BusinessFeatured

پاکستان کی معیشت 2025 کی کامیابیاں اور 2026 کے امتحانات

سال 2025 مجموعی طور پر پاکستان کے لیے معاشی اعتبار سے ایک مثبت اور امید افزا سال ثابت ہوا۔ ایک ایسے وقت میں جب عالمی معیشت سست روی، جغرافیائی کشیدگی اور بلند شرحِ سود جیسے دباؤ کا شکار رہی، پاکستان نے متعدد محاذوں پر قابلِ ذکر پیش رفت کی۔ سب سے نمایاں کامیابی زرِ مبادلہ کے ذخائر میں نمایاں بہتری کی صورت میں سامنے آئی، جو کئی برسوں کے بعد ایک مستحکم سطح تک پہنچے۔ اس بہتری نے نہ صرف بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ کو کم کیا بلکہ عالمی مالیاتی اداروں اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی بحال کیا۔

اسی طرح بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلاتِ زر نے 2025 میں نئی بلندیاں چھوئیں۔ ترسیلات میں اضافے نے نہ صرف کرنٹ اکاؤنٹ کو سہارا دیا بلکہ ملکی معیشت میں نقدی کی روانی کو بھی بہتر بنایا۔ یہ امر اس بات کا ثبوت تھا کہ بیرونِ ملک پاکستانی اب بھی ملکی معیشت پر اعتماد رکھتے ہیں اور مشکل حالات میں پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں۔

پاکستان اسٹاک ایکسچینج بھی 2025 کی معاشی کامیابیوں کا ایک اہم استعارہ رہی۔ حصص بازار تاریخی بلند ترین سطح تک پہنچا، جس نے سرمایہ کاروں کے اعتماد اور کاروباری سرگرمیوں میں بہتری کی عکاسی کی۔ اگرچہ اس تیزی سے عام شہری کو فوری فائدہ نہیں پہنچا، تاہم یہ ایک واضح اشارہ تھا کہ معیشت کا رجحان بتدریج استحکام کی جانب بڑھ رہا ہے۔

سال کے اختتام پر حکومت کی جانب سے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کی نجکاری ایک بڑا سنگِ میل ثابت ہوئی۔ دہائیوں سے خسارے میں جانے والے اس قومی ادارے کی نجکاری کو ایک مشکل مگر ناگزیر فیصلہ سمجھا جا رہا تھا، اور اس پیش رفت نے حکومت کے اصلاحاتی عزم کو تقویت دی۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کی دفاعی صنعت نے بھی عالمی سطح پر اپنی موجودگی کا احساس دلایا، جب پاکستان نے لیبیا کو عسکری سازوسامان فروخت کرنے کا معاہدہ طے کیا۔ مزید برآں کئی ممالک کے ساتھ اقتصادی اور دفاعی تعاون کے نئے معاہدوں پر دستخط ہوئے، جو پاکستان کی سفارتی اور تجارتی پوزیشن میں بہتری کا مظہر تھے۔

تاہم 2026 کا منظرنامہ اگرچہ مواقع سے بھرپور ہے، مگر اس کے ساتھ کئی سنجیدہ چیلنجز بھی جڑے ہوئے ہیں۔ سب سے اہم مسئلہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ موجودہ اقتصادی پیکیج کا ہے، جو استحکام تو فراہم کرتا ہے مگر معاشی نمو کے لیے سازگار ماحول پیدا نہیں کرتا۔ حکومت کے لیے ناگزیر ہے کہ وہ آئی ایم ایف کے ساتھ شرائط پر ازسرِنو بات چیت کرے تاکہ معیشت کو محض سہاروں کے بجائے ترقی کی راہ پر ڈالا جا سکے۔

اسی طرح باقی ماندہ سرکاری اداروں کی نجکاری بھی 2026 کا ایک اہم ایجنڈا ہونا چاہیے۔ خسارے میں چلنے والے یہ ادارے قومی خزانے پر مسلسل بوجھ بنے ہوئے ہیں اور ان کی اصلاح یا نجکاری کے بغیر مالی نظم و ضبط ممکن نہیں۔ بجلی کے شعبے میں آزاد بجلی پیدا کرنے والے اداروں یعنی آئی پی پیز کے مہنگے معاہدے بھی ایک سنگین مسئلہ بن چکے ہیں، جو صنعت اور عام صارف دونوں کے لیے ناقابلِ برداشت لاگت کا باعث ہیں۔ ان معاہدوں پر نظرثانی کے بغیر توانائی بحران پر قابو پانا مشکل ہوگا۔

روپے کی قدر کا مسئلہ بھی 2026 میں حکومت کے لیے ایک نازک امتحان ہوگا۔ مصنوعی سہاروں کے بجائے اگر روپے کو اس کی حقیقی قدر کے قریب لایا جائے تو مہنگائی کے دباؤ میں کمی اور برآمدات میں بہتری ممکن ہو سکتی ہے۔ تاہم اس عمل کے لیے مضبوط مالی نظم اور اعتماد سازی ناگزیر ہے۔

ان تمام اقدامات سے بڑھ کر سب سے اہم نکتہ صنعتی شعبے کی مکمل سرپرستی ہے۔ جب تک صنعت کو سستی توانائی، آسان قرضوں اور پالیسیوں میں تسلسل فراہم نہیں کیا جاتا، پاکستان پائیدار ترقی حاصل نہیں کر سکتا۔ صنعتی ترقی ہی روزگار، برآمدات اور ٹیکس آمدن میں اضافے کی بنیاد بن سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ زرعی اصلاحات، ٹیکس نیٹ میں توسیع، سرکاری اخراجات میں کفایت شعاری اور طرزِ حکمرانی میں شفافیت بھی وہ عوامل ہیں جو 2026 کو ایک فیصلہ کن سال بنا سکتے ہیں۔

اگر حکومت 2025 کی کامیابیوں کو بنیاد بنا کر 2026 میں مشکل مگر ضروری فیصلے کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو پاکستان نہ صرف معاشی بحران سے نکل سکتا ہے بلکہ ایک مضبوط اور خودانحصار معیشت کی سمت بھی گامزن ہو سکتا ہے۔