BusinessLatest

ترقی کا سچ اور ہماری خود فریبی

یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہم بطور قوم اکثر امیدوں کے ایسے سہارے تلاش کرتے ہیں جو حقیقت کی زمین پر کھڑے نہیں ہوتے۔ آج کل یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ جیسے ہی مشرقِ وسطیٰ کا مسئلہ حل ہوگا، پاکستان ترقی کی نئی بلندیوں کو چھو لے گا، دولت کی فراوانی ہوگی اور معیشت یک دم مستحکم ہو جائے گی۔ اس سے پہلے ہمیں بتایا گیا کہ سی پیک مکمل ہوتے ہی خوشحالی کا سیلاب آ جائے گا۔ اس سے بھی پہلے تھر کے کوئلے، چنیوٹ کے فولاد اور دیگر منصوبوں کو ایسے پیش کیا گیا جیسے وہ ہماری تقدیر بدل دیں گے۔ مگر وقت نے ثابت کیا کہ صرف اعلانات اور توقعات قوموں کی تقدیر نہیں بدلتے۔

اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے ترقی کے بنیادی اصول کو نظر انداز کیا ہے۔ دنیا کی کوئی بھی قوم محض امیدوں، بیرونی منصوبوں یا وقتی مواقع پر انحصار کرکے ترقی نہیں کرتی۔ ترقی ایک مسلسل عمل ہے جس کی بنیاد مضبوط معیشت، پیداواری صلاحیت اور صنعتی ڈھانچے پر ہوتی ہے۔ جب تک ہم اپنی صنعت کو فروغ نہیں دیں گے، برآمدات میں اضافہ نہیں کریں گے اور اپنی افرادی قوت کو ہنر مند نہیں بنائیں گے، اس وقت تک ہم ہر چند سال بعد ایک نئے خواب کے پیچھے بھاگتے رہیں گے۔

آج صورتحال یہ ہے کہ دو ارب ڈالر کی ادائیگی ہمارے لیے ایک بڑا بحران بن جاتی ہے۔ دو سو پچاس ملین آبادی والے ملک کے لیے یہ رقم کوئی بہت بڑی نہیں ہونی چاہیے تھی، مگر ہمیں اسے بھی کسی اور ملک سے قرض لے کر پورا کرنا پڑتا ہے۔ یہ صرف معاشی کمزوری نہیں بلکہ ہماری ترجیحات کی ناکامی کی علامت ہے۔ ہم نے کھپت کو بڑھایا، مگر پیداوار کو نظر انداز کیا۔ ہم نے درآمدات پر انحصار کیا، مگر برآمدات کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔

دنیا میں ایسے کئی ممالک ہیں جنہوں نے انتہائی مشکل حالات سے نکل کر خود کو مضبوط کیا۔ چین اس کی ایک نمایاں مثال ہے جہاں ریاست کی تمام تر توجہ ترقی، صنعت اور پیداوار پر مرکوز رہی۔ وہاں ہر پالیسی، ہر فیصلہ اور ہر منصوبہ اسی ایک مقصد کے گرد گھومتا ہے کہ ملک کو کیسے مضبوط بنایا جائے۔ اسی طرح جرمنی اور جاپان نے جنگوں کی تباہی کے بعد اپنے صنعتی ڈھانچے کو دوبارہ کھڑا کیا اور آج دنیا کی بڑی معیشتوں میں شمار ہوتے ہیں۔

ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ قومیں نعروں سے نہیں، سمت کے تعین سے آگے بڑھتی ہیں۔ جب تک ہم حقیقت کا سامنا نہیں کریں گے، اپنی کمزوریوں کو تسلیم نہیں کریں گے اور ایک واضح معاشی حکمت عملی نہیں اپنائیں گے، اس وقت تک ہر نیا منصوبہ ایک نئی امید تو دے گا مگر نتیجہ وہی پرانا ہوگا۔

اب وقت آ چکا ہے کہ ہم بحیثیت قوم ان خوش فہمیوں سے باہر نکلیں۔ ہمیں اپنی توجہ اس بات پر مرکوز کرنی ہوگی کہ ہم کیا پیدا کر سکتے ہیں، دنیا کو کیا دے سکتے ہیں اور اپنی معیشت کو خود کفیل کیسے بنا سکتے ہیں۔ ہمیں وہی راستہ اپنانا ہوگا جو ترقی یافتہ قوموں نے اپنایا، یعنی صنعت کو بنیاد بنانا، تعلیم کو عملی بنانا اور محنت کو قومی مزاج کا حصہ بنانا۔ یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں وقتی نعروں سے نکال کر پائیدار ترقی کی طرف لے جا سکتا ہے، اور اگر ہم نے اب بھی یہ فیصلہ نہ کیا تو ہم اگلے کئی برس بھی کسی نئی امید کے انتظار میں گزار دیں گے۔