پاکستان کے لیے تیز ترین نہیں مؤثر ترین ریل نظام ضروری
پاکستان میں جب بھی ریلوے کی بہتری کی بات ہوتی ہے تو اکثر فوری طور پر انتہائی تیز رفتار اور پرتعیش ٹرینوں کی بات کی جانے لگتی ہے۔ پنجاب حکومت کی جانب سے بھی جدید اور تیز رفتار ٹرینوں کے تصورات پیش کیے جا رہے ہیں، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کی موجودہ معاشی حالت ایسی مہنگی منصوبہ بندی کی اجازت دیتی ہے؟ ایک ایسا ملک جو قرضوں، توانائی بحران، کمزور زر مبادلہ ذخائر اور بنیادی انفراسٹرکچر کی تباہ حالی کا شکار ہو، کیا وہ کھربوں روپے کے منصوبوں کا متحمل ہو سکتا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان ریلوے کو دنیا کی تیز ترین ٹرینوں سے زیادہ ایک قابل اعتماد، محفوظ، سستی اور پائیدار نظام کی ضرورت ہے۔
پاکستان ریلوے کئی دہائیوں کی غفلت، سیاسی مداخلت اور ناقص منصوبہ بندی کا شکار رہی ہے۔ پٹریوں کی حالت خستہ ہے، سگنلنگ نظام پرانا ہو چکا ہے، کئی پل اور ورکشاپس فوری مرمت کے محتاج ہیں جبکہ بیشتر ریلوے اسٹیشن بنیادی سہولیات سے محروم دکھائی دیتے ہیں۔ ملک کے اہم ترین روٹس پر آج بھی سنگل لائن موجود ہے جس کی وجہ سے ٹرینیں گھنٹوں ایک دوسرے کے انتظار میں کھڑی رہتی ہیں۔ کراچی، لاہور اور راولپنڈی جیسے بڑے شہروں کے درمیان ڈبل لائن بچھانے سے بغیر کسی غیر معمولی اخراجات کے ریلوے کی کارکردگی میں نمایاں بہتری لائی جا سکتی ہے۔ اس سے ٹرینوں کی تعداد بڑھے گی، تاخیر کم ہوگی اور مال برداری کا نظام مضبوط ہوگا جو معیشت کے لیے نہایت اہم ہے۔
اسی طرح ریلوے کے شعبے میں مرحلہ وار بجلی کے استعمال کی طرف جانا بھی ضروری ہے۔ پاکستان ہر سال اربوں ڈالر کا ڈیزل درآمد کرتا ہے۔ اگر مصروف ترین ریلوے روٹس کو بتدریج برقی نظام پر منتقل کیا جائے تو نہ صرف ایندھن کی درآمد کم ہو سکتی ہے بلکہ آپریشنل اخراجات اور ماحولیاتی آلودگی میں بھی کمی آئے گی۔ تاہم یہ عمل حقیقت پسندانہ انداز میں ہونا چاہیے، نہ کہ پورے ملک میں ایک ساتھ۔ جہاں مسافروں اور مال برداری کا دباؤ زیادہ ہو، وہاں پہلے مرحلے میں برقی نظام متعارف کرایا جا سکتا ہے۔ اگر اس نظام کو پن بجلی، شمسی توانائی اور مقامی وسائل سے جوڑا جائے تو یہ مستقبل میں پاکستان کے لیے زیادہ پائیدار ثابت ہوگا۔
پاکستان کو اس وقت دنیا کی تیز ترین ٹرینوں کی نہیں بلکہ معیاری درمیانی رفتار والی ریل سروس کی ضرورت ہے۔ اگر ٹرینیں مسلسل ایک سو تیس سے ایک سو ساٹھ کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے محفوظ اور وقت پر چلنا شروع ہو جائیں تو یہ بھی پاکستانی عوام کے لیے ایک بڑی تبدیلی ہوگی۔ عام آدمی کے لیے سب سے اہم چیز وقت کی پابندی، صفائی، تحفظ اور مناسب کرایہ ہے، نہ کہ صرف رفتار۔ اگر راولپنڈی سے لاہور کا سفر چار گھنٹے میں آرام دہ اور بروقت مکمل ہونے لگے تو یہ موجودہ صورتحال کے مقابلے میں بہت بڑی کامیابی ہوگی اور اس پر خرچ بھی بلٹ ٹرین منصوبوں کے مقابلے میں کہیں کم آئے گا۔
