Featured

مہنگا تیل اور پاکستان کی ڈگمگاتی معیشت

وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے قوم کو یہ بتانا کہ پاکستان کا توانائی درآمدی بل روزانہ تقریباً ساٹھ کروڑ ڈالر تک پہنچ چکا ہے، دراصل ایک خطرے کی گھنٹی ہے۔ اگر اس اندازے کو سالانہ بنیاد پر دیکھا جائے تو پاکستان کو صرف تیل، گیس اور دیگر توانائی مصنوعات کی درآمد کے لیے تقریباً اکتالیس ارب ڈالر ادا کرنا پڑ سکتے ہیں۔ یہ رقم پاکستان جیسے ملک کے لیے انتہائی بھاری ہے جس کی معیشت پہلے ہی قرضوں، کمزور برآمدات اور محدود زر مبادلہ کے ذخائر کے دباؤ میں ہے۔ عالمی منڈی میں تیل اور مائع گیس کی قیمتوں میں اضافہ صرف ایک معاشی مسئلہ نہیں بلکہ قومی سلامتی اور داخلی استحکام کا مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔

پاکستان کی معیشت گزشتہ چند برسوں سے مسلسل دباؤ کا شکار رہی ہے۔ ملک کے زر مبادلہ کے ذخائر خطرناک حد تک گر چکے تھے اور ایک وقت ایسا بھی آیا جب دنیا بھر میں یہ تاثر پیدا ہو گیا تھا کہ پاکستان شاید اپنے بیرونی قرضے ادا نہ کر سکے۔ توانائی درآمدات کا بڑا حجم تجارتی خسارے کی سب سے بڑی وجہ بنا۔ دو ہزار اکیس اور اس کے بعد کے عرصے میں صورتحال اس حد تک خراب ہوئی کہ پاکستان کو سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور چین کی مالی مدد درکار ہوئی جبکہ عالمی مالیاتی ادارے سے بھی سخت شرائط پر پیکیج لینا پڑا۔ اگر ان ممالک کی مدد نہ ملتی تو حالات مزید سنگین ہو سکتے تھے۔

اگرچہ بعد میں حکومت نے درآمدات محدود کر کے اور کچھ سخت فیصلے کر کے تجارتی خسارہ اور جاری کھاتوں کا خسارہ کم کرنے کی کوشش کی، لیکن حقیقت یہ ہے کہ معیشت کبھی بھی مکمل طور پر محفوظ حالت میں واپس نہیں آ سکی۔ خطرہ مسلسل موجود رہا۔ بدقسمتی سے ہماری پالیسی سازی میں یہ سوچ غالب رہی کہ صرف دیوالیہ ہونے سے بچ جانا ہی کامیابی ہے، حالانکہ اصل ضرورت بنیادی مسائل کو فوری بنیادوں پر حل کرنے کی تھی۔ توانائی کے شعبے میں اصلاحات، مقامی وسائل کے استعمال، بجلی کے نظام کی بہتری اور گردشی قرضے کے خاتمے جیسے معاملات کو جنگی بنیادوں پر حل ہونا چاہیے تھا، مگر ایسا نہ ہو سکا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ جیسے ہی دنیا ایک نئے بحران کی طرف بڑھی، پاکستان دوبارہ اسی کمزور مقام پر کھڑا دکھائی دینے لگا۔

پاکستان کے پاس ایسے وسائل موجود تھے جنہیں بروقت استعمال کیا جاتا تو آج صورتحال مختلف ہو سکتی تھی۔ سورج کی روشنی سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں کو وسیع پیمانے پر فروغ دیا جا سکتا تھا۔ تھر کے کوئلے کو جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے زیادہ مؤثر انداز میں استعمال کیا جا سکتا تھا۔ پن بجلی کے منصوبوں کو تیزی سے مکمل کیا جا سکتا تھا۔ بجلی پیدا کرنے والے نجی معاہدوں کے مسائل کو سیاسی مصلحت کے بجائے قومی مفاد میں حل کیا جا سکتا تھا۔ لیکن پالیسیوں میں تسلسل کی کمی، بیوروکریسی کی سست رفتاری اور طویل المدتی منصوبہ بندی کے فقدان نے ملک کو ایک بار پھر اسی مقام پر پہنچا دیا جہاں ہر عالمی بحران پاکستان کے لیے معاشی زلزلہ بن جاتا ہے۔

آج ضرورت صرف وقتی انتظامات کی نہیں بلکہ ایک مکمل قومی توانائی حکمت عملی کی ہے۔ حکومت کو فوری طور پر غیر ضروری درآمدات پر مزید کنٹرول، توانائی بچت مہم، سرکاری اداروں میں کفایت شعاری، اور مقامی وسائل کے استعمال کو ترجیح دینا ہوگی۔ شہروں میں شمسی توانائی کو عام کرنے، گھروں اور صنعتوں کو متبادل توانائی پر منتقل کرنے اور پبلک ٹرانسپورٹ کے نظام کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ اسی طرح بجلی چوری، ناقص تقسیم کار نظام اور گردشی قرضے جیسے مسائل پر بھی سخت فیصلے ناگزیر ہو چکے ہیں۔ اگر اب بھی تاخیر کی گئی تو مستقبل میں صرف مہنگائی ہی نہیں بلکہ صنعت، روزگار، روپے کی قدر اور عام آدمی کی زندگی سب کچھ شدید دباؤ کا شکار ہو سکتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ پاکستان اب اس پوزیشن میں نہیں رہا کہ ہر چند سال بعد کسی دوست ملک یا عالمی ادارے کے سہارے بحران سے نکل سکے۔ دنیا تیزی سے بدل رہی ہے اور عالمی طاقتیں بھی اپنے داخلی مسائل میں الجھی ہوئی ہیں۔ ایسے میں پاکستان کو اپنی بقا کے لیے خود اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا ہوگا۔ توانائی کے شعبے میں خود انحصاری اب صرف معاشی ضرورت نہیں بلکہ قومی بقا کا سوال بنتی جا رہی ہے۔