عالمی بحران کے بیچ پاکستانی عوام پر تیل کا نیا بوجھ
دنیا اس وقت ایک نئے معاشی اور جغرافیائی بحران کے دہانے پر کھڑی نظر آ رہی ہے۔ مشرق وسطیٰ میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف کارروائی نے عالمی توانائی کی منڈی میں شدید ہلچل پیدا کر دی ہے۔ خلیجی خطہ دنیا کی تقریباً تیس فیصد تیل اور گیس کی پیداوار فراہم کرتا ہے اور اس کا بڑا حصہ آبنائے ہرمز سے گزر کر عالمی منڈیوں تک پہنچتا ہے۔ اس اہم گزرگاہ میں کشیدگی یا اس کی ممکنہ بندش کا مطلب صرف ایک علاقائی بحران نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے توانائی کا بحران ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جیسے ہی صورتحال کشیدہ ہوئی، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں اچانک بڑھ گئیں اور تقریباً سو ڈالر فی بیرل تک جا پہنچیں۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو قیمتیں ڈیڑھ سو ڈالر فی بیرل تک بھی جا سکتی ہیں۔
ایسی صورتحال عالمی معیشت کے لیے تو خطرناک ہے ہی، مگر پاکستان جیسے ملک کے لیے اس کے اثرات کہیں زیادہ سنگین ہو سکتے ہیں۔ پاکستان پہلے ہی ایک نازک معاشی حالت سے گزر رہا ہے۔ زر مبادلہ کے ذخائر محدود ہیں، تجارتی خسارہ مسلسل بڑھ رہا ہے اور مہنگائی نے عام آدمی کی زندگی کو مشکل بنا دیا ہے۔ ایسے میں تیل کی قیمتوں میں عالمی اضافہ براہ راست پاکستان کی معیشت اور عوام دونوں پر دباؤ ڈالے گا۔
ان حالات میں حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں فوری اور نمایاں اضافہ ایک ایسا فیصلہ ثابت ہوا جس نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ حکومت نے اعلان کیا کہ ملک کے پاس تقریباً بیس سے پچیس دن کا تیل ذخیرہ موجود ہے۔ اگر واقعی یہ ذخائر حکومت کے کنٹرول میں تھے تو پھر ان پر ایک ہی وقت میں پچپن روپے فی لیٹر اضافہ کرنا کئی حلقوں کے نزدیک قابل فہم نہیں تھا۔ اس فیصلے نے پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے متوسط اور نچلے طبقے کے لیے مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ روزمرہ استعمال کی تقریباً ہر چیز کی قیمت تیل سے جڑی ہوتی ہے۔ ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھتے ہیں تو خوراک، سبزی، دالیں اور دیگر ضروری اشیاء کی قیمتیں بھی تیزی سے بڑھ جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پٹرولیم قیمتوں میں اضافہ ہمیشہ مہنگائی کی ایک نئی لہر کو جنم دیتا ہے۔
حکومت کے لیے اس وقت سب سے اہم سوال یہ ہونا چاہیے تھا کہ اس بحران سے نمٹنے کے لیے متبادل راستے کیا ہو سکتے ہیں۔ دنیا کے کئی ممالک نے فوری طور پر توانائی کے متبادل ذرائع تلاش کرنے کی کوشش شروع کر دی ہے۔ امریکہ نے فوری طور پر بھارت کو روس سے تیل خریدنے کی اجازت دے دی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکہ اور بھارت کے درمیان حالیہ عرصے میں اقتصادی معاملات پر اختلافات موجود ہیں۔ امریکہ ایک ایسا معاشی معاہدہ چاہتا ہے جس سے اسے زیادہ فائدہ ہو، جبکہ بھارت سمجھتا ہے کہ ایسا معاہدہ اس کی معیشت پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔ اس کے باوجود توانائی کے بحران کے پیش نظر امریکہ نے بھارت کے لیے روسی تیل کے راستے کھولنے میں تاخیر نہیں کی۔
پاکستان کے لیے بھی یہ ضروری ہے کہ وہ روس سمیت دیگر ممالک سے تیل کی فراہمی کے امکانات کو سنجیدگی سے تلاش کرے۔ پاکستان پہلے بھی محدود پیمانے پر روسی تیل حاصل کرنے کی کوشش کر چکا ہے اور اس راستے کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ اسی طرح سعودی عرب سے متبادل راستے کے ذریعے تیل کی فراہمی کی بات بھی کی جا رہی ہے۔ سعودی عرب کے پاس بحیرہ احمر تک پائپ لائن کا راستہ موجود ہے جس کے ذریعے آبنائے ہرمز کو بائی پاس کیا جا سکتا ہے۔ تاہم ابھی تک اس بات کی کوئی واضح تصدیق سامنے نہیں آئی کہ پاکستان کو اس راستے سے کس مقدار میں تیل فراہم کیا جا سکے گا۔ اگر یہ فراہمی ممکن بھی ہوئی تو غالب امکان یہی ہے کہ یہ مقدار پاکستان کی موجودہ ضروریات سے کہیں کم ہوگی۔ اسی دوران آذربائیجان کی جانب سے بھی پاکستان کو تیل فراہم کرنے کی یقین دہانی کی خبریں سامنے آئی ہیں، جو یقیناً ایک مثبت پیش رفت ہو سکتی ہے۔