پاکستان ریلوے کی اصل طاقت مال برداری کے شعبے میں چھپی ہوئی ہے۔ دنیا بھر میں کامیاب ریلوے نظام زیادہ تر اپنی آمدن مال گاڑیوں سے حاصل کرتے ہیں۔ پاکستان میں اس وقت زیادہ انحصار ٹرکوں پر ہے جو سڑکوں کو نقصان پہنچاتے ہیں، درآمدی ایندھن زیادہ استعمال کرتے ہیں اور کاروباری لاگت بڑھاتے ہیں۔ اگر ریلوے بندرگاہوں، صنعتی علاقوں اور بڑے شہروں کے درمیان جدید مال برداری راہداری قائم کرے تو نہ صرف صنعت کو فائدہ ہوگا بلکہ ملکی معیشت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ کوئلہ، زرعی اجناس، پیٹرولیم مصنوعات اور کنٹینرز کی نقل و حمل ریلوے کے ذریعے زیادہ سستی اور مؤثر بنائی جا سکتی ہے۔
بڑے شہروں میں شہری اور مضافاتی ریل نظام بھی ناگزیر ہو چکا ہے۔ کراچی، لاہور اور راولپنڈی میں روزانہ لاکھوں افراد ٹریفک جام، مہنگے ایندھن اور ناقص ٹرانسپورٹ سے پریشان رہتے ہیں۔ اگر شہری ریل نظام کو دوبارہ فعال کیا جائے تو نہ صرف ٹریفک کا دباؤ کم ہوگا بلکہ عام ملازمت پیشہ طبقے کو سستی اور باعزت سفری سہولت بھی میسر آئے گی۔ اس سے ایندھن کی بچت اور ماحولیاتی آلودگی میں کمی بھی آئے گی۔
ریلوے کی تباہی کی ایک بڑی وجہ سیاسی مداخلت اور ناقص انتظامی ڈھانچہ بھی ہے۔ بار بار پالیسیوں کی تبدیلی، سیاسی بنیادوں پر تقرریاں، کرپشن اور ادارہ جاتی کمزوری نے اس ادارے کو شدید نقصان پہنچایا۔ پاکستان ریلوے کو پیشہ ورانہ بنیادوں پر چلانے کی ضرورت ہے جہاں جدید ٹکٹنگ نظام، شفاف خریداری، ڈیجیٹل نگرانی اور مالی نظم و ضبط کو ترجیح دی جائے۔ اگر انتظامی اصلاحات نہ کی گئیں تو اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبے بھی مطلوبہ نتائج نہیں دے سکیں گے۔
پاکستان کے پاس مقامی سطح پر ریلوے کوچز، ویگنز اور دیگر سامان تیار کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ مغل پورہ اور دیگر ورکشاپس کو جدید بنا کر مقامی صنعت کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔ اس سے روزگار بھی پیدا ہوگا اور درآمدی انحصار بھی کم ہوگا۔ چین اور ترکی جیسے ممالک نے بھی اپنے ریلوے نظام کو ایک دن میں نہیں بلکہ کئی دہائیوں میں مرحلہ وار بہتر کیا۔
اصل حقیقت یہ ہے کہ ریلوے کو محض ایک نمائشی یا سیاسی منصوبے کے بجائے قومی معیشت اور قومی یکجہتی کے منصوبے کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے۔ مضبوط ریلوے نظام سڑکوں پر دباؤ کم کرتا ہے، تیل کی درآمد گھٹاتا ہے، صنعت کو سہارا دیتا ہے، دور دراز علاقوں کو ملک کے مرکزی دھارے سے جوڑتا ہے اور عوام کو سستی سفری سہولت فراہم کرتا ہے۔ پاکستان کو اس وقت دنیا کی مہنگی ترین اور تیز ترین ٹرینوں کے خواب دیکھنے کے بجائے ایک ایسا ریلوے نظام تعمیر کرنا چاہیے جو اگلے پچاس برس تک پائیدار، قابل اعتماد اور عام آدمی کے لیے فائدہ مند ثابت ہو۔ اگر ہم نے اب بھی حقیقت پسندانہ منصوبہ بندی کے بجائے نمائشی منصوبوں کو ترجیح دی تو ریلوے ایک بار پھر قومی وسائل پر بوجھ بن جائے گی، جبکہ دانشمندانہ اصلاحات اسے ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی میں تبدیل کر سکتی ہیں۔

