Featured

پاکستان کی سفارتی کامیابی اور عوامی فلاح کا سوال

امریکی صدر ٹرمپ کے اس حیران کن بیان نے کہ اگر آٹھ اپریل دو ہزار چھبیس تک ان کے مطالبات پورے نہ ہوئے تو پوری تہذیب خطرے میں پڑ سکتی ہے، دنیا بھر میں تشویش کی لہر دوڑا دی تھی۔ امریکہ کی جانب سے ایران کے گرد اپنی بڑی عسکری قوت کی نقل و حرکت نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا۔ دنیا خوف اور غیر یقینی کیفیت میں مبتلا تھی کہ اسی دوران ڈیڈ لائن ختم ہونے سے چند گھنٹے پہلے وزیر اعظم شہباز شریف کی سوشل میڈیا پر ایک اپیل سامنے آئی جس میں انہوں نے امریکہ سے دو ہفتوں کی مہلت دینے اور ایران سے آبنائے ہرمز کھولنے کی درخواست کی۔ یہ پیغام دیکھتے ہی دیکھتے عالمی توجہ کا مرکز بن گیا اور پھر ایک ایسا لمحہ آیا جب دونوں فریقین نے اس تجویز کو قبول کر لیا اور ایک بڑی تباہی ٹل گئی۔

یہ پیش رفت نہ صرف ایک ممکنہ جنگ کو روکنے کا سبب بنی بلکہ پاکستان کو عالمی سفارت کاری کے مرکز میں بھی لے آئی۔ وہ پاکستان جسے ماضی میں اکثر نظر انداز کیا جاتا تھا، اچانک عالمی قیادت کی توجہ کا محور بن گیا۔ مختلف ممالک کے رہنما پاکستان کی قیادت سے رابطے کرنے لگے اور اس کامیابی کو سراہا گیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ پاکستان کی حکومت اور سفارتی حلقوں کی ایک بڑی کامیابی ہے جس نے ملک کی ساکھ کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔

تاہم اس کامیابی کا اصل امتحان اب شروع ہوتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس سفارتی کامیابی کے ثمرات عام پاکستانی تک پہنچیں گے یا نہیں۔ اس وقت ملک کو جس سب سے بڑے چیلنج کا سامنا ہے وہ معیشت ہے، اور اس میں بھی توانائی کا شعبہ سب سے زیادہ اہم ہے۔ ماضی کے غلط معاہدوں نے پاکستان کو ایک ایسے بوجھ تلے دبا دیا ہے جس کا خمیازہ حکومت کے ساتھ ساتھ عوام بھی بھگت رہے ہیں۔ آزاد بجلی پیدا کرنے والے اداروں کو اضافی گنجائش کی مد میں اربوں ڈالر ادا کیے جا رہے ہیں جبکہ یہ بجلی استعمال ہی نہیں ہوتی۔ اس کے ساتھ مہنگی گیس، کوئلہ اور تیل درآمد کر کے ان منصوبوں کو چلایا جاتا ہے جس سے لاگت میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔

اگر حکومت ان معاہدوں پر نظر ثانی کرے، غیر ضروری منصوبوں کو بند کرے اور باقی کے نرخ کم کرائے تو یہ ایک بڑی پیش رفت ہو سکتی ہے۔ پاکستان میں فی یونٹ بجلی کی قیمت خطے کے کئی ممالک سے زیادہ ہے جس کا براہ راست اثر صنعت، تجارت اور گھریلو صارفین پر پڑتا ہے۔ توانائی کے شعبے میں بہتری نہ صرف زرمبادلہ کے ذخائر کو بچا سکتی ہے بلکہ عوام کو سستی بجلی بھی فراہم کر سکتی ہے، جو معاشی سرگرمیوں کو بڑھانے میں مدد دے گی۔

اسی طرح قطر کے ساتھ گیس کے معاہدے پر بھی نظر ثانی کی ضرورت ہے جس کے تحت پاکستان کو ایک مقررہ مقدار میں گیس خریدنے کی پابندی ہے، چاہے اس کی ضرورت ہو یا نہ ہو۔ بعض اوقات یہی گیس کم قیمت پر مارکیٹ میں فروخت کرنی پڑتی ہے جبکہ نقصان عوام برداشت کرتے ہیں۔ ایران پاکستان گیس منصوبہ بھی ایک حساس مسئلہ ہے جہاں تاخیر کی وجہ سے بین الاقوامی قانونی پیچیدگیوں کا خطرہ موجود ہے۔ اگر اس معاملے کو دانشمندی سے حل نہ کیا گیا تو اربوں ڈالر کا جرمانہ بھی ہو سکتا ہے۔

یہ وقت ہے کہ حکومت ان تمام مسائل کو ایک جامع حکمت عملی کے تحت حل کرے۔ روپے کی حقیقی قدر کا تعین، ٹیکس نظام میں اصلاحات، امن و امان کی بہتر صورتحال اور غیر قانونی گروہوں کا خاتمہ ایسے اقدامات ہیں جو معیشت کو مستحکم کر سکتے ہیں۔ اگر پاکستان اندرونی طور پر مضبوط ہوتا ہے تو خلیجی ممالک، چین، امریکہ اور یورپی ممالک سے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری آ سکتی ہے۔ اس کے ساتھ پاکستانیوں کے لیے بیرون ملک روزگار کے مواقع بھی بڑھ سکتے ہیں جس سے قیمتی زرمبادلہ ملک میں آئے گا۔

اصل بات یہ ہے کہ سفارتی کامیابی اپنی جگہ اہم ہے مگر اس کا فائدہ تب ہی ہے جب عام آدمی کی زندگی میں بہتری آئے۔ مہنگائی، بے روزگاری اور بڑھتے ہوئے اخراجات نے عوام کو ایک ایسے دائرے میں جکڑ رکھا ہے جہاں زندہ رہنا بھی ایک چیلنج بن چکا ہے۔ حکومت کے پاس اب ایک سنہری موقع ہے کہ وہ عالمی سطح پر حاصل ہونے والی اس کامیابی کو معاشی اصلاحات میں تبدیل کرے۔ اگر یہ موقع ضائع ہو گیا تو یہ کامیابی صرف خبروں تک محدود رہ جائے گی۔ لیکن اگر دانشمندانہ فیصلے کیے گئے تو یہی لمحہ پاکستان کو ایک نئی سمت دے سکتا ہے، جہاں خوشحالی ہو، غربت کم ہو اور عام آدمی بھی یہ محسوس کرے کہ ملک کی کامیابی اس کی اپنی کامیابی ہے۔