BusinessLatest

بحران در بحران معیشت کا سفر

خلیجی جنگ کے آغاز کے ساتھ ہی پاکستان ایک نازک معاشی صورت حال سے گزر رہا تھا۔ عین اسی وقت عالمی مالیاتی ادارے کا وفد پاکستان میں موجود تھا اور وہ حکومت کی جانب سے مالی ضروریات پوری کرنے کے انتظامات سے مطمئن نہیں تھا، جس کے باعث ڈیڑھ ارب ڈالر کی قسط کے اجرا میں تاخیر ہو گئی۔ حالات مزید سنگین اس وقت ہوئے جب اطلاعات کے مطابق متحدہ عرب امارات نے پاکستان سے ساڑھے تین ارب ڈالر کے قرض کی واپسی کا مطالبہ کر دیا۔ اسی دوران تیل اور مائع گیس کی قیمتوں میں تقریباً دوگنا اضافہ ہو گیا، جس سے خدشہ پیدا ہوا کہ پاکستان کا ایندھن درآمدی بل مزید دس سے پندرہ ارب ڈالر تک بڑھ سکتا ہے۔ یہ تمام عوامل مل کر معیشت کے لیے ایک خطرناک منظرنامہ پیش کر رہے تھے۔ بعد ازاں، امریکہ اور سعودی عرب کے اثر و رسوخ کے نتیجے میں مالیاتی ادارے نے یہ قسط جاری کر دی، جبکہ سعودی عرب اور قطر کی جانب سے مزید پانچ ارب ڈالر فراہم کرنے کی اطلاعات نے وقتی سہارا ضرور دیا، مگر بنیادی مسئلہ اپنی جگہ برقرار ہے۔

پاکستان کی معیشت کا المیہ یہ ہے کہ یہ بحرانوں سے نکلنے کے بجائے ان میں الجھتی چلی جا رہی ہے۔ گزشتہ چالیس برسوں میں سیاسی عدم استحکام نے کسی بھی مستقل معاشی حکمت عملی کو پنپنے نہیں دیا۔ ہر نئی حکومت اپنی ترجیحات کے ساتھ آتی ہے اور پچھلی پالیسیوں کو ادھورا چھوڑ دیتی ہے۔ نتیجتاً نہ تو صنعتی ترقی کا تسلسل قائم رہ سکا اور نہ ہی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ ہو سکا۔ توانائی کا شعبہ بدانتظامی، گردشی قرضوں اور مہنگی پیداوار کی وجہ سے بوجھ بن چکا ہے۔ تجارتی خسارہ مسلسل بڑھ رہا ہے جسے بیرون ملک پاکستانیوں کی ترسیلات اور بیرونی قرضوں کے ذریعے پورا کیا جا رہا ہے۔ یہ ماڈل وقتی طور پر سہارا تو دیتا ہے مگر طویل مدت میں معیشت کو مزید کمزور کر دیتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی معیشت ایک ایسے دائرے میں گھوم رہی ہے جہاں قرض لے کر اخراجات پورے کیے جاتے ہیں اور پھر انہی قرضوں کی واپسی کے لیے مزید قرض لینا پڑتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ غیر ضروری درآمدات نے زرمبادلہ کے ذخائر پر شدید دباؤ ڈالا ہے۔ مقامی صنعت کو وہ تحفظ اور سہولت نہیں دی گئی جس کی وجہ سے درآمدی اشیا پر انحصار کم ہو سکے۔ نتیجتاً ملک کی پیداوار کم اور خرچ زیادہ ہوتا جا رہا ہے۔

اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت ہنگامی بنیادوں پر سنجیدہ اور سخت فیصلے کرے۔ فوری طور پر غیر ضروری درآمدات کو محدود کرنا ناگزیر ہے، خاص طور پر لگژری اشیا پر مکمل پابندی عائد کی جا سکتی ہے۔ توانائی کے شعبے کی اصلاح سب سے اہم قدم ہے کیونکہ مہنگی بجلی اور گیس نہ صرف صنعت کو متاثر کرتی ہے بلکہ عام صارف کی زندگی بھی مشکل بنا دیتی ہے۔ مقامی وسائل جیسے کوئلہ، پانی اور قابل تجدید توانائی کے منصوبوں کو ترجیح دینا ہوگی تاکہ درآمدی ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے۔

اس کے ساتھ ساتھ برآمدات بڑھانے کے لیے صنعتکاروں کو سہولیات دینا ہوں گی، ٹیکس نظام کو سادہ اور منصفانہ بنانا ہوگا، اور زرعی شعبے میں جدید طریقوں کو فروغ دینا ہوگا تاکہ پیداوار میں اضافہ ہو۔ حکومت کو چاہیے کہ غیر دستاویزی معیشت کو دستاویزی شکل دے تاکہ ٹیکس کا دائرہ وسیع ہو اور بوجھ چند طبقات تک محدود نہ رہے۔ سرکاری اخراجات میں کفایت شعاری، غیر ضروری منصوبوں کا خاتمہ اور بدعنوانی کے خلاف مؤثر کارروائی بھی ضروری ہے۔

اصل بات یہ ہے کہ پاکستان کو قرضوں پر چلنے والی معیشت سے نکل کر پیداوار اور برآمدات پر مبنی معیشت کی طرف جانا ہوگا۔ یہ راستہ آسان نہیں اور اس کے نتائج بھی فوری نہیں آئیں گے، مگر یہی واحد پائیدار حل ہے۔ اگر آج سخت فیصلے نہ کیے گئے تو آنے والے دنوں میں معاشی خودمختاری مزید کمزور ہو سکتی ہے۔ یہ وقت وقتی سہارا لینے کا نہیں بلکہ بنیادوں کو درست کرنے کا ہے، کیونکہ قومیں مشکل فیصلوں سے ہی مضبوط بنتی ہیں۔