ٹیکنالوجی کی دنیا میں سست روی اور روزگار کا بحران
دو ہزار بائیس کے اختتام تک دنیا بھر میں ٹیکنالوجی کا شعبہ تیزی سے ترقی کر رہا تھا۔ وبا کے دوران ڈیجیٹل معیشت میں غیر معمولی اضافہ ہوا، آن لائن خدمات، سافٹ ویئر اور کلاؤڈ سسٹمز کی مانگ بڑھی، اور کمپنیوں نے بڑے پیمانے پر بھرتیاں کیں۔ مگر جیسے ہی عالمی معیشت نے نئی سمت اختیار کی، مہنگائی اور شرح سود میں اضافہ ہوا، ویسے ہی اس شعبے کی رفتار سست پڑنے لگی۔ جو کمپنیاں کل تک توسیع کے منصوبے بنا رہی تھیں، آج وہ اخراجات کم کرنے پر مجبور ہو گئیں۔
اسی تناظر میں بڑی کمپنیوں جیسے Meta، Amazon، Oracle اور Twitter نے ہزاروں ملازمین کو فارغ کیا۔ یہ عمل کسی ایک ملک یا خطے تک محدود نہیں رہا بلکہ امریکہ سے لے کر یورپ اور ایشیا تک اس کے اثرات دیکھے گئے۔ خاص طور پر دو ہزار تئیس میں یہ رجحان اپنے عروج پر پہنچا جب سینکڑوں کمپنیوں نے اجتماعی طور پر ملازمین کی تعداد کم کی۔
اس صورتحال کی ایک بڑی وجہ مصنوعی ذہانت کا بڑھتا ہوا استعمال بھی ہے۔ اگرچہ اس ٹیکنالوجی کے حوالے سے بہت زیادہ امیدیں وابستہ کی جا رہی ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ ابھی تک زیادہ تر کمپنیوں کو اس سے وہ منافع حاصل نہیں ہو رہا جس کی توقع کی جا رہی تھی۔ اس کے برعکس، کمپنیوں نے اخراجات کم کرنے کے لیے خودکار نظام متعارف کروا دیے ہیں جس سے انسانی محنت کی ضرورت کم ہو رہی ہے۔ خاص طور پر پروگرامنگ اور کوڈنگ جیسے شعبوں میں اب ایسے سافٹ ویئر موجود ہیں جو بڑی حد تک کام خود انجام دے سکتے ہیں، جس کے باعث جونیئر سطح کی نوکریاں تیزی سے متاثر ہو رہی ہیں۔
بھارت جیسے ممالک، جو عالمی سطح پر آئی ٹی افرادی قوت فراہم کرتے ہیں، اس تبدیلی سے شدید متاثر ہوئے ہیں۔ وہاں کے لاکھوں نوجوان جو براہ راست یا ریموٹ کام کے ذریعے عالمی کمپنیوں سے منسلک تھے، اب غیر یقینی صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں۔ اسی طرح پاکستان، فلپائن اور دیگر ترقی پذیر ممالک میں بھی فری لانسنگ اور آؤٹ سورسنگ سے وابستہ افراد کے مواقع محدود ہوتے جا رہے ہیں۔
یہ تمام عوامل مل کر ایک بڑے سوال کو جنم دے رہے ہیں کہ آنے والے برسوں میں روزگار کی نوعیت کیا ہوگی۔ کیا مصنوعی ذہانت انسانوں کے لیے مواقع پیدا کرے گی یا موجودہ ملازمتوں کو ختم کر دے گی؟ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ دنیا ایک ایسے دور میں داخل ہو رہی ہے جہاں روایتی مہارتیں کافی نہیں رہیں گی۔ اب صرف وہی افراد آگے بڑھ سکیں گے جو نئی ٹیکنالوجی کے ساتھ خود کو ہم آہنگ کر سکیں۔ اس تناظر میں حکومتوں، تعلیمی اداروں اور خود افراد کے لیے یہ ضروری ہو گیا ہے کہ وہ اپنی حکمت عملی پر نظر ثانی کریں، ورنہ آنے والے وقت میں بے روزگاری کا مسئلہ مزید سنگین شکل اختیار کر سکتا ہے۔

