توانائی میں خود کفالت کی پاکستانی جدوجہد
پاکستان گزشتہ کئی دہائیوں سے توانائی کے بحران کا سامنا کرتا آ رہا ہے، جس نے نہ صرف صنعتی ترقی کو متاثر کیا بلکہ عام شہری کی زندگی بھی مہنگی اور مشکل بنا دی۔ بجلی کی قلت، درآمدی ایندھن پر انحصار، اور نجی پاور پروڈیوسرز کو بھاری ادائیگیاں قومی معیشت پر مسلسل دباؤ ڈال رہی ہیں۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات مقامی وسائل کے ذریعے پوری کر سکتا ہے؟ ماہرین کی اکثریت اس سوال کا جواب ہاں میں دیتی ہے، بشرطیکہ پالیسی سازی سنجیدگی، تسلسل اور شفافیت کے ساتھ کی جائے۔
پاکستان کو قدرت نے شمسی توانائی کے حوالے سے غیر معمولی صلاحیت دی ہے۔ ملک کے بیشتر علاقوں میں سال کے تقریباً تین سو دن دھوپ دستیاب ہوتی ہے۔ اگر حکومت شمسی توانائی کو قومی ترجیح قرار دے اور گھریلو و تجارتی صارفین کے لیے سولر پینل لگانا مرحلہ وار لازمی قرار دے تو نہ صرف صارفین کو سستی بجلی مل سکتی ہے بلکہ قومی گرڈ پر بھی بوجھ کم ہو سکتا ہے۔ نیٹ میٹرنگ کے ذریعے یہ صارفین اضافی بجلی گرڈ کو فراہم کر سکتے ہیں، جس سے حکومت کو نئے پاور پلانٹس لگانے اور مہنگے ایندھن کی درآمد پر خرچ کم کرنا پڑے گا۔ اس کے نتیجے میں وہ رقوم جو آج آئی پی پیز کو بھاری نرخوں پر ادا کی جا رہی ہیں، عوامی فلاح اور توانائی کے مزید منصوبوں پر خرچ کی جا سکتی ہیں۔
تھر کا کوئلہ پاکستان کے لیے ایک اور اہم مقامی وسیلہ ہے۔ دنیا کے بڑے کوئلہ ذخائر میں شمار ہونے والا تھر، اگر جدید اور ماحول دوست ٹیکنالوجی کے ساتھ استعمال کیا جائے تو کئی دہائیوں تک بجلی کی ضروریات پوری کر سکتا ہے۔ تاہم یہاں یہ نکتہ بھی اہم ہے کہ کوئلے کے استعمال کے ساتھ ماحولیاتی تحفظ کو نظرانداز نہ کیا جائے۔ کاربن کے اخراج کو کم کرنے والی جدید ٹیکنالوجی اپنانا اور متبادل توانائی کے ساتھ توازن برقرار رکھنا مستقبل کے لیے ناگزیر ہے۔
پاکستان نے ایٹمی توانائی میں بروقت سرمایہ کاری کر کے ایک دانش مندانہ فیصلہ کیا تھا۔ آج ملک کے ایٹمی بجلی گھر نہ صرف سستی بلکہ مستحکم بجلی فراہم کر رہے ہیں۔ ایٹمی توانائی کی خاص بات یہ ہے کہ یہ موسمی حالات سے متاثر نہیں ہوتی اور طویل مدت تک مسلسل پیداوار دیتی ہے۔ اگر اس شعبے میں مزید توسیع کی جائے تو پاکستان کو درآمدی ایندھن پر انحصار مزید کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
آبی ذخائر اور پن بجلی بھی پاکستان کی توانائی حکمت عملی کا بنیادی ستون ہیں۔ ڈیموں کی تعمیر سے نہ صرف پانی ذخیرہ ہوتا ہے بلکہ سستی اور ماحول دوست بجلی بھی پیدا ہوتی ہے۔ پاکستان جیسے زرعی ملک کے لیے پانی کا تحفظ توانائی سے بھی زیادہ اہم ہے۔ نئے ڈیم، چھوٹے پن بجلی منصوبے اور نہری نظام کے ساتھ بجلی پیدا کرنے کے منصوبے قومی معیشت کو سہارا دے سکتے ہیں۔ یہ منصوبے روزگار کے مواقع بھی پیدا کرتے ہیں اور دیہی علاقوں میں ترقی کی رفتار کو تیز کرتے ہیں۔
قابلِ تجدید توانائی کے دیگر ذرائع جیسے ہوا اور بایوماس کو بھی نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ سندھ اور بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں ہوا سے بجلی پیدا کرنے کی بے پناہ صلاحیت موجود ہے، جبکہ زرعی فضلے سے توانائی حاصل کر کے دیہی معیشت کو فائدہ پہنچایا جا سکتا ہے۔ اس طرح توانائی کی پیداوار صرف بڑے شہروں تک محدود نہیں رہے گی بلکہ ملک بھر میں پھیل سکے گی۔
توانائی میں خود کفالت صرف ٹیکنالوجی کا مسئلہ نہیں بلکہ طرزِ حکمرانی کا بھی امتحان ہے۔ شفاف منصوبہ بندی، مستقل پالیسی، اور نجی و سرکاری شعبے کے درمیان واضح اشتراک کے بغیر کوئی بھی حکمت عملی کامیاب نہیں ہو سکتی۔ صارفین کو سہولت دینا، مقامی صنعت کو فروغ دینا، اور تحقیق و ترقی میں سرمایہ کاری وہ عناصر ہیں جو پاکستان کو توانائی کے میدان میں آگے لے جا سکتے ہیں۔
اگر پاکستان شمسی توانائی کو گھریلو سطح پر فروغ دے، تھر کے کوئلے کو ذمہ داری سے استعمال کرے، ایٹمی اور آبی منصوبوں کو تسلسل سے آگے بڑھائے اور قابلِ تجدید ذرائع کو قومی پالیسی کا حصہ بنائے تو وہ دن دور نہیں جب ملک توانائی کے بحران سے نکل کر خود کفالت کی راہ پر گامزن ہو جائے گا۔ یہ صرف بجلی کی فراہمی کا مسئلہ نہیں بلکہ معاشی خود مختاری، صنعتی ترقی اور عوامی خوشحالی کا سوال بھی ہے۔
پاکستان کے پاس وسائل بھی ہیں اور صلاحیت بھی۔ اب ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ان وسائل کو درست سمت میں، قومی مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے، بروئے کار لایا جائے تاکہ آنے والی نسلوں کو ایک روشن، مستحکم اور توانائی سے خود کفیل پاکستان مل سکے۔

