عالمی معیشت بحران کے دہانے پر
دنیا کی معیشت اس وقت شدید ابتری اور بے یقینی کے دور سے گزر رہی ہے۔ بظاہر یہ بحران کسی ایک ملک یا خطے تک محدود نہیں بلکہ امریکہ، یورپ، جاپان اور ترقی پذیر ممالک سب کسی نہ کسی شکل میں مالی دباؤ، تجارتی خسارے، بجٹ خسارے اور بڑھتے ہوئے قرضوں کا شکار ہیں۔ عالمی اقتصادی نظام جو دوسری جنگِ عظیم کے بعد امریکی قیادت میں استوار ہوا تھا، اب اپنی عمر کے آخری مرحلے میں دکھائی دیتا ہے۔ یہ بحران اچانک پیدا نہیں ہوا بلکہ اس کے پیچھے دہائیوں پر محیط پالیسی غلطیاں، طاقت کے عدم توازن اور غیر حقیقی معاشی سہولیات کارفرما ہیں۔
گزشتہ بیس سے تیس برسوں میں امریکہ نے نہ صرف اپنی معیشت بلکہ اپنے اتحادی ممالک کی معیشتوں کا بوجھ بھی اٹھائے رکھا۔ امریکی ڈالر کو عالمی ریزرو کرنسی کا درجہ حاصل ہونے کی وجہ سے واشنگٹن کے لیے یہ ممکن رہا کہ وہ بے تحاشا ڈالر چھاپ کر دنیا بھر میں سرمایہ فراہم کرتا رہے۔ یورپ کی معیشتیں، جاپان کا صنعتی ڈھانچہ اور حتیٰ کہ کئی ترقی پذیر ممالک بھی بالواسطہ طور پر اسی امریکی مالی نظام پر انحصار کرتے رہے۔ اس نظام نے وقتی طور پر استحکام ضرور فراہم کیا لیکن اس کے نتیجے میں قرضوں کا پہاڑ کھڑا ہو گیا جو اب امریکہ کے لیے ناقابلِ برداشت بنتا جا رہا ہے۔
آج امریکہ کا مجموعی قومی قرض چالیس کھرب ڈالر کے قریب پہنچ چکا ہے، جو خود امریکی معیشت کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکا ہے۔ ایسے میں امریکہ اب اس پوزیشن میں نہیں رہا کہ وہ پوری دنیا کے لیے مالی سہارا بن سکے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ماڈل جو ماضی میں کامیاب دکھائی دیتا تھا، اب خود ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ یورپ، جو امریکی سیکیورٹی اور معاشی پشت پناہی پر انحصار کرتا رہا، اب اپنی کمزور بنیادوں کے ساتھ کھڑا نظر آتا ہے۔ یونان جیسے ممالک جو کبھی یورپی ترقی کی علامت سمجھے جاتے تھے، آج معاشی بدحالی اور عوامی غربت کی مثال بن چکے ہیں۔ لاطینی امریکہ میں ارجنٹینا جیسی معیشتیں جو ایک زمانے میں مضبوط تصور کی جاتی تھیں، بار بار دیوالیہ پن کے دہانے پر پہنچ چکی ہیں۔
کینیڈا، آسٹریلیا اور یورپی ممالک بظاہر اپنی پالیسیوں میں اصلاحات کر رہے ہیں، لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ عالمی نظام میں امریکہ کے سوا کوئی دوسرا ملک ایسا نہیں جو دفاعی اخراجات، عالمی تجارت اور مالی استحکام کا بیک وقت بوجھ اٹھا سکے۔ چین ایک بڑی معیشت ضرور بن چکا ہے مگر وہ بھی اپنی داخلی کمزوریوں، آبادی کے مسائل اور قرضوں کے بحران سے دوچار ہے۔ چین عالمی قیادت کے لیے تیار نظر نہیں آتا بلکہ وہ خود موجودہ نظام کے فوائد سمیٹنے میں زیادہ دلچسپی رکھتا ہے۔
اسی پس منظر میں ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں کو دیکھا جانا چاہیے۔ امریکہ فرسٹ کا نعرہ دراصل اس حقیقت کا اعتراف تھا کہ امریکہ اب مزید دوسروں کی معیشتوں اور دفاعی اخراجات کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا۔ اتحادیوں سے فاصلے، نیٹو پر تنقید اور تجارتی معاہدوں پر نظرِثانی اسی سوچ کی عکاسی کرتی ہے۔ یہ محض سیاسی فیصلہ نہیں بلکہ ایک معاشی مجبوری تھی جو اب بھی امریکی پالیسیوں پر اثر انداز ہو رہی ہے۔
عالمی معاشی صورتحال اس لیے بھی سنگین ہے کہ پچھلی دہائیوں میں حقیقی پیداوار کے بجائے قرض، سٹے بازی اور مالیاتی شعبے کو غیر معمولی طاقت دی گئی۔ صنعت، زراعت اور روزگار پیدا کرنے والے شعبے پیچھے رہ گئے جبکہ اسٹاک مارکیٹس اور بینکنگ نظام معیشت کی اصل تصویر بن گئے۔ اس عدم توازن نے معیشتوں کو کھوکھلا کر دیا اور جب شرحِ سود میں اضافہ یا عالمی جھٹکا آیا تو یہ نظام لرز اٹھا۔
سوال یہ ہے کہ کیا اس صورتحال کو بہتر بنایا جا سکتا تھا؟ حقیقت یہ ہے کہ اگر امریکہ، یورپ اور چین نے وقت پر مشترکہ حکمتِ عملی اختیار کی ہوتی، پیداوار پر مبنی معیشت کو فروغ دیا ہوتا، دفاعی اخراجات کو متوازن رکھا ہوتا اور غریب ممالک کو محض قرض کے جال میں پھنسانے کے بجائے حقیقی ترقی کے مواقع دیے ہوتے تو آج دنیا اس بحران کا سامنا نہ کر رہی ہوتی۔ عالمی مالیاتی اداروں کو طاقتور ممالک کے مفادات کے بجائے عالمی توازن پر کام کرنا چاہیے تھا، جو نہ ہو سکا۔
آج بہتری کی راہیں محدود اور تکلیف دہ ہیں۔ قرضوں میں کمی، حکومتی اخراجات پر کنٹرول، ٹیکس اصلاحات اور عالمی سطح پر اعتماد کی بحالی ایک طویل اور سیاسی طور پر مشکل عمل ہے۔ کوئی بھی ملک فوری طور پر عوام کو سخت فیصلوں کے لیے تیار نہیں، اسی لیے بحران طول پکڑتا جا رہا ہے۔ یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ دنیا اس وقت ایک ایسے معاشی دوراہے پر کھڑی ہے جہاں پرانے نسخے کام نہیں آ رہے اور نئے حل ابھی واضح نہیں ہو سکے۔
عالمی معیشت کا یہ انتشار محض اعداد و شمار کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ سیاسی عدم استحکام، سماجی بے چینی اور عالمی طاقت کے توازن میں بڑی تبدیلیوں کا پیش خیمہ بھی ہے۔ آنے والے برس اس بات کا تعین کریں گے کہ آیا دنیا اس بحران سے سیکھ کر ایک زیادہ متوازن نظام کی طرف جاتی ہے یا پھر یہی افراتفری ایک نئے اور زیادہ گہرے بحران کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔

