BusinessLatest

تھر کوئلہ اور ترسیل کا چیلنج

پاکستان میں بجلی کے بحران پر بات ہو تو تھر کے کوئلے کا ذکر ضرور آتا ہے۔ اسے سستی اور مقامی توانائی کا بڑا ذریعہ قرار دیا جاتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس کوئلے کو استعمال کرنے میں کئی عملی مشکلات ہیں، جنہیں سمجھے بغیر کوئی بھی پالیسی کامیاب نہیں ہو سکتی۔

ماہرین کے مطابق تھر کا کوئلہ عام کوئلے جیسا نہیں ہے۔ یہ لگنائٹ کہلاتا ہے، جس میں پانی کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے۔ جب یہ کوئلہ زمین سے نکالا جاتا ہے تو جلدی ٹوٹنے لگتا ہے اور ہوا کے ساتھ لگتے ہی اس کا معیار متاثر ہو جاتا ہے۔ اسی وجہ سے اسے کھلے ٹرکوں یا ریل گاڑیوں میں دور دراز علاقوں تک لے جانا مشکل ہو جاتا ہے۔ طویل سفر کے دوران نہ صرف یہ بکھر جاتا ہے بلکہ اس میں آگ لگنے کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔

دنیا کے دوسرے ممالک میں بھی اس قسم کے کوئلے کو عام طور پر کان کے قریب ہی استعمال کیا جاتا ہے۔ اسی اصول پر پاکستان میں تھر کے علاقے میں بجلی گھر لگائے گئے ہیں، جہاں کوئلہ چند کلومیٹر کے فاصلے پر ہی جلایا جاتا ہے اور پھر پیدا ہونے والی بجلی کو تاروں کے ذریعے ملک کے مختلف حصوں تک پہنچایا جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ طریقہ سب سے محفوظ اور کم خرچ ہے۔

اس کے باوجود یہ سوال اکثر اٹھایا جاتا ہے کہ کیا تھر کے کوئلے کو کسی طرح پیک کر کے دوسرے شہروں تک پہنچایا جا سکتا ہے۔ اس سلسلے میں کوئلے کو پیلیٹس یا بریقیٹس کی شکل دینے کی تجاویز دی جاتی ہیں، یعنی کوئلے کو دبا کر چھوٹے ٹھوس ٹکڑے بنا دیے جائیں۔ نظریاتی طور پر یہ ممکن ہے، لیکن عملی طور پر اس میں کئی مسائل سامنے آتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق اگر کوئلے کو پیلیٹس بنانے سے پہلے اچھی طرح خشک نہ کیا جائے تو نمی باقی رہ جاتی ہے، جو بعد میں مسائل پیدا کرتی ہے۔ بعض لوگ یہ بھی پوچھتے ہیں کہ کیا ان پیلیٹس کو بڑے سیمنٹ جیسے تھیلوں میں بھر کر لے جایا جا سکتا ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ قریبی فاصلے کے لیے تو یہ ممکن ہے، مگر لمبے سفر اور گرم موسم میں یہ طریقہ محفوظ نہیں رہتا۔ اس کے علاوہ پیلیٹس بنانے، تھیلے میں پیک کرنے اور ٹرانسپورٹ کرنے کا خرچ بھی بڑھ جاتا ہے، جس سے سستا کوئلہ مہنگا پڑنے لگتا ہے۔

توانائی کے شعبے سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ تھر کے کوئلے کا بہترین حل اب بھی یہی ہے کہ زیادہ سے زیادہ بجلی گھر وہیں لگائے جائیں اور بجلی کو ملک بھر میں پہنچایا جائے۔ بجلی کو تاروں کے ذریعے بھیجنا، کوئلے کو سڑکوں اور ریل کے ذریعے گھمانے سے کہیں آسان اور سستا ہے۔ اسی لیے حکومت کی توانائی پالیسی میں ٹرانسمیشن نظام کو بہتر بنانے پر زور دیا جا رہا ہے۔

ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ مستقبل میں تھر کے کوئلے کو گیس میں تبدیل کر کے صنعتوں تک پہنچانے کے منصوبے بنائے جا سکتے ہیں، لیکن یہ کام فوری نہیں اور اس کے لیے بڑی سرمایہ کاری اور جدید ٹیکنالوجی درکار ہوگی۔

مجموعی طور پر دیکھا جائے تو تھر کا کوئلہ پاکستان کے لیے ایک اہم ذریعہ ہے، مگر اسے وہی فائدہ دے سکتا ہے جو اس کی ساخت کے مطابق ہو۔ اگر اسے زبردستی عام کوئلے کی طرح استعمال کرنے کی کوشش کی گئی تو مسائل بڑھیں گے۔ اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ تھر میں بجلی پیدا کر کے سستی توانائی قومی گرڈ کے ذریعے عوام اور صنعت تک پہنچائی جائے۔

فی الحال اصل سوال یہ نہیں کہ تھر کا کوئلہ موجود ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا ہم اسے سمجھداری سے استعمال کرنے کے لیے تیار ہیں یا نہیں۔