Featured

اٹک ریفائنری اور پاکستان کی توانائی خودمختاری

پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کے لیے تیل صاف کرنے والی صنعت محض ایک کاروبار نہیں بلکہ معاشی خودمختاری کی بنیاد ہے۔ خام تیل کو قابلِ استعمال مصنوعات میں تبدیل کرنے کا عمل نہ صرف توانائی کی ضروریات پوری کرتا ہے بلکہ قیمتی زرِمبادلہ کی بچت بھی کرتا ہے۔ اگر کسی ملک کے پاس اپنی مضبوط ریفائننگ صلاحیت نہ ہو تو اسے مہنگے داموں تیار شدہ مصنوعات درآمد کرنا پڑتی ہیں، جس سے تجارتی خسارہ بڑھتا ہے اور معیشت دباؤ کا شکار ہو جاتی ہے۔ اسی لیے دنیا کے ترقی یافتہ ممالک اپنی ریفائنری صلاحیت کو مسلسل بڑھاتے اور جدید بناتے رہتے ہیں تاکہ نہ صرف اپنی ضروریات پوری کریں بلکہ برآمدات سے آمدنی بھی حاصل کر سکیں۔

اسی تناظر میں اٹک ریفائنری (Attock Refinery Limited) کا کردار پاکستان میں خاص اہمیت رکھتا ہے۔ اس ادارے کی بنیاد آزادی سےقبل 1922 میں رکھی گئی، جب تیل کی تلاش اور پیداوار کا آغاز پوٹھوہار کے علاقے میں ہوا۔ راولپنڈی کے قریب واقع یہ ریفائنری پاکستان کی قدیم ترین ریفائنریوں میں شمار ہوتی ہے اور کئی دہائیوں سے ملک کی توانائی ضروریات میں اپنا حصہ ڈال رہی ہے۔ اس ادارے نے وقت کے ساتھ مختلف مراحل میں توسیع کی، مگر اس کی بنیادی ساخت اب بھی پرانی ٹیکنالوجی پر مبنی ہے۔

اٹک ریفائنری مختلف مصنوعات تیار کرتی ہے جن میں پٹرول، ہائی اسپیڈ ڈیزل، مٹی کا تیل، جیٹ فیول، فرنس آئل اور ایل پی جی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ یہ کمپنی اپنی ذیلی مارکیٹنگ کمپنی کے ذریعے ملک بھر میں پٹرول پمپس کے نیٹ ورک سے بھی جڑی ہوئی ہے، جہاں صارفین کو ایندھن فراہم کیا جاتا ہے۔ اس طرح یہ ادارہ نہ صرف صنعتی سطح پر بلکہ صارفین کی روزمرہ زندگی میں بھی براہِ راست کردار ادا کرتا ہے۔ تاہم، اس کی پیداوار کا بڑا حصہ اب بھی کم ویلیو مصنوعات، خصوصاً فرنس آئل، پر مشتمل ہے جو موجودہ توانائی مارکیٹ میں کم اہمیت اختیار کر چکا ہے۔

یہاں اصل مسئلہ سامنے آتا ہے۔ اٹک ریفائنری کی سب سے بڑی کمزوری اس کی پرانی ریفائننگ ٹیکنالوجی ہے، جسے ہائیڈرو اسکیمنگ کہا جاتا ہے۔ اس نظام میں خام تیل کو مکمل طور پر اعلیٰ معیار کی مصنوعات میں تبدیل نہیں کیا جا سکتا، جس کے نتیجے میں کم قیمت فرنس آئل زیادہ مقدار میں پیدا ہوتا ہے۔ جدید ریفائنریاں کریکنگ اور ہائیڈروکریکر یونٹس کے ذریعے اسی فرنس آئل کو پٹرول، ڈیزل اور پیٹروکیمیکلز میں بدل دیتی ہیں۔ اگر اٹک ریفائنری اپنی ٹیکنالوجی کو اپ گریڈ کرے تو وہ نہ صرف بہتر معیار کا یورو فائیو پٹرول اور ڈیزل تیار کر سکتی ہے بلکہ پولی پروپلین، پولی ایتھلین، بیس آئل، بٹومین، سالوینٹس، ویکس اور دیگر کیمیکلز بھی بنا سکتی ہے، جن کی پاکستان میں بڑی مانگ ہے اور جو اس وقت زیادہ تر درآمد کیے جاتے ہیں۔

اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ اٹک ریفائنری اپنے کاروبار کو روایتی دائرے سے نکال کر ایک وسیع صنعتی وژن اپنائے۔ صرف موجودہ پلانٹ کو بہتر بنانا کافی نہیں ہوگا بلکہ اسے ملک کے دیگر حصوں میں نئی ریفائنریاں لگانے پر بھی غور کرنا چاہیے، خاص طور پر ساحلی علاقوں میں جہاں خام تیل کی درآمد آسان ہو سکتی ہے۔ پاکستان میں روزانہ تیل کی طلب اور مقامی پیداوار کے درمیان ایک بڑا خلا موجود ہے، جسے پر کرنے کے لیے نجی شعبے کو آگے آنا ہوگا۔ اگر اٹک ریفائنری جدید ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کرے، پیٹروکیمیکل سیکٹر میں داخل ہو اور اپنی پیداوار کو متنوع بنائے تو یہ نہ صرف اپنی آمدنی میں اضافہ کر سکتی ہے بلکہ ملک کے درآمدی بل کو بھی نمایاں حد تک کم کر سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومت کو بھی پالیسی استحکام، ٹیکس مراعات اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنا ہوگا تاکہ ایسے ادارے بڑے فیصلے کر سکیں۔

آنے والے وقت میں توانائی کا شعبہ صرف ایندھن تک محدود نہیں رہے گا بلکہ کیمیکلز اور ویلیو ایڈڈ مصنوعات اس کا اصل مرکز ہوں گی۔ اگر اٹک ریفائنری اس تبدیلی کو بروقت سمجھ لے اور اپنے آپ کو جدید خطوط پر استوار کرے تو یہ نہ صرف پاکستان کی توانائی ضروریات پوری کرنے میں کلیدی کردار ادا کرے گی بلکہ علاقائی سطح پر بھی ایک مضبوط صنعتی کھلاڑی بن سکتی ہے۔