برانڈز کی حقیقت: مہنگے پرچون اور سستے ملبوسات کا تضاد
موجودہ دور میں فیشن انڈسٹری ایک ایسا شعبہ بن چکا ہے جہاں مصنوعات کی حقیقی قیمت اور برانڈڈ اشیاء کے ریٹیل ریٹ کے درمیان ایک بہت بڑا خلا پایا جاتا ہے۔ اس کی ایک واضح مثال ہندوستان کے روایتی "کوہلاپوری چپلوں” کا حالیہ بین الاقوامی فیشن اسٹیج پر ابھرنا ہے۔ یہ چپل، جو مقامی طور پر 4 ڈالر سے لے کر 20 ڈالر تک دستیاب ہیں، جب اطالوی لگژری برانڈ پریڈا کے شو رومز میں پہنچتے ہیں تو ان کی قیمت 1،200 ڈالر تک جا پہنچتی ہے۔ یہ قیمت کا فرق کسی معجزے سے کم نہیں۔
درحقیقت، یہ صرف کھڑاؤں چپلوں تک محدود نہیں۔ تمام بڑے لگژری برانڈز اپنی مصنوعات پر 1،000 فیصد سے 3،000 فیصد تک کا مارک اپ کرتے ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق، ایک عام ڈیزائنر ہینڈ بیگ جس کی تیاری کی لاگت 50 ڈالر سے زیادہ نہیں ہوتی، وہ ریٹیل اسٹورز پر 1،000 ڈالر سے زیادہ میں فروخت ہوتا ہے۔ یہ اضافی قیمت نہ تو بہتر معیار کی وجہ سے ہوتی ہے اور نہ ہی بہتر مواد کی۔ بلکہ یہ صرف اور صرف برانڈ کے نام کی وجہ سے وصول کی جاتی ہے۔
برانڈز اپنے صارفین کو تین نفسیاتی حربوں سے متاثر کرتے ہیں۔ پہلا لگژری برانڈز کے مالکان اپنے صارفین کو یہ باور کراتے ہیں کہ ان کی مصنوعات خرید کر وہ معاشرے میں ایک اعلیٰ طبقے کا حصہ بن جاتے ہیں۔ دوسرا بعض برانڈز جان بوجھ کر محدود تعداد میں مصنوعات تیار کرتے ہیں تاکہ ان کی مانگ بڑھے اور قیمتیں آسمان کو چھو لیں۔ تیسرا فیشن برانڈز اپنی تشہیر میں صارفین کے جذبات سے کھیلتے ہیں، انہیں یہ احساس دلانے کی کوشش کرتے ہیں کہ ان کی مصنوعات کے بغیر ان کی شخصیت ادھوری ہے۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ بیشتر لگژری برانڈز کی مصنوعات درحقیقت اسی چین، بھارت، بنگلادیش یا ویت نام میں تیار ہوتی ہیں جہاں سے عام مارکیٹ کے سامان بنتے ہیں۔ فرق صرف یہ ہوتا ہے کہ ان پر ایک مہنگا لیبل لگا دیا جاتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق، اگر تمام لگژری برانڈز اپنی مصنوعات کو ان کی حقیقی قیمت پر فروخت کریں تو ان کا سالانہ منافع 70 فیصد تک گر سکتا ہے۔
مغربی ممالک میں تو اب ایک نیا رجحان شروع ہو چکا ہے جسے برانڈ بے بسی کہا جاتا ہے۔ اس کے تحت صارفین برانڈز کے بجائے معیار کو ترجیح دے رہے ہیں۔ ترقی پذیر ممالک مبرانڈز کی حقیقت: مہنگے پرچون اور سستے ملبوسات کا تضادیں ابھی یہ رجحان کمزور ہے، جہاں لوگ اپنی ایک ماہ کی آمدن ایک ڈیزائنر بیگ پر لٹا دیتے ہیں، صرف اس لیے کہ اس پر ایک مخصوص لوگو لگا ہوا ہے۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ جدید دور کا یہ فیشن انڈسٹری کا کھیل درحقیقت ایک بہت بڑا "پرچون کا دھوکہ” ہے، جہاں صارفین نہ صرف اپنی جیب پر ڈاکہ برداشت کر رہے ہیں، بلکہ خوشی خوشی اس ڈاکے میں اپنا تعاون بھی فراہم کر رہے ہیں۔ حقیقی معیار اور دانشمندی کا تقاضا یہ ہے کہ ہم برانڈز کے جال میں پھنسنے کے بجائے مصنوعات کی حقیقی خوبیوں کو پرکھیں۔

