ سرمایہ محفوظ رکھنے کا ذریعہ بن چکی ہے۔ لوگ نئی گاڑی خرید کر فوراً زیادہ قیمت پر فروخت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ محدود پیداوار اور لمبی انتظار فہرستیں اس رجحان کو مزید بڑھاتی ہیں۔ اس صورتحال میں کمپنیاں بھی قیمتیں کم کرنے کے بجائے مسلسل بڑھانے میں زیادہ آسانی محسوس کرتی ہیں۔
اگر حقیقت پسندانہ انداز میں دیکھا جائے تو پاکستان کو فوری طور پر سستی گاڑیاں نہیں بلکہ مضبوط آٹو پالیسی کی ضرورت ہے۔ صرف نئی کمپنیوں کے اشتہار یا وقتی مراعات مسئلے کا حل نہیں۔ حکومت کو مقامی پرزہ سازی کی صنعت کو مضبوط بنانا ہوگا تاکہ انجن، الیکٹرانکس، حفاظتی نظام اور دیگر اہم پرزے ملک کے اندر تیار ہوں۔ ٹیکس نظام کو بھی آسان اور متوازن بنانا ہوگا کیونکہ اس وقت ایک عام خریدار گاڑی کی اصل قیمت سے کہیں زیادہ ٹیکس ادا کر رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ حقیقی مقابلہ پیدا کرنا بھی ضروری ہے تاکہ چند بڑی کمپنیاں پورے بازار پر قابض نہ رہیں۔
اصل مسئلہ سوزوکی سوئفٹ نہیں بلکہ وہ معاشی ڈھانچہ ہے جس نے ایک عام شہری گاڑی کو بھی متوسط طبقے کی پہنچ سے دور کر دیا ہے۔ جب تک پاکستان اپنی صنعتی بنیاد مضبوط نہیں بناتا، مقامی پیداوار نہیں بڑھاتا اور پالیسیوں میں تسلسل پیدا نہیں کرتا، تب تک ہر نئی گاڑی عوام کے لیے خواب بنتی رہے گی اور بھارت جیسے ممالک سے موازنہ پاکستانی صارفین کے لیے مزید مایوسی پیدا کرتا رہے گا۔