اس کے باوجود حقیقت یہی ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ آخرکار عوام تک منتقل ہوتا ہے۔ حکومت کے پاس مالی وسائل محدود ہیں اور وہ مکمل طور پر قیمتوں کو کنٹرول نہیں کر سکتی۔ مگر یہاں اصل مسئلہ قیمتوں کے اضافے کا نہیں بلکہ اس کے بوجھ کی تقسیم کا ہے۔ اگر تمام بوجھ براہ راست عوام پر ڈال دیا جائے تو اس کے معاشی اور سیاسی دونوں اثرات سامنے آتے ہیں۔ پاکستان میں پہلے ہی مہنگائی کی شرح بلند ہے اور عام آدمی کی آمدنی اس رفتار سے نہیں بڑھ رہی جس رفتار سے اخراجات بڑھ رہے ہیں۔ ایسے میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ عوام کے لیے ناقابل برداشت ثابت ہو سکتا ہے۔
یہاں حکومت کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی ترجیحات پر نظر ثانی کرے۔ اگر کسی شعبے میں سبسڈی دی جانی چاہیے تو وہ توانائی کا شعبہ ہے کیونکہ اس کا اثر پورے معاشی ڈھانچے پر پڑتا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ دیگر غیر ضروری سبسڈیز ختم کر کے تیل کی قیمتوں کو کسی حد تک قابو میں رکھنے کی کوشش کرے۔ اسی طرح غیر ضروری درآمدات کو فوری طور پر محدود کرنا بھی ناگزیر ہو چکا ہے۔ یہ درست ہے کہ اس قسم کے اقدامات اکثر بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی پالیسیوں کے خلاف ہوتے ہیں، مگر جب ملک کی معیشت پر غیر معمولی دباؤ ہو تو حکومتوں کو بعض اوقات سخت اور غیر روایتی فیصلے کرنے پڑتے ہیں۔ اگر تجارتی خسارہ مزید بڑھتا ہے اور مہنگائی بے قابو ہو جاتی ہے تو اس کے اثرات کسی بھی مالیاتی پروگرام سے کہیں زیادہ تباہ کن ہو سکتے ہیں۔
تاہم اس تمام بحث کا سب سے اہم پہلو حکومت کا اپنا طرز حکمرانی اور طرز زندگی ہے۔ جب عوام کو سخت معاشی حالات کا سامنا ہو تو ریاستی اداروں اور حکمران طبقات کو بھی قربانی کی مثال پیش کرنا پڑتی ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں اس کے برعکس منظر دکھائی دیتا ہے۔ بیوروکریسی اور حکمران طبقے کی جانب سے مہنگی گاڑیوں اور شاہانہ اخراجات کا استعمال عام شہری کے لیے ایک تکلیف دہ پیغام بن جاتا ہے۔ پنجاب حکومت کی جانب سے گیارہ ارب روپے کے طیارے کی خریداری کی خبر نے بھی حکومتی ساکھ کو خاصا نقصان پہنچایا ہے۔ ایسے وقت میں جب عام آدمی آٹے، بجلی اور پٹرول کی قیمتوں سے پریشان ہو، اس قسم کے اخراجات عوامی غصے کو بڑھاتے ہیں۔
ملک اس وقت جن معاشی اور سیاسی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے، ان میں سب سے زیادہ ضرورت سادگی اور کفایت شعاری کی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ ترقیاتی بجٹ میں نمایاں کمی کرے اور ایسے منصوبے مؤخر کر دے جو ایک یا دو سال بعد بھی شروع کیے جا سکتے ہیں۔ فلائی اوورز، پل اور دیگر بڑے انفراسٹرکچر منصوبے یقیناً اہم ہوتے ہیں، مگر بحران کے وقت ریاست کی اولین ترجیح عوام کی معاشی بقا ہونی چاہیے۔ اگر حکومت خود کفایت شعاری کی مثال قائم کرے گی تو عوام بھی مشکل فیصلوں کو قبول کرنے کے لیے زیادہ تیار ہوں گے۔
یہ وقت صرف معاشی فیصلوں کا نہیں بلکہ سیاسی بصیرت کا بھی امتحان ہے۔ اگر حکومت نے حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے عوام کو ریلیف دینے، غیر ضروری اخراجات کم کرنے اور توانائی کے متبادل ذرائع تلاش کرنے کی کوشش نہ کی تو اس کے اثرات صرف حکومت کی مقبولیت تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ ملک کے معاشی اور سماجی استحکام پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ پاکستان پہلے ہی متعدد چیلنجز سے گزر رہا ہے اور ایسے میں غلط ترجیحات ایک نئے بحران کو جنم دے سکتی ہیں۔
حکومت کو یہ حقیقت سمجھنا ہوگی کہ آج پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ صرف تیل کی قیمت نہیں بلکہ عوام کا اعتماد ہے۔ اگر ریاست مشکل وقت میں عوام کے ساتھ کھڑی نظر آئے تو قوم بڑے سے بڑا بحران بھی برداشت کر سکتی ہے، مگر اگر عوام کو یہ احساس ہو کہ قربانیاں صرف انہی سے مانگی جا رہی ہیں تو پھر ردعمل بھی شدید ہوتا ہے۔ یہی وہ لمحہ ہے جہاں دانشمندانہ قیادت اور ذمہ دار حکمرانی کی اصل اہمیت سامنے آتی ہے۔

