LatestLiving

بیس سال بعد رنگوں کا تہوار

لاہور کی فضا ایک بار پھر رنگوں سے بھرنے جا رہی ہے۔ تقریباً بیس برس کے طویل وقفے کے بعد بسنت کا تہوار آج رات سے دوبارہ شروع ہو رہا ہے، جو نہ صرف ایک ثقافتی سرگرمی کی واپسی ہے بلکہ ایک پورے عہد کی یادوں کا احیاء بھی ہے۔ بسنت لاہور کی شناخت، اس کی گلیوں، چھتوں اور اجتماعی خوشیوں سے جڑی ایک روایت رہی ہے، جسے وقت، حالات اور غلطیوں نے ہم سے چھین لیا تھا۔

بسنت بنیادی طور پر پتنگ بازی کا تہوار ہے جو موسمِ بہار کی آمد کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ برصغیر میں اس تہوار کی تاریخ صدیوں پر محیط ہے۔ مغلیہ دور میں دہلی اور لاہور بسنت کے بڑے مراکز تھے، جہاں بادشاہ، امراء اور عوام سب ہی پیلے لباس پہن کر پتنگیں اڑاتے تھے۔ لاہور میں بسنت محض ایک کھیل نہیں بلکہ ایک تہذیبی اظہار تھا، جس میں موسیقی، کھانے، میل جول اور شہری زندگی کی رونق شامل ہوتی تھی۔ یہ تہوار ہندو، مسلمان اور سکھ سبھی برادریوں میں کسی امتیاز کے بغیر منایا جاتا رہا، جو برصغیر کی مشترکہ ثقافت کی ایک زندہ مثال تھا۔

تاہم وقت کے ساتھ ساتھ بسنت کی صورت بدلتی چلی گئی۔ پتنگ بازی میں استعمال ہونے والی ڈور، جسے دوُر کہا جاتا ہے، روایتی سوتی دھاگے سے نکل کر کیمیائی مواد، شیشے اور بعض اوقات لوہے کے تاروں تک جا پہنچی۔ یہی وہ مقام تھا جہاں خوشی ایک خطرے میں تبدیل ہو گئی۔ موٹر سائیکل سوار اس مہلک دوُر کا سب سے بڑا نشانہ بنے، جن کی گردنوں پر کٹی ہوئی ڈور مہلک ثابت ہوئی۔ اس کے ساتھ ساتھ نوجوانوں میں پتنگ لوٹنے کی اندھی دوڑ نے ٹریفک حادثات اور چھتوں سے گرنے جیسے سانحات کو جنم دیا۔ جشن کے دوران ہوائی فائرنگ ایک اور سنگین مسئلہ بن کر سامنے آئی، جس میں قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع ہوا۔

ان مسلسل حادثات اور اموات کے باعث حکومت کو بسنت پر پابندی لگانا پڑی، جو ایک مشکل مگر ناگزیر فیصلہ تھا۔ مگر اس پابندی کے ساتھ ہی لاہور کی ثقافتی زندگی سے ایک اہم رنگ ماند پڑ گیا۔ گزشتہ بیس برسوں میں پاکستان، خصوصاً بڑے شہروں میں، دہشت گردی اور سکیورٹی خدشات کے باعث نہ صرف بسنت بلکہ کھیل، موسیقی، میلوں اور دیگر ادبی و ثقافتی سرگرمیوں میں بھی نمایاں کمی دیکھنے میں آئی۔ ایک پوری نسل ایسی پروان چڑھی جس نے لاہور کو بسنت کے رنگوں میں کبھی نہیں دیکھا۔

ایسے میں حکومتِ پنجاب کا بسنت کو دوبارہ منانے کا فیصلہ ایک مثبت اور حوصلہ افزا قدم قرار دیا جا سکتا ہے۔ یہ فیصلہ اس بات کا اعتراف بھی ہے کہ معاشرے کو صرف قوانین اور پابندیوں سے نہیں بلکہ صحت مند تفریح اور اجتماعی خوشیوں سے بھی زندہ رکھا جاتا ہے۔ اگر ریاست مناسب قانون سازی، محفوظ دوُر کے استعمال، سخت نگرانی اور عوامی شعور کے ساتھ ایسے تہواروں کی اجازت دے تو نہ صرف جانوں کا تحفظ ممکن ہے بلکہ ثقافت بھی محفوظ رہتی ہے۔ دنیا بھر میں تہوار اسی توازن کے ساتھ منائے جاتے ہیں، جہاں آزادی اور ذمہ داری ساتھ ساتھ چلتی ہیں۔

بسنت کی بحالی کا ایک معاشی پہلو بھی ہے۔ اس تہوار سے وابستہ سینکڑوں چھوٹے کاروبار، پتنگ ساز، دوُر بنانے والے، کھانے پینے والے، موسیقار اور سیاحت کا شعبہ دوبارہ متحرک ہو سکتا ہے۔ لاہور جیسے تاریخی شہر کے لیے یہ ایک موقع ہے کہ وہ اپنی ثقافتی شناخت کو دنیا کے سامنے دوبارہ پیش کرے۔

آخر میں امید کی جانی چاہیے کہ اس بار بسنت کو اس کی اصل روح کے ساتھ منایا جائے گا، بغیر خطرناک دوُر، بغیر ہوائی فائرنگ اور بغیر جان لیوا جنون کے۔ اگر یہ تہوار نظم و ضبط، ذمہ داری اور اجتماعی شعور کے ساتھ کامیاب رہا تو یہ صرف بسنت کی واپسی نہیں ہوگی بلکہ پاکستان میں ثقافتی سرگرمیوں کے ایک نئے دور کا آغاز بھی ثابت ہو سکتی ہے۔ پاکستانی عوام کو خوشیاں منانے، سانس لینے اور اپنی صدیوں پرانی روایات سے جڑنے کے مواقع ملنے چاہئیں، کیونکہ زندہ قومیں صرف مسائل سے نہیں بلکہ اپنی ثقافت سے پہچانی جاتی ہیں۔